Daily Mashriq

سانحہ نیوزی لینڈ انسانیت کا مشترکہ دکھ

سانحہ نیوزی لینڈ انسانیت کا مشترکہ دکھ

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں کھیلی گئی خون کی ہولی نے عالم انسانیت کے زندہ ضمیر لوگوں کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا کے پُرامن اور مہذب ترین ملک کی شہرت رکھنے والے نیوزی لینڈ میں رونما ہوا سانحہ بہت سارے سوالات اپنے پیچھے چھوڑ گیا۔ دہشتگردی کے اس سانحہ کے مرکزی کردار کے جاری کردہ منشور میں مذہبی ونسلی منافرت کے سوا کچھ اور ہے ہی نہیں۔ تعصبات شرف انسانی کو دیمک کی طرح چاٹ لیتے ہیں۔ انسان دشمنی اور درندگی تعصبات کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ 50افراد اس سانحہ کی بھینٹ چڑھے۔ اپنے گھروں اور پیاروں سے نماز جمعہ پڑھنے کیلئے رخصت ہو کر مسجدوں کو روانہ ہوئے اور تابوتوں میں بند ہوگئے۔ 30زخمیوں میں سے ابھی متعدد کی حالت بہت زیادہ خراب ہے۔ اجل کا لقمہ بننے والوں میں 10پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ اس انسانیت سوز واقعہ کے بعد نیوزی لینڈ کی حکومت اور شہریوں نے جس ردعمل کا مظاہرہ کیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ متاثرہ مسجد میں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم تعزیت کیلئے گئیں تو صاف سیدھے الفاظ میں گویا ہوئی ''مرنے والے ہمارے اپنے ہیں اور دکھ بھی ہمارا ہے۔ قاتل کا ہم سے کوئی تعلق نہیں''۔ نمازیوں کے قاتل کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اس ملک کے شہریوں کا مجموعی ردعمل ان تنگ نظر افراد کے منہ پر طمانچہ ہے جو اس سانحہ کو اسلام فوبیا کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ دنیا بھر میں دیگر مذاہب کے لوگوں نے کرائسٹ چرچ کے واقعہ کے بعد انسان دوستی' امن اور اخوت کے پرچم بلند کئے۔ بجا ہے کہ مسلم دنیا کی طرح خود آسٹریلیا یا یورپ وامریکہ میں بھی کچھ ناپسندیدہ باتیں کہی گئیں مگر اس پر بھی غور کیجئے کہ ان ناپسندیدہ باتوں پر کتنے لوگوں نے کان دھرے۔ کرائسٹ چرچ شہر کے سانحہ کے بعد نیوزی لینڈ' آسٹریلیا اور یورپ میں مقتولین کا درد بلاامتیاز رنگ ونسل ومذہب وعقیدہ محسوس کیا گیا یہاں تک کہ یہودیوں کی سماجی تنظیموں نے مسلمانوں سے یکجہتی کیلئے ہر اس تقریب میں شرکت کی جو ان کے قریب منعقد ہوئی۔ انتہا پسندی اور نفرت کے سوتے کہاں سے پھوٹتے ہیں؟ تنگ نظر عقائد' مسخ شدہ تاریخ اور اس عدم برداشت سے جو انسان کو دولے شاہ کا چوہا بنا دیتی ہے وہ تارکین وطن کا مقامی وسائل پر قبضہ انتہا پسندی کو فروغ دینے کی منطق درست نہیں۔ نو واردان کہیں بھی پہنچیں وہ زمین پر پاؤں مضبوطی سے جمانے کیلئے انتھک محنت کرتے ہیں۔ اپنے چار اور نگاہ دوڑا کر صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کیجئے اور سوال کا جواب بھی؟ دور دراز کے قصبوں اور بستیوں سے جو لوگ بڑے شہروں میں منتقل ہوتے ہیں ان کیلئے اہم ترین مقصد اپنی ذات کو منوانا ہوتا ہے دوسروں کے مقابلہ میں وہ زیادہ محنت سے کام کرتے ہیں اس کی دو وجوہات ہوتی ہیں اولاً خود کو زندگی کے عمل میں متحرک رکھنا ثانیاً ان کی کفالت کیلئے وسائل فراہم کرنا جو پیچھے قصبے یا بستی میں مقیم ہیں۔ اب محنت ومشقت اور ا یثار کے اس جذبہ کو قبضہ گیری تو نہیں قرار دیا جاسکتا۔ دیا جا سکتا ہے تو پھر بڑے بڑے شہر خالی ہوجائیں گے۔ ہنرمند اپنی بستیوں اور قصبوں میں پلٹ گئے تو نتیجہ کیا نکلے گا۔ بہت حیران ہوں ہمارے یہاں جو پڑوسی کے جنازے میں عدم شرکت اور تعزیت سے گریز کی شرعی وجوہات پیش کرتے ہوئے شرمندہ نہیں ہوتے وہ بھی پچھلے چند دنوں سے دانش کی دو دھاری تلوار تھامے کشتوں کے پشتے لگانے میں مصروف ہیں۔

ارے صاحبو! یہ تہذیبوں کی جنگ کا ابتدائیہ ہرگز نہیں۔ فرد کے بغض ونفرت اور انتہا پسندانہ رویوں یا قاتل بن جانے کا ذمہ دار اس کی تہذیب کو کیسے ٹھہرایا جاسکتاہے۔ نیوزی لینڈ کے سانحہ میں سے صلیبی جنگوں کو تلاش کرکے لے آنے والوں کی خدمت میں پونے دو توپوں کی سلامی پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ فقیر راحموں کا مشورہ یہ ہے کہ صلیبی جنگوں کا چورن فروخت کرنے والوں کو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم اور کرائسٹ چرچ شہر کی پولیس چیف خاتون کی تقاریر چالیس دن ناشتے سے پہلے سنائی جائیں۔ شدت پسندی کی ہر قسم نسل اور فہم کی مذمت کرنا سیکھئے حضور سانحہ کرائسٹ چرچ شہر کے ملزم کا مذہب وعقیدہ تلاش کرکے لے آنے والے تو ہمیں کہا کرتے تھے دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ انتہا پسندی کے چشمے بند کرنا ہوں گے مسلم اور غیرمسلم دنیاؤں میں۔ سوچنا سمجھنا ہوگا کہ فرد یا طبقہ انتہا پسندی کی طرف مائل کیوں ہوتا ہے کیسے ایک انسان دوسرے انسان یا انسانوں کا خون بہانے پر اتر آتا ہے۔ یہ سوال یورپ یا نیوزی لینڈ کے سماجوں کیلئے اہم نہیں مسلم سماج ہونے کے دعویداروں کیلئے بھی اہم ہے۔ غور تو کیجئے کہ نیوزی لینڈ میں سینکڑوں تقریبات مسجد سانحہ کے متاثرین سے یکجہتی کیلئے منسو خ کردی گئیں مگر پی ایس ایل کے فائنل میچ سے قبل راگ ورنگ کی محفل شان وشوکت سے سجائی گئی۔ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا مشکل ہے دوسرے کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے سے۔ کوئی ایک مثال ہم مسلم دنیا کی ایسی سامنے رکھ سکتے ہیں کہ کسی المناک سانحہ کے بعد پوری ریاست خود کو مجرم سمجھ رہی ہو؟ پورا سماج مقتولین کے غم کو اپنا غم قرار دیکر گھروں سے نکل آیا ہو۔ فرانس میں ایفل ٹاور کی روشنیاں بند کرکے سوگ منایا گیا مگر رہنے دیجئے پی ایس ایل کی اختتامی تقریب کے حوالے سے آئینہ دکھایا تو مسلمانی وحب الوطنی دونوں پر کوڑے برسانے والے کونوں کھدروں سے نکل آئیں گے۔

متعلقہ خبریں