Daily Mashriq

سب چلتا ہے

سب چلتا ہے

فی الوقت صورت حال کا ہمیں علم نہیں دور وز پہلے جب اپنی بستی کے مصروف چوراہے پر پہنچے تو ایک قیامت کا ہنگام تھا ۔ کیا رکشہ ڈرائیور کیا، ہوا کے گھوڑے پر سوار موٹر سائیکل والے ، کاریں ، ٹرک ہر ایک کو اتنی جلدی تھی کہ ابھی نہیں توکبھی نہیں ، لگتا تھا خدا نخواستہ کسی طوفان نوح کی خبر سن رکھی ہے ۔ اور اب یہ سب لوگ ایک دوسرے کو روندتے ہوئے کسی محفوظ مقام تک پہنچنے کے لئے کوشاں ہیں۔ سڑک کی دوسری جانب دیوار کے سائے میں ایک او نگھتا سپاہی کھڑا نظر آیا ۔ بمشکل سڑک پار کرکے اس تک رسائی حاصل کی ۔ پوچھا یہ بھگڈر کیوں مچی ہوئی ہے ۔ خواب آلود آنکھیں نیم وا کر کے ممناتے ہوئے کہا ۔ ٹریفک کے سپاہی پولیو مہم کی ڈیوٹی پر ہیں ، دیکھتے نہیں چوک خالی ہے۔ اُن سے مزید معلوم ہوا کہ مردان جسکی شہری آبادی کم و بیش بارہ لاکھ ہے یہاں کے چوراہوں کے لئے صرف 220ٹریفک وارڈنز مقرر ہیں جن میں سے 120پولیو کا رندوں کی حفاظت پر مامور ہیں ۔ کیا قوم ہے ہماری بھی پولیو جیسے مہلک مرض سے بچائو کے قطرے پلانے والے عملے کو بھی ہم زندہ نہیں چھوڑتے ۔ خیر یہ تو ایک علیحدہ موضوع ہے ہم آج صرف یہ بتا نا چاہتے ہیں کہ وطن عزیز میں کسی بھی شہر کی مصروف ترین ٹریفک سپاہیوںکے بغیر بھی روا دواں رہتی ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ جب پولیو مہم کے دوران یہ تجربہ کامیاب رہتا ہے تو پھر عام دنوں میں ٹریفک پولیس کی کیا ضرورت ہے ۔ وطن عزیز میں سب چلتا ہے۔ یہ انکشاف سامنے آیا کہ وطن عزیز کے قیام کے صرف تین سال بعد جبکہ ملک کو کشمیر کا قضیہ درپیش تھا ، ہندوستان کے مہاجرین کی آمد جاری تھی خزانہ خالی تھا اور دفاتر میں پیپرپن کی جگہ ببول کے کانٹے استعمال ہوتے تھے ملک کے وزیر اعظم تین ماہ کے طویل دورے پر امریکہ چلے گئے ۔ دنیا میں جیسے کہ ڈاکٹرذ کا بتاتے ہیں یہ کسی حکمران کا شاید طویل ترین غیر ملکی دورہ تھا ۔ ملک پھر بھی چلتا رہا ۔ ان کی غیر حاضری میں قائم مقام وزیر اعظم کون تھا ؟ کوئی تو ہوگا ۔ فرشتو ں کی کسی مجلس شوریٰ نے یہ ذمہ داری سنبھالی رکھی ہوگی یہ صرف ایک دفعہ نہیں ہوا۔ اچانک پتہ لگا کہ پی پی پی کی گزشتہ حکومت کے دور میں پنجاب کے گورنر عدم پتہ ہوچکے ہیں۔ ہفتہ ایک بعد نمودار ہوئے۔ معلوم ہوا کہ حضرت اپنے کچھ ضروری کام نمٹانے کے لئے غالباً ملائیشیاء کی طرف نکل گئے تھے۔ ان کا قائم مقام کون تھا ؟ یہ آج تک معلوم نہ ہوسکا۔ شاید فرشتوں کی مجلس شوریٰ کام چلا رہی تھی۔ کسی نے پوچھا' بتا کر گئے ہوتے' بولے واپس آگیا ہوں کیا میری غیر حاضری میں صوبے کے انتظامی امور پر کوئی فرق پڑا؟ کوئی نہیں سب چلتا ہے۔ یہ تو ابھی گزشتہ سال کی بات ہے صوبہ سندھ میں ایک عمر رسیدہ شخص کو بستر علالت سے اٹھا کر گورنر بنا دیا گیا گورنر شپ کا حلف اٹھانے کے بعد وہ براہ راست ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل کردئیے گئے۔ نیم بے ہوشی کی حالت میں تین ماہ تک وہیں پڑے رہے ان کی غیر حاضری میں بھی شاید فرشتوں کی مجلس شوریٰ سندھ کے انتظامی امور کی نگرانی کر رہی تھی۔ ہماری طرح آپ کو بھی معلوم ہوگا کہ ملک کو خارجہ امورکے متعلق بے شمار مسائل درپیش ہیں۔ ایران' افغانستان اور بالخصوص بھارت کے ساتھ روزانہ نت نئے مسائل درپیش ہوتے رہتے ہیں ۔ وفاقی کابینہ ہمہ وقت وزیر خارجہ نہیں ایک مشیر ڈان لیکس کی لپیٹ میں آکر رخصت ہوگئے۔ دوسرے کم و بیش 90سال کی عمر میں وزارت خارجہ کے نازک امور کی نگرانی کرتے ہیں۔ کیسے کرتے ہیں ہمیں اس کا کوئی علم نہیں۔ ہمیں تو بزرگ شہری ہونے کی وجہ سے گھر والوں نے یہ کہتے ہوئے ہر قسم کی ذمہ داریوں سے فارغ کردیا ہے۔ تہ اس نہ پوھیگے' تم اب کام کے نہیں رہے۔ آرام سے لیٹے رہو۔ شاید وزارت خارجہ کے امور کی نگرانی بھی فرشتوں کی مجلس شوریٰ کے سپرد کردی گئی ہے۔ سب چلتا ہے پارلیمان میں حزب اختلاف کو ہمیشہ سے یہ شکایت رہی ہے کہ وزیر اعظم ایوان میں تشریف نہیں لاتے ۔ ہاں البتہ ان پر لگے الزامات کی صفائی کے لئے دو ایک بار تشریف لا چکے ہیں۔ ایوان بالا کے اجلاس میں تو گزشتہ چار سالوں میں صرف ایک بار قدم رنجہ فرمایا۔ کیا وزیر اعظم کے آنے یا نہ آنے سے پارلیمان کی کارروائی پر کوئی فرق پڑا۔ ہاں البتہ وقفہ سوالات کے دوران اب ایوان میں کسی ذمہ دار سیکرٹری کی جگہ نچلی سطح کے کارندے یہ فرائض انجام دینے لگے ہیں۔ گزشتہ روز خبر لگی کہ قومی اسمبلی کے سپیکر صاحب نے وقفہ سوالات کے د وران ارکان اسمبلی کے درست جواب نہ ملنے وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے جونیئر افسر کو جھاڑ پلاتے ہوئے ایوان سے نکال دیا۔ اب ذرا نچلی سطح پر آئیے۔ پختونخوا کی اس وقت 10جامعات میں وائس چانسلرز موجود نہیں۔ کیاکوئی فرق پڑا؟ کچھ بھی نہیں' سب چلتا ہے۔ ہاں البتہ شنید ہے کہ مردان یونیورسٹی میں تین ہزار ڈگریاں وائس چانسلرکے دستخطوں کی منتظر ہیں۔ یہ کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہیں بس ذرا بعض طلبہ کی تعلیم کے لئے بیرون ملک روانگی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ کچھ ان ڈگریوں کی وجہ سے انٹرویوز میں شرکت نہیں کرسکے۔ اسی طرح شنید ہے کہ صوبے کے 82سرکاری کالجز پرنسپلوں سے محروم ہیں اور براہ راست فرشتوں کی مجلس شوریٰ کی نگرانی میں وہ کام کر رہے ہیں۔ بتانا صرف یہ مقصود تھا کہ ملک وزیر اعظم کے بغیر صوبہ گورنر کے بغیر' یونیورسٹی وی سی کے بغیر اور کالج پرنسپل کے بغیر کام کرسکتا ہے تو ہمارے شہر میں ٹریفک بغیر ٹریفک وارڈنز کے رواں دواں ہے تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے' سب چلتا ہے۔

اداریہ