Daily Mashriq

اکھنڈ بھارت کا خواب اور غزوہ ٔہند کا جواب

اکھنڈ بھارت کا خواب اور غزوہ ٔہند کا جواب

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بھارتی اخبار کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بھارت کی ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے اہم پرچارک اندریش کمار کا یہ بیان شائع کیا ہے کہ جس میں یہ ہرزہ سرائی کی گئی ہے کہ 2025میں پاکستان بھارت کا حصہ بن جائے گا۔اندریش کمار نے یہ بات ممبئی میں کشمیر کے حوالے سے منعقدہ سیمینار میں کہی تھی۔اندریش کا کہنا تھا کہ آپ لکھ لیجئے پانچ سات سال بعد آپ کراچی لاہور راولپنڈی میں کہیں بھی مکان خرید سکیں گے آپ کو تجارت کے مواقع حاصل ہوں گے۔ بھارت کے اس جنونی ہندو کے خیالات پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی ایک لیڈر کے خیالات معلوم کئے گئے تو انہوں نے علاقے کے ملکوں کی ایک کنفیڈریشن کی بات کرکے اکھنڈ بھارت کے نظریے کی بالواسطہ حمایت کی ۔بھارت کے جنونی ہندو لیڈر اور مبلغ کے خیالات نئے نہیں ۔پاکستان کے بارے میں بھارت کے عزائم اور ارادے ہمیشہ سے یہی رہے ہیں بلکہ قیام پاکستان سے پہلے بھی ''ہندو ہندی ہندوستان مسلم جائے عربستان '' کے نعروں کے ذریعے یہ ذہن پوری طرح موجود تھا ۔اب فرق صر ف یہ آیا ہے کہ یہ ذہن بھارت میں فیصلہ سازی پر حاوی آرہا ہے۔یہ ذہن بھارت کی پالیسیوں میں چھلک اور جھلک رہا ہے ۔قیام پاکستان کے بعد کانگریسی قیادت نے بادل نخواستہ پاکستان کواسی امید پر قبول کیا تھا کہ جلد یا بدیر یہ ریاست واپس ان کی جھولی میں جا گرے گی۔وقت بھارتی انتہاپسندوں کے اس رعونت آمیز خواب پر خاک ڈال گیا ۔بھارت کو مشرقی پاکستان الگ کرنے میں کامیابی تو ہوئی مگر باقی ماندہ پاکستان نے بھارت کی بالادستی کو قدم قدم پر چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ۔آج جنوبی ایشیا اور سارک کے تمام ممالک بھارت کے رعب کے آگے ڈھیر ہو چکے ہیں ۔افغانستان جیسا ملک جسے پانچ ہزار سال کی تاریخ پر بہت ناز رہتا ہے حکومتی سطح پر بھارت کی کالونی بن چکا ہے ،بنگلہ دیش جو کروڑوں کی آبادی کا حامل ملک ہے کے بارے میں تو یہی ہندو جنونی اندریش دعویٰ کرتا ہے کہ وہاں ہم نے اپنے ہاتھوں سے حکومت بنائی ہے۔ گویا کہ حسینہ واجد کو کامیاب کرانے میں وہ بھارت کے کردارکو اعلانیہ تسلیم کرتا ہے ۔ اس سے پہلے نریندر مودی بنگلہ دیش بنانے میں اپنے کردار کا فخریہ اعلان کرچکے ہیں۔خطے میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جو بھارت کی آنکھوں میںآنکھیں ڈال کر بات کررہا ہے ۔ایک تھپڑ کی خواہش اور فرمائش جواب میں گال پیش کرنے کی فراخدلانہ پیشکش کرنے کی بجائے تین مارنے کی دھمکی ہی نہیں دیتا بلکہ کر گزرتا ہے ۔اس کا مظاہرہ حالیہ کشیدگی کے دوران بھی نندن کی چائے کی چسکیوں سے ہوچکا ہے ۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹر نے ایک اہم رپورٹ میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان اور بھارت جنگ کی دہلیز پر کھڑے تھے ۔پاکستان نے بھارت کو یہ پیغام دیا کہ وہ ایک میزائل کا جواب تین میزائلوں سے دے گا اور پاکستان کی یہ دھمکی بھارت کو جارحانہ عزائم سے باز رکھنے میں کارگر ہوئی۔پاکستان نے صرف بھارت کو ہی نہیں اس کے خاموش حمایتیوں بالخصوص امریکہ کو بھی اپنے ردعمل کی سنگینی اور شدت سے آگاہ کر دیا تھا ۔ممبئی حملوں کے بعدبھارت کے لئے سرجیکل سٹرائیکس کا حق مانگنے اور اس حق کی وکالت کرنے والے امریکیوں کے پیروں تلے سے ردعمل کا اندازہ کرکے زمین نکل گئی اور انہوں نے کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کیا ۔بھارت میں اندریش جیسے مکروہ خواب دیکھنے والے بے شمار لوگ ہیں جو پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں ۔دوسری طرف پاکستان میں اگر کوئی ''کرش انڈیا '' کی بات کرے تو اپنے اور پرائے سب اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔لال قلعے پر سبز پرچم لہرانے کی سوچ کا مذاق اُڑایا جاتا ہے ۔حالانکہ خواب دیکھنے او ر سوچنے پر تو کوئی پابندی نہیں۔بھارت کے اس ذہن کے مقابلے میں کرش انڈیا کی باتیں کرنے والوں کو دبایاجا تا ہے ۔ایک دور تھا جب ہمیںبرصغیر میں ہندو مسلم جھگڑے کے پس منظرکی تاریخ کے تمام ابوا ب محض روایتیں ،کہاوتیں اور کہانیاں لگنے لگی تھیں۔ہم اسے نسیم حجازی ،سید عبداللہ اور ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی حاشیہ آرائی گرداننے لگے تھے اور نصاب کو ان'' مفسدانہ'' خیالات سے پاک کرنے کی عجلت میں پہنچ گئے ۔تب ہمیں جناح کی سوچ جذباتیت اور سطحیت اور مولانا ابولکلام آزاد کے تصورات حق اور سچ کا آخری پیمانہ لگتے تھے ۔جس سرحد کو بنانے کے لئے لاکھوں افراد کا لہو پانی کی طرح بہا تھا اور ہزاروں خواتین نے آبرو گنوائی تھی وہ ہمیں محض ایک لکیر دکھائی دینے لگی تھی ۔اسے ہم حقارت سے محض ایک لکیر ہی تو کہنے لگے تھے۔پھر نریندر مودی جیسا بھارتی ہندو مطلع ٔ سیاست وحکومت پراُبھرا تو بہت سے عزائم جن پر وقت نے پردہ ڈال دیا تھا دوبارہ عیاں ہوتے چلے گئے ۔تب محمد علی جناح کی سوچ اور دوقومی نظریہ ایک بار پھر افسانے سے حقیقت بنتا ہوا نظرآنے لگا ۔حد تو یہ محمد علی جناح کی لاکھ نصیحتوں اور مشوروں حتیٰ کہ التجائوں کے باوجود اپنا وزن ہندی قوم پرستی کے پلڑے میں ڈالنے والے شیخ محمد عبداللہ کے بیٹے فاروق عبداللہ کو حسرت سے کہنا پڑا ''یہ بھارتی حکمران قائد اعظم کی سوچ کو درست ثابت کر رہے ہیں''۔جب تک اندریش جیسی سوچ اور بھارت کے عزائم برقرار ہیں ،ہندو توا کے خواب موجود ہیں پاکستان میں ردعمل کی لہروں کو ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔لشکر طیبہ اورجیش محمد نہ سہی اس سوچ کے ردعمل اورجواب میں غزوہ ٔ ہند کی فلاسفی زندہ رہے گی ۔

متعلقہ خبریں