Daily Mashriq


ٹائٹل جیتنے پر کوئٹہ کے پلیئرز کی انعامی رقم دگنی

ٹائٹل جیتنے پر کوئٹہ کے پلیئرز کی انعامی رقم دگنی

کراچی: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ٹائٹل جیتنے پر اپنے پلیئرز کو ملنے والی انعامی رقم دگنی کر دی۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے فائنل میں پشاور زلمی کو زیر کر کے پہلی بار پی ایس ایل ٹائٹل جیتا، پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کے سلیم خالق کو خصوصی انٹرویو میں ندیم عمر نے کہا کہ عمر ایسوسی ایٹس سے ہماری بہت پرانی روایت چل رہی ہے کہ جب ہم کوئی ایونٹ جیتیں تو ون بونس میں اتنا ہی اضافہ خودکر دیتے ہیں، اس بار پلیئرز نے کہا کہ ایسا ہی کریں سب سے زیادہ زور سرفراز احمد نے دیا کہ روایت ٹوٹنی نہیں چاہیے،میں نے ان کا مطالبہ مان لیا ہے، پلیئرز ہمارے لیے اتنی محنت کرتے ہیں انھیں صلہ تو ملنا ہی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ہم کوئٹہ جا رہے ہیں وہاں کے چیف منسٹر نے بھی انعام کا وعدہ کیا ہے کچھ اور لوگ بھی ایسا کہہ رہے ہیں، انشااللہ ہم ضرور دگنی رقم پلیئرز کو دیں گے۔ ہم ٹرافی سب سے پہلے بلوچستان کے لوگوں کو دکھائیں گے، اس کے بعد پورے پاکستان میں جشن منایا جائے گا۔

واٹسن کو پاکستان آنے پر اضافی رقم نہیں دی

ندیم عمر نے کہا کہ شین واٹسن کو پاکستان آنے پر آمادہ کرنے کا تمام تر کریڈٹ مجھے نہیں جاتا، اس میں معین خان، اعظم خان اور نبیل ہاشمی کا بھی بڑا کردارہے،ہم نے صبح پانچ بجے تک بیٹھ کر انھیں سمجھایا کہ کتنے سارے غیرملکی کرکٹرز وہاں جا چکے ہیں آپ بھی چلیں، اگر خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوا تو ہم آپ کو اگلی فلائٹ سے آسٹریلیا واپس بھیج دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ واٹسن دل کے بہت صاف آدمی ہیں، گزشتہ برس ان کے اہل خانہ نے انھیں روک لیا تھا۔ اس بارہم نے پہلے ان کے والد اور اہلیہ سے اجازت لی، پھر ان کے ایک بیٹے کی سالگرہ تھی ہم نے اسے کافی منایا کہ ڈیڈی کو پاکستان جانے دو اس بار ٹائٹل جیت کر واپس آئیں گے، واٹسن خود دل سے چاہ رہے تھے کہ کسی طرح فیملی اجازت دیدے، پھر وہ آنے پر آمادہ ہو گئے۔

ندیم عمر نے کہا کہ واٹسن جب کراچی آئے تو ان کا ناقابل فراموش استقبال ہوا، وہ خود کہتے ہیں کہ مجھے دنیا میں اتنی پذیرائی اور کہیں نہیں ملی،جب ہم گراؤنڈ کا چکر لگا رہے تھے تو ان کیلیے نعرے بازی ہوتی رہی۔

انھوں نے کہا کہ واٹسن کے ساتھ ڈی جے براوو اور دیگر ٹیموں کے غیرملکی کھلاڑیوں کی بھی بہت عزت افرائی ہوئی،میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی بھارتی کرکٹر بھی پاکستان آتا تو اس کا بھی ایسا ہی استقبال ہوتا،ہماری قوم اور دوسروں میں یہی فرق ہے۔

ندیم عمر نے کہا کہ دیگر تمام غیرملکی کرکٹرز کو پاکستان آنے پر جو اضافی معاوضہ ملا واٹسن کو بھی اتنی ہی رقم دی گئی، البتہ انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اگلی بار جو معاہدہ کریں اس میں اضافہ کر دیجیے گا اس پر ہم تیار ہو گئے۔

جس ٹیم کا گانا گاؤں وہ جیت جاتی ہے، براوو کا کہا سچ ہوگیا

ندیم عمر نے کہا کہ پی ایس ایل کے دوران ڈی جے براوو کا گانا بہت مقبول ہوا جنھیں انگریزی نہیں آتی وہ بھی اسے گا رہے ہیں، ویسٹ انڈین اسٹار نے مجھ سے ایک بات کہی تھی کہ جس ٹیم کیلیے میں گانا گاتا ہوں وہ جیت جاتی ہے، شروع میں ان سے پرفارمنس نہیں ہو رہی تھی تو وہ اور ہم بہت گھبرائے ہوئے تھے، ایسے میں براوو کا ہمیشہ یہی کہنا ہوتاکہ یہ گانا تمہیں جتوائے گا، ایک وقت ایسا آیا جب میں نے ان سے کہاکہ اسٹیٹ بینک سے اجازت لینے کے سبب تم کو معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر ہو سکتی ہے تو وہ ایک ہی بات کہتا کہ میں ٹائٹل جیتنے آ رہا ہوں، میں ویسٹ انڈیز کیلیے چیمپئنز ٹرافی جیت چکا، آئی پی ایل اور بنگلہ دیش لیگ میں بھی فتح حاصل ہو چکی، میں صرف ٹرافی جیتنے پی ایس ایل کھیلنے آؤں گا پیسے کی کوئی لالچ نہیں ہے۔

منفرد انداز کی سیکیورٹی دی گئی

ندیم عمر نے کہا کہ پہلے پی ایس ایل کے وقت پلیئرز کے کمروں کے باہر بھی کمانڈوز بیٹھے ہوتے تھے، اس بار منفرد سیکیورٹی تھی، اہلکار موجود ہوتے لیکن ہمیں ان کا پتا نہیں چل رہا تھا جس سے سب بیحد خوش ہوئے، میں تمام سیکیورٹی فورسز کو بہترین انداز میں فرائض نبھانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

میں نہیں ویوین رچرڈز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اونر لگتے ہیں

ندیم عمر نے کہا مجھے نہیں لگتا کہ میں ٹیم کا مالک ہوں بلکہ ویوین رچرڈز اونر لگتے ہیں، لوگ ہماری ٹیم کو انہی سے شناخت کرتے ہیں، ہر گذرتی پی ایس ایل سے ان کا کردار بڑھ رہا ہے، یہ سب غیرملکی محبت چاہتے ہیں اور پاکستانی قوم نے ان کو بہت محبت دی ہے، میں رچرڈز سمیت واٹسن ، سیمی وغیرہ سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔

متعلقہ خبریں