Daily Mashriq


رمضان المبارک کی آمد اور مہنگائی کی لہر

رمضان المبارک کی آمد اور مہنگائی کی لہر

رمضان المبارک کے دوران ہونے والی معمول کی مہنگائی سے بڑھ کر اشیائے خوردونوش اور صرف کی دیگر اشیاء کی قیمتوں کو بڑھانے والوں سے سختی سے نمٹنے کیلئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں سپیشل سکواڈ کی تشکیل ، کنٹرول روم کا قیام اور سبزی و فروٹ کی قیمتوں کا منڈی جا کر سرکاری نرخ مقرر کرنے کے اقدامات کی تیاری اطمینان کے حامل ضرور ہیں۔ دوسری جانب اقتصادی رابطہ کمیٹی ای سی سی کی جانب سے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے ذریعے ایک ارب 60کروڑ روپے سے زائد کے خصوصی پیکج کی منظوری بھی احسن قدم ہے ۔ جس کے مطابق منظورشدہ پیکج کے تحت یوٹیلٹی اسٹورز پر 19اشیائے خوردنوش رعایتی نرخو ں پر دستیاب ہوں گی ۔ ان اشیاء میں چاول ، چائے ، چینی ، دالیں ، آٹا ، دودھ ، مشروبات ،کھجوریں ، گھی ، تیل ، سفید چنا ، بیسن اور مصالحہ جات شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ یوٹیلٹی اسٹور ز کا رپوریشن 2ہزار 600اشیاء کی قیمتوں میں 5سے 10فیصد کمی بھی کرے گی ، جس کے لیے سپلائر ز سے خصوصی رعایت لے کر اپنا منافع کم کیا جائے گا ۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اقدامات پر عملدر آمد نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں سوائے اس کے کہ یوٹیلٹی سٹورز میں اشیاء کا معیار گرانہ دیا جائے اور مقدار اور وزن میں کمی نہ کی جائے۔ بہرحال ہر سال کروڑوں صارفین کو اس سے فائدہ بھی پہنچتا ہے اور وہ متوجہ بھی ہو تے ہیں۔ یو ٹیلٹی سٹورز میں غیر معیاری گھی اور تیل کے ساتھ دیگر اشیاء کے معیار سے متعلق عدالتی احکامات مد نظر رکھے جائیں اور کارپوریشن اشیاء کے معیار کی مسلسل چھان بین کا وعدہ پورا کرے۔ پشاور کی ضلعی انتظامیہ بس اس امر کو یقینی بنائے کہ وہ رمضان سے قبل شروع ہونے والی مصنوعی مہنگائی کو ابھی سے روکے اور رمضان المبارک کے دوران تمام متعلقہ سرکاری عملے کو اشیاء کے نرخوں معیار اور حفظان صحت کے اصولوں کی مطابقت کو یقینی بنائے ۔ گوشت کے نرخوں کو خصوصی طور پر کنٹرول کیا جائے قصاب کی دکانوں سبزی اور میوہ فروشوں کی دکانوں کی روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کی جائے اور سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے ۔ انتظامیہ کو اس امر کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر ہر سال ان کے اقدامات عوام کو ریلیف دلانے میں ناکامی کا شکار کیوں ہوتے ہیں اور اس سال طے شدہ حکمت عملی کا کس طرح موثر نفاذ کیا جائے ۔

شکایتی نمبر دینے سے مسئلہ حل نہ ہوگا

اکائونٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا کی جانب سے تمام متعلقہ دفاتر میں اکائونٹنٹ جنرل اور ڈپٹی اکائونٹنٹ جنرل کے فون نمبر آویزاں کرکے عوامی شکایات کی وصولی میں آسانی کا جو سہل راستہ اپنانے کی سعی کی ہے اسے خوش آئند قرار دیتے ہوئے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ موصوف اپنے زیر سایہ دفتر میں عوام اور سرکاری ملازمین کے معمولی کاموں کو بسہولت نمٹا نے کیلئے عوضا نہ کی وصولی کی روک تھام پر اگر توجہ دیں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ سرکاری محکموں سے بلوں کی کلیئر نس کیلئے حصے کی وصولی کی بھی ناقابل یقین شکایات کی شنید ہے۔ اس امر کی تحقیقات ہونی چاہیئے کہ اس طرح کے کاموں میں کون کون ملوث ہیں۔ اس طرح کی شکایات کا فون نمبر دینے سے ازالہ نہ ہوگا بلکہ اے جی کو اپنے ذرائع سے سرکاری محکموں تک کو استحصال کا شکار بنانے والوں کا از خود کھوج لگانا ہوگا ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ اے جی عوام سرکاری ملازمین اور محکموں کے معاملات کو شفاف طریقے سے نمٹانے کو یقینی بنانے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں گے اور صرف فون نمبر دینے کو کافی قرار دینے کی بجائے صورتحال کے تقاضوں کو سمجھیں گے اور اس کے مطابق اصلاح احوال کے اقدامات کئے جائیں گے ۔

متعلقہ خبریں