Daily Mashriq

او آئی سی اجلاس،مگر نتیجہ؟؟

او آئی سی اجلاس،مگر نتیجہ؟؟

اوآئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب،نتیجہ معلوم(!؟!)ہم کو ان سے وفا کی ہے امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے، ایک ترکی ہے جو شیر کی طرح مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے، باقی ہماری حیثیت تو جس جھولی میں سو چھیدپڑے اس جھولی کو پھیلانا کیا، اگر اب کی بار بھی او آئی سی اجلاس میں سشما سوراج کو بلایا گیا تو ہم کیا کرلیں گے کہ امریکی دبائو میں بعض عرب ممالک اس وقت بھارت کی محبت میں ریشہ خطمی ہورہے ہیں اور پاکستان کے حالیہ احتجاج کے باوجود نہ تو سشما سوراج کو روکنے پر آمادہ ہوئے نہ ہی پاکستان کے وزیرخارجہ کے بائیکاٹ پر ان کے کانوں پر کوئی جوں رینگی الٹافرمادیا کہ ہم بھارت کو او آئی سی کا رکن بنانے کیلئے تعاون جاری رکھیں گے ۔ خیر یقین نہ بھی ہو تو امید ضرور کی جاسکتی ہے کہ اب کی بار بھارت کو دعوت نہیں دی جائے گی کہ اجلاس کسی خلیجی ملک میں نہیں بلکہ ترکی کے شہر استنبول میں ہونے جارہا ہے اور اس کیلئے پاکستان نے درخواست کی ہے تاکہ سانحہ نیوزی لینڈ پر ایک موقف اختیار کیا جائے اور دنیا پر واضح کیا جائے کہ اسلاموفوبیا کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں بلکہ مغرب کے اس عمومی رویئے کی جانب بھی توجہ دی جائے کہ کوئی مسلمان کرے تو اسلام پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام دھردیا جائے اور کوئی سفید فام کرے تو اسے ذہنی مریض قراردے کر جان چھڑالی جائے،یہ دوہرا معیار اب ختم کرنا ہوگا اور سانحہ کرائسٹ چرچ کے ملزم کو بھی دہشت گرد ڈکلیئرکرنا ہوگامگر خیبر پختونخوا اسمبلی کی اس قرارداد پر کوئی بھی توجہ کیوں دے گا جس میں محولہ سانحہ پر امریکہ، بھارت، اسرائیل اور دیگر ممالک کے بیانات پر مذمت کی گئی اور قاتل کو ذہنی مریض قرار دیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ اسے ذہنی مریض کی بجائے دہشت گرد قرار دیا جائے، اگرچہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اپنے ملک کی پارلیمنٹ میں اس سانحہ پر خطاب میں اس شخص کو انتہا پسند اور دہشت گرد قراردیا ہے، انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز السلام علیکم کے الفاظ سے کیا اور کہا کہ مجرم کو ہم کوئی رعایت نہیں دیں گے، اسے اپنا نام تک نہیں دیں گے۔ انہوں نے اسلام کو کھلے دل کا مذہب قراردیا اور شہید نعیم راشد کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا، تاہم نیوزی لینڈ کی اسمبلی یا پھر حکومت کی جانب سے تادم تحریرسفاک قاتل کو دہشت گرد قرار دینے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ، ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ مغرب میں اب سزائے موت کا تصور ہی ختم ہوچکا ہے اس لئے اگر اس شخص کو جس نے اتنے مسلمان مار کر بھی عدالت میں پیشی کے دوران کوئی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنا تو درکنار الٹا مسکراہٹ سے کام لیا، اسے اگر دہشت گرد قرار دے بھی دیا جائے تو زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہی ہوسکتی ہے اور عمر قید یعنی14سال ، دن رات میں ڈھل کر صرف 7سال ہی رہ جاتے ہیں، اسے اتنی سزادی بھی جائے تو کیا فرق پڑے گا کہ قید سے باہر آکر وہ پہلے سے بھی زیادہ خطرناک بن جائے گا، بلکہ دوران قید وہ ساتھی قیدیوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیج ہی بوتا رہے گا اس موقع پر نہ صرف نیوزی لینڈ کی وزیراعظم بلکہ ان مغربی ممالک کے سربراہوں کی خدمت میں حبیب جالب کا یہ شعرپیش کیا جا سکتا ہے کہ

اٹھا رہا ہے جو فتنے مری زمینوں میں

وہ سانپ ہم نے ہی پالا ہے آستینوںمیں

اب ایک اور مغربی ملک کے ذرائع ابلاغ پر یہ الزام سامنے آیا ہے کہ انہوں نے اسلام کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی مہم چلائی ۔اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا گیا اور لوگوںکو مسلمانوں کے خلاف اکسا یا گیا۔ اسی نفرت انگیز مہم کا شاخسانہ تھا کہ اب اسلاموفوبیا کے نام سے مسلمانوں کے خلاف قابل نفرین مہم چلائی جارہی ہے۔ ایسی صورتحال میں او آئی سی کا اجلاس اگرچہ اہم ہے مگر اہل مغرب کی سازشیں کہاں ختم ہونے والی ہیں، اب یہی دیکھ لیں کہ ایک طرف استنبول(ترکی) میں او آئی سی کا اجلاس بلوایا گیا ہے تو اس کے انعقاد سے پہلے ہی ہالینڈ کے شہر یوتریخت میں ٹرام کے اندر فائرنگ کا ایک واقعہ ہوا جس میں 3افراد ہلاک اور9زخمی ہوگئے۔ اس حملے کیلئے الزام ترکی کے باشندے غوگمن پر لگا کر ڈچ پولیس نے اس کی تلاش شروع کردی ہے ،اب یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ محولہ شخص نے یہ حرکت نہیں کی ہوگی ، تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ اس شخص کا انفرادی فعل تھا یا اس کے ساتھ کوئی اور بھی شریک تھا اور حملے کی وجوہات کیا تھیں ، جبکہ اسے پکڑنے کے بعد اس پر دہشت گردی اور حملے کو اسلام کے ساتھ جوڑنے کی کوشش تونہیں کی جاتی، اور دوسرا اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ کیا اس شخص کو''کسی'' نے استعمال کر کے ترکی پر دبائو ڈالنے کی سازش تو نہیں کی جہاں او آئی سی کا اجلاس منعقد ہونے جارہاہے۔ تاہم ان سوالوں کا جواب تو محولہ حملہ آور کی گرفتاری کے بعد ہی(شاید) مل سکے۔ ساتھ ہی مغرب کے دوہرے معیار کا پتہ بھی لگ سکے گا۔یعنی ہالینڈ کے باشندے کو ذہنی مریض اور ترک باشندے کو دہشت گرد کے نام سے چارج کرنے کے بعد اہل مغرب کی نیتوں کے فتور کا اندازہ لگنے میں دیر نہیں لگے گی۔کہ بقول شاعر

لہولہان تھا میں اور عدل کی میزان

جھکی تھی جانب قاتل کہ راج اس کا تھا

بات او آئی سی کے ہنگامی اجلاس سے چلی تھی اور کہاں جاکر اب بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے،اور تھمے بھی کیسے کہ اب تو او آئی سی کی دیواروں میں بھارت جیسے ملک نے بھی نقب لگا دیا ہے، وگرنہ ایک وہ دور تھا جب او آئی سی کے پہلے سربراہ اجلاس منعقدہ رباط (مراکش) میں اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ (یروشلم) کو نذرآتش کرنے کے خلاف احتجاج کی غرض سے بلوایا گیا تو اس وقت بھی بھارت نے بطور مبصر اجلاس میں شرکت کی کوشش کی تھی مگر جنرل یحییٰ خان(صدرپاکستان)نے اسے ناکام بنادیا تھا مگر اب کیا ہوگا؟ کیا ہم ہی الٹے پھر آئے درکعبہ اگر وانہ ہو ا کی تفسیر بنتے رہیں گے؟۔

متعلقہ خبریں