ہماری سمت ہی درست نہیں !

ہماری سمت ہی درست نہیں !

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ دشمن قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو گمراہ کررہی ہیں۔جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں ملک بھر میں جاری آپریشن ردالفساد کے تحت شدت پسندی کو شکست دینے میں نوجوانوں کے کردار پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ ہماری 50 فیصد سے زائدآبادی 25 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہمارے ملک کا مستقبل ان ہی نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ شدت پسندی کی طرف مائل نوجوان وہ ہیں جن کے پاس اقدار اور شناخت کا کوئی واضح تصور نہیں ہوتا۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کا ناقص حکمرانی اور انصاف نہ ہونے کے باعث استحصال ہو رہاہے، ملک میں دہشتگردی سے جب کوئی عام شہری شہید ہوتا ہے میری آنکھ پرنم ہوتی ہے، میں روز اپنے بچوں کا درد سہتا ہوں۔ فاٹا یا وزیرستان میں جب بھی کوئی فوجی جوان شہید ہوتا ہے اس کا غم اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں،اکیلی فوج کچھ نہیں کرسکتی، فوج بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے، کراچی یا بلوچستان میں کچھ ہو تو فوج آئے، ریکوڈیک پر فوج کام کر رہی ہے، انڈس واٹر ٹریٹی پر ہم کام کر رہے ہیںلہٰذا ساری ذمہ داری صرف آرمی پر ڈالنے سے ملک آگے نہیں جا سکتا، سب کو ذمہ داری سنبھالنی ہوگی ۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ داعش نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اور شدت پسند تنظیم بھرتی کے لیے نئی نسل کو ہدف بنا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی حیثیت سے یہ ہماری مشترکہ اور انفرادی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اس خطرے سے بچائیں، اس عمل کے دوران خطرے کی نشاندہی اور اس حوالے سے جوابی اقدامات اٹھانا شامل ہیں۔ترجمان آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ ہماری کامیابیاں نوجوانوں کی ہی مرہون منت ہیں۔فوج کی اعلیٰ قیادت کا مشاہدہ تجربہ اور ٹھوس معلومات کی بنیاد پر یہ تجزیہ نہایت قابل توجہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل شدت پسندی کی طرف مائل ہے۔ ہمارے نوجوانوں کا یا تو اخلاق خراب کیا جا رہا ہے اور ان کو عضو معطل بنانے کی سازش ہو رہی ہے یا پھر ان کو شدت پسندی کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ میڈیا پر آنے والی کچھ معلومات کی بنیاد پر دیکھا جائے تو اس میں شبہ نہیں کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں اور وہ بھی اعلیٰ تعلیمیافتہ اور متمول گھرانوں سے تعلق کے ساتھ معمول کے شدت کے حامل معاشرے سے بھی نہیں بلکہ متمول یا بالائی اوسط متمول خاندانوں کی نسل متاثر ہے۔ ایسا کیوں ہے اور اس طبقے کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے ایسی کیا کشش ہے اس حوالے سے باقاعدہ تحقیق ہونی چاہیئے اور اس کی نفسیاتی سمیت ہر پہلو سے تحقیق کے بعد لائحہ عمل سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ اگر آسودہ طبقے کو چھوڑ کر من حیث المجموع معاشرے پر نظر دوڑائی جائے تو نوجوان نسل کے شدت پسندی پر مائل ہونے اور اخلاق باختگی کی جانب کشش کو سمجھنا مشکل نہیں اولاً یہ کہ اخلاق باختگی کی طرف انسان کا جلد مائل ہونا اگر فطرت میںشامل نہیں تو جبلت اسے چین لینے نہیں دیتی ۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اخلاق باختہ امور تک رسائی اس قدر آسان سہل اور سستی ہے کہ کسی کی جبلت میں خرا باتی جراثیم نہ بھی ہوں تو بھی جرثوموں کی حرکیات ہی کافی ہے اس فطرت کو ابھار اس وقت ملتا ہے جب ایک کلک پر خرابات کی دنیا کھل جاتی ہے ۔ پی ٹی اے کی موجودگی اور مساعی کے باوجود بھی خرابات تک آسان رسائی کا دروازہ کیوں کھلا ہے اس غار کے دھانے پر بھاری پتھر رکھ کر بند کیوں نہیں کیا جاتا اور کیا جا سکتا ہے اس سوال کا جواب ماہرین ہی دے سکتے ہیں لیکن سادہ لفظوں میں اگر ہماری حکومت ہماری فوج چاہیں تو یہاں کی قفل بندی اتنا مشکل کام نہیں۔ بلاشبہ یہ فوج کی ذمہ داری نہیں مگر جب فوج کے سربراہ مشوش ہیں تو قومی مفاد میں اس ضمن میں کردار و عمل معیوب نہیں مستحسن ہوگا ۔ جہاں تک معاشرے کے عام نوجواں کے شدت پسندی پر مائل ہونے کا سوال ہے دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ اگر نوجواں کو معاشرے سے معاشرتی ، معاشی ، تعلیمی اور ہر مطلوب انصاف اور حقوق نہیں ملیں گے تو رد عمل ہی کے طور پر ان کا شدت پسندی پر مائل ہونا فطری امر ہوگا ۔ قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کی شکوہ شکایات اور ان میں نا انصافی و محرومی کی جو فضا قائم ہے ہمارے تئیں وہ قبائلی علاقوں میں قبل از طالبانائزیشن اور طالبان نائزیشن کی مدت او ر دورانیے کے حالات کے مقابلے میں کہیں بڑھ کر تشویش ناک ہے۔ اس کی وجوہات جاننا اور ان نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کیلئے ہمیں قبائلی علاقہ جات میں ہر سطح پر اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ صرف معدود سے چند فوجی طرز کے تعلیمی اداروں سے پورے معاشرے کی اصلا ح ممکن نہیں۔ یہ احسن ضرور ہے لیکن جب تک تمام قبائلی نوجوانوں کو اس معیار تک رسائی نہیں ملتی یہ از خود ایک تفریق کا خطرہ مول لینے کے مترادف ہوگا۔ ہمارے تئیں حکومت ، فوج اور بین الاقوامی اداروں کو مل کر قبائلی علاقہ جات میں یکساں مواقع تعلیم مواقع ملازمت و کاروبار اور محرومیوں سے پاک یکساں طرز معاشرت کے قیام کی سعی کرنی چاہیئے اور نوجوانوں کے ذہنوں میں جو جوار بھاٹا ہے اسے ٹھنڈا کرنا ہوگا۔ بندوبستی علاقوں میں بھی معاشرتی انصاف اور روزگار کے یکساں اور انصاف و معیار پر مبنی مواقع کو یقینی بنا کر نوجوانوں کی بے چینی دور کی جا سکتی ہے ۔ جب صلاحیتوں کے حامل نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اپنی صلاحیتوں سے مثبت طور پر استفادے کے مواقع نہیں ملیں گے تو دوسری طرف مائل ہونا فطری امر ہوگا جسے سمجھنے اور اس کی روک تھام کی ضرورت ہے ۔ نوجوان نسل کی اخلاقی اور دینی تعلیم پر گھر سے لیکر سکول و مدرسہ میں بھر پور توجہ کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں ۔ ایک ایسا قومی پروگرام مرتب کر کے اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے جس میں معاشرتی تطہیر اور مستقبل میں صاف ستھرے اور پاک معاشرے کی امید نظر آئے ۔ میڈیا کو غیر ملکی اقدار اور چکا چوند سے نوجوان نسل کو گمراہی کی راہ دکھانے کی بجائے مشرقی اقدار اور اپنے دین وملت کے تقاضوں کو سمجھانے کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اورمعاشرے کی ایسی تصویر دکھانا ہوگی جس میں ہمیں اپنا آپ نظر آئے نہ کہ کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا والی صورتحال ہو ۔

اداریہ