Daily Mashriq

ڈیرہ سڑک 'باجوڑ منشیات اور ہاسٹلز کی ناقص خوراک

ڈیرہ سڑک 'باجوڑ منشیات اور ہاسٹلز کی ناقص خوراک

برقی پیغامات کی کثرت تعداد کے باعث اس مرتبہ اتنی بھی گنجائش نہیں کہ تمہید باندھ سکوں۔ فورٹ سلوپ باڑہ خیبر ایجنسی سے ایم فاروق نے پارلیمنٹ کو سفید ہاتھی قرار د یا ہے۔ اس کے اراکین کی ویسے تو بہت لڑائیاں ہوتی ہیں' اختلافات ہوتے ہیں' ایک دوسرے کو چور ڈاکو تک قرار دیتے ہیں مگر جب مشترکہ مفادات کا معاملہ ہو تو شیر و شکر ہو جاتے ہیں۔ مفاد پرستی انسان کی فطرت کا حصہ ہے اس سے یکسر انکار ممکن نہیں لیکن جس قسم کی مفاد پرستی اراکین پارلیمنٹ کرتے ہیں اس سے اندازہ لگائیے کہ یہ عوام کے لئے لڑتے ہیں' عوام سے مخلص ہیں یا پھر اقتدار اور مفادات پر پانی پت کی لڑائی چھڑی ہوتی ہے۔ سب کچھ عوام کے سامنے ہے' عیاں راچہ بیاں؟ ۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے احمد غزالی نے گیس پائپ لائن بچھانے کے بعد درابن چونگی سے ٹانک اڈہ تک سڑک کی عدم مرمت اور خستہ حالی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ واقعی یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ گیس' ٹیلی فون اور دیگر ادارے یہاں تک کہ ہم عوام خود سڑک جب مرضی کھود دیتے ہیں اور پھر اس کی مرمت اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے اور نہ ہی متعلقہ ادارے فیس ایڈوانس وصول کرنے کے باوجود اس کی زحمت کرتے ہیں۔ درا بن چونگی سے ٹانک اڈہ تک سڑک کھودنے والوں کو عوام کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے جلد سے جلد اس کی مرمت کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔ اگر اس کی مرمت کے لئے کسی دوسرے ادارے کو رقم دی جا چکی ہے تو اسے لوگوں کی مشکلات کا ادراک ہونا چاہئے بہر حال جو بھی صورت ہو سڑک کی مرمت میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ایک سرکاری ملازم نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو ہیلتھ کارڈ دئیے جائیں اور میڈیکل الائونس ختم کیاجائے۔ میرے خیال میں اس تجویز سے شاید ہی کوئی سرکاری ملازم اتفاق کرے گا۔ ہیلتھ کارڈ میں تو داخل مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے جبکہ سرکاری ملازمین کو ادویات کی بھی رقم ملتی ہے اوراکثر و بیشتر جعلی بل بنا کر رقم بھی بٹوری جاتی ہے۔ سرکاری ملازمین کو اگر ہیلتھ کارڈ اس طرح کا دیا جائے کہ اس پر ان کو علاج کی مکمل سہولت ملے تو جعلی میڈیکل بل بنانے والوں کا راستہ بہت حد تک رک جائے گا۔ اس کے باوجود اس تجویزکاجائزہ لیا جانا چاہئے ممکن ہے کہ کوئی بہترصورت نکل آئے۔

باجوڑ سے ایک درد دل رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوان نے اپنے علاقے میں آئس کے نشے کی وبائی صورت اختیار کرنے پر متعلقہ حکام سے توجہ کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ ہی عرصہ قبل تک یہاں پر نشے کی اس قسم کی لت کا تصور بھی نہیں تھا مگر اب یہ وبائی صورت میں پھیل رہا ہے۔ نشے کی لعنت بارے مزید کیا کہا جائے سوائے اس کے کہ غیور قبائلی نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ نشے کے کاروبار میں ہر سطح پر ملوث افراد کو زندان میں ڈالا جائے اور نشے کے عادی افراد کا علاج کیا جائے اور ان کو معاشرے کا مفید شہری بنایا جائے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے اورکوئی فرد ایسا کرے اور کوئی نوجوان اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرے تو صدقہ جاریہ ۔

اسلامیہ کالج کے بالمقابل ایک نجی ہاسٹل میں مقیم طالب علم نے کچن کی گندگی' چوہوں کی بھرمار اور غیر معیاری اور ناقص خوراک کی فراہمی کا مسئلہ فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے حکام تک پہنچانے کی استدعا کی ہے۔ مجھے ان نوجوانوں سے خاص طور پر ہمدردی ہے جو گھروں سے دور حصول تعلیم کی جدوجہد میں ہاسٹلوں میں مقیم ہیں۔ ہاسٹل لائف کو یوں تو مزے کے دن بنا کر پیش کرنے کا رواج ہے لیکن در حقیقت ایسا نہیں وہاں مقیم نوجوانوں کو قسم قسم کی مشکلات کاسامنا ہوتا ہے۔ یہ صرف اس ایک نوجوان کامسئلہ نہیں بلکہ سارے ہاسٹلوں میں مقیم نوجوانوں کو اس مشکل کا سامنا ہے کہ ان کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ میں تو یہ کہوں گی کہ صرف ان ہاسٹلوں کے باورچی خانوں ہی کا معائنہ نہ کیا جائے بلکہ واش رومز اور کمروں کابھی معائنہ کیا جائے اورکوئی اتھارٹی یہ طے کرے کہ اسی معیار کے ہاسٹل کے کمرے کاکرایہ اتنا ہو' کھانے کا معیار ہو اور اس کے لئے فی کس اتنی رقم لی جائے اور اتنے افراد اتنے فٹ کے کمرے میں رکھے جائیں ' ان کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونسا نہ جائے۔ گرمی سردی سے بچائو کے مناسب انتظامات بھی یقینی بنائے جائیں اور طلباء کو مناسب و صحت مند ماحول فراہم کیا جائے' طالبات کے ہاسٹلز میں ماحول اور حفاظت کے اقدامات کاخاص طور پر جائزہ لیا جائے۔

انعام خٹک نے نفاذ اسلام و شریعت کو تمام مسائل کا حل قرار دیا ہے۔ ایک طویل برقی پیغام میں انہوں نے جو بات کہی ہے اس کی تشریح و تائید کی گنجائش اس لئے نہیں کہ بطور مسلمان یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم نفاذ اسلام کے لئے عملی جدوجہد کریں گے' آج کے حکمران مدینے کی ریاست بنانے کے دعویدار ہیں ہم نفاذ اسلام کے دعویداروں کا اصل چہرہ دیکھ چکے ہیں' جمہوریت آمریت' مارشل لائ' صدارتی نظام بھی آزما چکے اب باقی رہ گیا خلافت اسلامیہ اور نفاذ اسلام کی حقیقی جدوجہد' ہمیں اس میں کامیابی کی ضمانت بھی دی گئی ہے اس کے باوجود اگر ہم ہی نہ سمجھیں تو پھر ہمارا جو حال ہے خدانخواستہ اس سے بدتر ہونے کاڈر ہے۔ کیا ہم اب بھی ہوش کے ناخن نہیں لیں گے؟۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں