Daily Mashriq


معاون اساتذہ کی فریاد و شکایت

معاون اساتذہ کی فریاد و شکایت

کالم لکھتے وقت کبھی کبھی یہ خیال آتا ہے کہ ہمارے اخبارات میںچھپنے والے کالموں کا کوئی امپیکٹ بھی ہے یا نہیں لیکن جب قارئین کی طرف سے ایس ایم ایس اور ای میلز کے ذریعے تاثرات ملتے ہیں تو دل خوش ہونے کے ساتھ ایک نیا ولولہ اور حوصلہ بھی مل جاتاہے۔ میرے لئے ایک خوشگوار احساس اُس وقت ہوتا ہے جب ہمارے قارئین کا یہ تاثر ملتا ہے کہ گویا ہمارے کالم اُن کے مسائل حل کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتے ہیں ۔ آج کے میرے کالم کا عنوان مندرجہ بالا تمہیدی کلمات کے ساتھ متعلق ہے۔ تیمر گرہ (دیر) سے ناصر جلیل سادات نے ایک خط کے ذریعے اپنی اور اپنے رفقاء کی ایک طویل اور پرالم داستان لکھی ہے ۔ اُن کا مسئلہ اس لحاظ سے بہت قابل توجہ ہے کہ یہ پڑھے لکھے نوجوانوں کے مستقبل اور حال کا مسئلہ ہے اور اُس حکومت کے ساتھ ہے جس کا بجا طور پر دعویٰ ہے کہ صحت اور تعلیم اس کی ترجیحات اولیٰ میں شامل ہیں اور اس میں شک بھی نہیں کہ ان دونوں شعبو ں میں قابل ذکر کام ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں لیکن ان نوجوانوں کا جن کو ٹیچنگ اسسٹنٹ کے طور پر کالجوں میں لیکچر ارز کی کمی پوری کرنے کے لئے بھرتی کیا گیا اور ETEAکے ذریعے باقاعدہ امتحان لینے کے بعد سلیکٹ کیا گیا اور پینتالیس ہزار امیدواروں میں آٹھ سو امیدوار (300خواتین اور 500مرد) کامیاب ہوئے اور وہ یہ امید وار تھے جو ایم فل' پی ایچ ڈی اور ایم اے گولڈ میڈلسٹ تھے اور اپنے ضلعوں میں ٹاپ پوزیشن پر تھے۔ لیکن جب ان نوجوانوں کو دو ہزار سے زیادہ خالی آسامیوں پر تعینات کیاگیا تو ساتھ شرائط کا ایک پلندہ بھی پکڑ وایا گیا جن میں بعض شرائط اگر واقعی ایسی ہی ہیں) بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف ہیں۔ ان ٹیچنگ اسسٹنٹس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ کالجوں میں ہزاروں خالی آسامیوں کو پبلک سروس کمیشن کے ذیعے پر کرنے میں وقت درکار تھا اور حکومت کو طلبہ کا قیمتی وقت بچانے کے لئے اساتذہ کی ضرورت تھی۔ لہٰذا شارٹ کٹ کا استعمال کرتے ہوئے ETEA کے ذریعے کمیشن کے معیار کے امتحان کے ذریعے انتخاب عمل میں لایاگیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کالجوں میں 1988ء سے اکثر و بیشتر اساتذہ کی کمی پورا کرنے کے لئے ایڈہاک پر تعیناتی ہوتی تھی اور پھر اسمبلی میں بل کے ذریعے اکثر و بیشتر مستقل کر لیا جاتا تھا اور موجودہ حکومت نے بھی ہنگامی بنیادوں پر کالجوں میں خالی آسامیوں کو پر کروا کر اچھا قدم اٹھایا لیکن اب جبکہ یہ اساتذہ سروس سٹرکچر اور مستقل ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور پرانے ایڈ ہاک پر تعینات اساتذہ کی طرح مستقل ہونے کااستحقاق مانگ رہے ہیں تو حکومت اور ان کے درمیان وہی ''پرانی بیماری'' کہ احتجاج کرو' دھرنا دو' ہڑتال کرو' مظاہرہ کرو'' پر مجبور ہیں اور حکومت ہر موڑ پر مذاکرات کے ذریعے ان کو بہلا پھسلا کر واپس کردیتی ہے۔ ان لوگوں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ایڈ ہاک اور بھرتی لیکچررز اور ہمارے درمیان نام کا فرق رکھا گیا ہے تاکہ ہم مستقل ہونے کا مطالبہ نہ کرسکیں اور جو شرائط لگائی گئی ہیں وہ بھی اسی تناظر میں ہیں۔ مثلاً ری ٹیچنگ اسسٹنٹ گورنمنٹ سرونٹ نہیں ہوں گے (2)دورانیہ ملازمت دو سال ہوگا۔ (3) یہ لوگ کوئی ایسوسی ایشن(تنظیم) نہیں بنا سکیں گے۔ (4) کمیشن کے منتخب کردہ امیدواروں کے آنے سے ان لوگوں کی ملازمت خود بخود ختم تصور ہوگی۔ (5)پرنسپل کسی وقت ان کو فارغ کرنے کا مجاز ہے۔ (6)ہارڈ اور سیٹلڈ ایریاز کے حوالے سے بھی پالیسی کی خلاف ورزی کی گئی۔ مثلاً بنی کالج فار بوائز چترال کو سیٹلڈایریا میں شمار کیا گیا اور گرلزکالجز جو شہرکے اندر ہیں ان کو ہارڈ میں شمار کیا گیا۔ (7)ان کی چھٹیوں کی تنخواہ نہیں ہوگی۔

(8)ان کا کوئی سکیل نہیں ہوگا۔اس کے علاوہ مذکورہ مکتوب میں منسٹر ہائیر ایجوکیشن مشتاق غنی کے ساتھ مذاکرات اور گفت و شنید کی تفصیل بھی ہے لیکن آخری نکتہ یہ ہے کہ مشتاق غنی نے ان کی سمری وزیر اعلیٰ کو بھیج دی اور وہاں سے لاء ڈیپارٹمنٹ گئی جو شاید وہاں پھنس کر Technicalities کا شکار ہوگئی۔ اس خط سے جو بات میری سمجھ میں آئی ہے یہ ہے کہ حکومت نے ان کو ایمرجنسی کے تحت کام چلانے کے لئے بھرتی کیا اور ان کے ساتھ جو ایگریمنٹ کیا اگر یہ امیدواروں کی طرف سے دستخط شدہ ہے تو پھر صاف ظاہر ہے کہ جب ملازمت کا دورانیہ صاف لکھا ہوا ہے اور کمیشن کے منتخب کردہ لوگوں کی آمد کے بعد ان کی ملازمت خود بخود ختم متصور ہوگی ان کا کوئی خاص استحقاق بنتا نہیں ہے۔ لیکن اگر کالجوں میں خالی آسامیاں موجود ہیں اور ان لوگوں نے امتحان پاس کرکے دو سال تک پڑھا کر تجربہ بھی حاصل کرلیا ہے اور یہ میرٹ پر پورا اترتے ہیں تو ان کو اسمبلی بل کے ذریعے یا لاء ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے کوئی قانونی راستہ بنا کر ان کو ایک دفعہ با روز گار بنا کر بے روز گار کرنا کسی طور بھی درست نہیں۔ اب یہ آٹھ سو افراد کا نہیں آٹھ سو خاندانوں کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا حکومتیں شروع دن سے جب ایڈ ہاک پر تعینات لوگوں کو مستقل کرتی رہی ہیں تو ان قابل اور با صلاحیت آٹھ سو معاون اساتذہ کو مستقل کرکے کون سا آسمان گر پڑے گا۔ ہاں اگر قانون میں اس کی گنجائش نہیں بنتی تو ان کو قانون کا راستہ بنا کر دوبارہ مستقل بنیادوں پر تعیناتی کے دوران ذرا ترجیح دی جائے۔ اللہ کرے کہ حکومت وقت ہمدردی کے ساتھ ان لوگوں اور دیگر عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کی سعی میں لگی رہے اور صوبائی حکومت اپنے منشور کے بنیادی نکات کی تکمیل کرسکے۔

متعلقہ خبریں