Daily Mashriq

چڑیوں نے آسماں کو سر پر اٹھا لیا

چڑیوں نے آسماں کو سر پر اٹھا لیا

ایک تھا چڑا اور ایک تھی چڑیا۔ چڑا لایا چاول کا دانہ چڑیا لائی دال کا دانہ دونوں نے کھچڑی پکائی اور یوں دونوں نے مل کر دعوت اڑائی۔ بچپن میں سنی تھی دادی اماں سے ہم نے یہ کہانی اور پھر اسکول کی کتابوں میں بھی پڑھنے کو مل گئی تھی یہی قند مکرر، مولانا ابو الکلام آزاد نے بھی پس دیوار زنداں بیٹھ کر لکھی تھی چڑیا چڑے کی کہانی لیکن وہ کہانی اس کہانی سے قدرے مختلف تھی جو ہمیں دادی اماں نے سنائی تھی اور جب یہی کہانی ابن انشاء کی تحریر میں پڑھنے کو ملی تو ہمیں اس کہانی میں وہ بات نظر نہیں آئی جو دادی اماں کی کہانی میں تھی۔ اور ہم کہتے رہ گئے کہ

چوں چوں کرتی آئی چڑیا

دال کا دانہ لائی چڑیا

سچ پوچھیں تو آج ہمارا دل اس بہت پرانے گیت کو جھوم جھوم کر گانے کو کر رہا ہے۔ مور بھی آیا۔ کوا بھی آیا۔ بندر بھی آیا۔ کیونکہ آج 20 مارچ دن ہے اور آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں چڑیا رانی کی عالمی سطح پر سالگرہ ' عالمی یوم چڑیا' کے عنوان سے منائی جا رہی ہے۔ عمر میں چھوٹے ہیں لیکن بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال کے مصداق بے بدل افسانہ نویس ہیں ہمارے ہمسایہ کالم نگار پروفیسر خالد سہیل ملک، انہوں نے چڑیا چڑے کی ایک کہانی میں بتایا تھا کہ چڑا اور چڑیا نے اپنی ازدواجی زندگی گزارنے کے لئے مل کر گھونسلہ تیار کیا۔ ان دونوں کی اس محبت اور محنت شاقہ کے صلے میں اللہ نے ان کی جھولی ایک چاند سی چڑے یا چڑیاسے بھر دی۔ جس کو پالنے پوسنے کے لئے وہ دونوں اپنی چونچ میں دانہ دنکا اٹھا کر لاتے اور اس کے منہ میں ڈالتے رہتے ۔ پھر یوں ہوا کہ چڑا چڑیا کے اس لاڈوں پالی بچی یا بچے کے پر پرزے نکلنے لگے۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے چڑیا کا وہ بچہ اپنے منے منے پروں سے پھرکاریاں بھی مارنے لگا۔ اور کچھ ہی مدت بعد اس نے ٹہنی ٹہنی جھولنا اور شاخ شاخ پھدکنا شروع کردیا۔ اپنے ابو امی کی طرح صبح سویرے گھونسلے سے نکل کر دانہ دنکا تلاش کرنے لگا۔ اس دوران وہ چوں چوں کے نغمے بھی گاتا رہتا ہے اور اپنی ہم عمر چڑیوں کڑیوں کو اپنے دام عشق میں پھانسنے کے لئے ان پر ڈورے بھی ڈالتا رہتا۔ اور کہتے ہیں ڈھونڈنے سے خدا بھی مل جاتا ہے، چڑی کے اس بچے کو جیون ساتھی کی ضرورت تھی سو وہ اسے مل گئی ، اور یوں ان دونوں نے مل کر ایک گھونسلہ بنانا شروع کردیا اور یوں اس کہانی کا ایک بار پھر آغاز ہو گیا جس کے نتیجے میں اس نے اپنی چڑیا امی اورچڑے ابو کے گھونسلے میں آنکھ کھولی تھی۔ ایک اچھی کہانی کااوج کمال پڑھنے والوںکے دل اور دماغ میں گھر کرلیتا ہے۔ برسوں پہلے پڑھی تھی خالد سہیل ملک کی یہ تحریر جو آج عالمی یوم چڑیا کے موضوع پر بات کرتے وقت حرف بہ حرف نہ سہی اپنے سے انداز میں دہرادی۔ انگریزی زبان میں چڑیا کو سپیرو کہتے ہیں اور اس ہی حوالے سے آج کے دن کو' ورلڈ سپیرو ڈے' بھی کہا جاتا ہے۔ سپیرو وہی چڑیا ہے جو ہمارے گھر وںکی منڈیروں پر چہچہاتی نظر آتی ہے۔ شام ڈھلتے ہی یہ اپنے گھونسلوں کے علاوہ درختوں کی شاخوں پر اکٹھی ہوکر اپنی شب بسری کی تیاری کرنے لگتی ہیں۔ اس دوران وہ اتنا شور کرتی ہیں جیسے آپس میں لڑ رہی ہوں۔ صبح سویرے سورج کے نکلنے سے پہلے بھی درختوں کی شاخوں پر بیٹھی چڑیاں آنکھ کھلتے ہی اتنا شور مچانے لگتی ہیں جسے سن کر شاعر کہہ اٹھتا ہے کہ

سورج نے نکلنے میں ذرا دیر کیا کردی

چڑیوں نے آسمان کو سر پر اٹھالیا

یہ عجیب بات ہے کہ لوگ سپیرو ہی کو چڑیا نہیں کہتے ہر پرندے کو چڑیا کہنے لگتے ہیں۔سپیرو نامی چڑیا، چڑیا گھروں میں شاذو نادر ہی دیکھی جاسکتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود درندوں چوپایوں جنگلی جانوروں اور پرندوں کو نمائش کے لئے رکھنے کی جگہ کو جانے کیوں چڑیا گھر کہتے ہیں۔ ہم آپکو بتاتے چلیں کہ آج 20 مارچ کو عالمی یوم چڑیا ہی نہیں منایا جارہا دنیا والے آج خوشیوں کا بھی عالمی دن منا رہے ہیں۔ اور آج ہی کے دن وہ بچوںکے لئے تھیٹرکا دن بھی منارہے ہیں ، بچے ہر غم سے بچے ہوتے ہیں ، ان چڑیوں کی طرح جو ہوا میں اڑتی چوں چوں کرتی آزادی کے گیت گاتی رہتی ہیں ، اس لئے خوشیوں کا عالمی دن اگر بچے منا رہے ہوں تو ہمیں ان سے کوئی غرض نہیں ، ہم دکھوں ظلم اور زیادتی بھری اس دنیا میں خوشیاں اور خوشیوں کا دن منانے سے رہے ، کشمیر اور فلسطین جل رہا ہو، نیوزی لینڈ کی مساجد میںنہتے اور بے گناہ مسلمان شہید ہورہے ہوں تو بھلا ہم کیسے مناسکتے ہیں خوشیاں بانٹنے کا یہ عالمی دن ۔کیسے گا سکتے ہیں خوشیوں کے ترانے ، اسداللہ خان غالب نے یوں ہی تو نہیں کہہ دیا تھا کہ

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا

دم کے جانے کا نہایت غم رہا

زندگی اور دکھ درد و آلام لازم و ملزوم ہے ، اسی لئے جب کوئی بچہ اس دنیائے غم و آلام میں آنکھ کھولتا ہے وہ چیخ چیخ کر رورہا ہوتا ہے ، جیسے کہہ رہا ہو، جانے کس جرم کی سزا پائی ہے یاد نہیں ، ہم خوشی زندگی کے اس ایک آدھ لمحہ کو کہتے ہیں جب ہمارے غم غلط ہوجاتے ہیں اور ہم خوش ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔آہ کہ

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

متعلقہ خبریں