Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

فقیہہ ابواللیث سمر قندی کہتے ہیں کہ جو شخص کسی عالم کے پاس بیٹھتا ہے،مگر علمی باتوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتا، تب بھی سات فضیلتوں کا مستحق ہے :1طالبان کے جو فضائل ہیں ،وہ اس کو بھی حاصل ہوتے ہیں ۔

2: جتنی دیر عالم کے پاس رہے گا،گناہوں سے محفوظ رہے گا۔

3:جب طلب علم کے ارادے سے گھر سے نکلا تو اس پر رحمت نازل ہوئی۔

4:علمی حلقوں پر نازل ہونے والی رحمتوں میں اپنی ہم نشینی کی وجہ سے وہ بھی شریک ہوگا۔

5:جب تک عالم کی بات سنتا رہے گا،عابد مانا جائے گا۔6:بات سننے کے بعد نہ سمجھنے پر جو درداس کو ہوگا،وہ حق تعالیٰ سے قرب کا ذریعہ بنے گا، اس لیے کہ حق تعالیٰ کا ارشادہے: میں شکستہ والوں کے پاس رہتا ہوں۔

7:وہ دیکھے گا کہ لوگ علماء کی عزت کرتے ہیں اور فاسقوں کو ذلیل سمجھتے ہیں،تو اس کا دل فسق وفجور سے ہٹ کر علم کی طرف مائل ہوگا۔ اسی وجہ سے حضوراقدسۖ نے صلحاء کی صحبت اختیار کرنے کو فرمایا۔(تفسیر کبیرجلد1ص263)

ایک دفعہ محدث العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری بیمار ہوئے۔ علالت طول پکڑگئی۔ فجر کے وقت یہ افواہ مشہور ہوئی کہ حضرت کا وصال ہوگیا۔ دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ یہ سن کر آپ کے مکان کی طرف لپکے۔وہاں معلوم ہوا کہ خبر غلط تھی۔ البتہ تکلیف کی شدت تھی جو برقرار ہے۔

عیادت کیلئے یہ حضرات کمرے میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ نماز کی چوکی پر بیٹھے سامنے تکیے پر رکھی ہوئی کتاب کے مطالعے میںمصروف ہیں اور اندھیرے کی وجہ سے کتاب کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ آنے والے حضرات نے یہ منظر دیکھا تو حیران ہوگئے کہ مرض کی یہ شدت اور مطالعہ میں یہ محنت!شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی نے ہمت کر کے عرض کیا: حضرت!یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اول تو وہ کون سی بحث رہ گئی ہے جو حضرت کے مطالعے میں نہ آچکی ہو اور اگر بالفرض کوئی بحث ایسی ہو تو اس کی فوری ضرورت کیا پیش آگئی ہے کہ اسے چند روز موخر نہیں کیا جاسکتا اور بالفرض فوری ضرورت کا مسئلہ ہے تو ہم خدام کہاں مرگئے ہیں،آپ کسی بھی شخص کو حکم فرمادیتے وہ مسئلہ دیکھ کر عرض کر دیتا، لیکن اس اندھیرے میں آپ جو محنت اٹھا رہے ہیں ،وہ ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔

حضرت شاہ صاحب کچھ دیر تو انتہائی معصومیت اور بیچارگی کے انداز میں مولانا شبیراحمد صاحب کی طرف دیکھتے رہے پھر فرمایا:بھائی! ٹھیک کہتے ہو،لیکن یہ کتاب بھی تو ایک روگ ہے ، اس روگ کا کیا کروں؟۔(متاع وقت اور کاروان علم ص٢٦٨)

یہ علم سے محبت اور مطالعہ کے شوق کی انتہاتھی کہ بیماری اور اندھیرے سے بے رواہ انہماک سے کتاب پڑھ رہے تھے۔

متعلقہ خبریں