Daily Mashriq

نیوزی لینڈکے بعد ہالینڈ میں دہشت گردی

نیوزی لینڈکے بعد ہالینڈ میں دہشت گردی

نیوزی لینڈ میں دو مسجدوں میں جنونیوں کی جانب سے خون کی ہولی کھیلنے کے بعدہالینڈ کے شہر یوتریخت میں ٹرام میں فائرنگ کے واقعے میں تین افراد ہلاک اورنو کے زخمی ہونے کا واقعہ بھی اتنا ہی رنج زدہ اور تکلیف کا باعث ہے جتنا اول الذکر تھا۔ہالینڈ کی انسداد دہشتگردی پولیس کا خیال ہے کہ بظاہر یہ دہشگردی کا واقعہ ہے۔ ہالینڈ میں خطرے کا درجہ سب سے انتہائی بلند سطح تک بڑھا دیا گیا ہے اور ایئرپورٹ اور مساجد کے حفاظت کے لیے پیرا ملٹری پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔حملہ آور کے ترک شہری ہونے کی اطلاعات ہیں اور ممکنہ طور پر وہ نیوزی لینڈ کے حملے سے متاثر تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے حملوں کو عالمی سطح پر یکساں طور پر دہشت گردانہ حملہ اور دہشت گردی قرار دے کر سختی سے مذمت کرنا اس لئے ضروری ہے کہ خونریزی کے واقعات کے ذمہ دار خواہ جس ملک وملت اور دین ومذہب سے تعلق رکھتے ہوں وہ اہم نہیں بلکہ اہم بات یہ ہونی چاہیئے کہ دہشت گردی کا واقعہ ہوا ہے جسے کسی خاص رنگ ونسل اور دین ومذہب سے جوڑ کر تصادم خونریزی اور تعصب پر مبنی حملے شروع نہ ہوں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مساجد پر حملہ اور ٹرام میں سوار بیگناہ مسافروں کو نشانہ بنانے کے دونوں واقعات یکساں قابل مذمت ہیں جن کی کوئی دوسری توجیہہ نہیں ہوسکتی۔ دنیا کے کسی مذہب میں بے گناہ انسانوں کا خون بہانا املاک کی تباہی یہاںتک کہ دوسرے کی تضحیک کی بھی گنجائش نہیں اور یہی وہ آفاتی درس ہے جس کا سب سے بڑا داعی اسلام ہے ۔ مسلمانوں پر نیوزی لینڈ میں جو ستم ڈھایا گیا اس پر ہر سطح پر اظہار رنج وغم اس بات کا مظہر ہے کہ دہشت گردی یکساں قابل مذمت فعل ہے۔

ہر بارپرچہ آئوٹ ہونے پر خاموشی چہ معنی دارد؟

پشاور میں اسلامیات کا پرچہ آئوٹ ہوا اسی طرح کرک میں بھی اسلامیات کا پرچہ آئوٹ ہونے کی اطلاعات آئیں۔ کوہاٹ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی ایک بار پھر غفلت اس وقت سامنے آگئی جب اسلامیات کے بعد انگریزی کا پرچہ بھی آئوٹ ہو گیا۔ چیئرمین کوہاٹ بورڈ کا موقف ہے کہ پرچہ تقسیم ہونے کے بعد اگر امتحانی مرکز سے باہر غیر متعلقہ افراد کے ہاتھ آ بھی جائے تو وہ لیک یا آئوٹ ہونے کے زمرے میں نہیں آتا۔صورتحال جس قسم کی رپورٹ ہوئی ہے اس میں مبالغہ آرائی کی گنجائش ہوسکتی ہے لیکن اس امر سے خود چیئرمین بورڈ نے سراسر انکارنہیں کیا کہ پرچہ آئوٹ یا لیک ہوا ہے ایک پرچہ آئوٹ ہونے کے بعد دوسرا پرچہ بھی آئوٹ ہونا ،ناقابل فہم ہونے کے ساتھ ساتھ بورڈ کے حکام اور بورڈ میں اختیار کی جانے والی رازداری پر بھی بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ابھی میٹرک کے طالب علموں کے سائنس کے مشکل مضامین کے پرچے شروع نہیں ہوئے اورعالم یہ ہے کہ روزانہ کسی نہ کسی بورڈ سے مصدقہ ونیم مصدقہ اطلاعات پرچہ آئوٹ ہونے کی ملتی ہیں ۔ جس سے محنتی طالب علموں میں سخت بے چینی پھیل جانا جہاں فطری امر ہے وہاں یہ ہمارے نظام امتحانات پر بھی بہت بڑاسوالیہ نشان ہے۔ اس قسم کے نظام امتحانات میں ذہین اور قابل طالب علموں کی بجائے نقال اور نااہل ہی آگے آسکتے ہیں ۔صوبے میں تعلیم کے معیار کی بلندی اور میرٹ کی پاسداری اس وقت ہی ممکن ہوگی جب شفاف طور پر امتحان لیا جائے اور اہل ودیانتدار اساتذہ سے پرچے چیک کروائے جائیں۔ بار بار کے اس طرح کے واقعات کی حقیقت جاننے طالب علموں اور ان کے والدین کو مطمئن کرنے کیلئے ان شکایات کا اعلیٰ سطح پر نوٹس لیا جانا جاچاہیئے اور ان الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیئے۔ الزمات میں حقیقت ہو تو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیئے تاکہ اس لعنت کا خاتمہ نہ بھی کیا جاسکے تو کم از کم اس میں کمی لائی جاسکے اور کسی حد تک اس کا تدارک کیا جاسکے۔

کمرشل صارفین کیلئے واٹر میٹروں کی تنصیب احسن اقدام

پانی کے بے دریغ استعمال کو روکنے کیلئے پشاور میں واٹر میٹر کی تنصیب کا آغاز خوش آئند اور سنجیدہ آغاز ہے۔ ہمارے نمائندے کے مطابق تجرباتی بنیادوں پر گلبرگ میں مشروبات بنانے کے کارخانے میں میٹر نصب کیا گیا ہے جس کے بعد اسے کمرشل صارفین کیلئے نصب کیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسزپشاور کی جانب سے پشاور کے تمام صارفین کیلئے واٹر میٹر نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم ابتدائی طور پر صرف کمرشل صارفین کیلئے میٹر نصب کئے جائیں گے۔واٹر میٹروں کی تنصیب کا آغاز کمرشل صارفین سے کرنا وقت کی ضرورت تھی لیکن گھریلوصارفین کو بھی ناپ تول کر پانی کی فراہمی کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں کمرشل صارفین کے بعد گھروں پر واٹر میٹروں کی تنصیب دوسرے مرحلے میں ضرور شروع کی جائے تاکہ پانی سے ضیاع کی روک تھام اور پانی کے استعمال میں کفایت لائی جاسکے۔

متعلقہ خبریں