Daily Mashriq


مکالمہ ہونا چاہیے

مکالمہ ہونا چاہیے

کبھی کبھی دوستوں کی محفل میں بڑے سنجیدہ لیکن دلچسپ موضوعات پر بات چیت کا سلسلہ چل پڑتا ہے بات اس پر ہورہی تھی کہ اب دنیا ڈرائنگ روم میں سمٹ آئی ہے حجرہ، بیٹھک سب کچھ ختم ہوگیا اب سیل فون اور لیپ ٹاپ ہی ہمارا حجرہ ہے۔ اپنی گود میں رکھے جام جمشید(لیپ ٹاپ)میں ہی سب کچھ مل جاتا ہے اب تو یہ کالج یونیورسٹی سے نکل کر مدارس میں بھی داخل ہوچکا ہے۔ دراصل کوئی چیز بھی اپنی ذات میں اچھی یا بری نہیں ہوتی اچھائی اور برائی کا معیار اس کے استعمال سے متعین ہوتا ہے۔ ایک صاحب کا خیال تھا کہ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ہماری نئی نسل مغربی کلچر کے زیر اثر پروان چڑھ رہی ہے انہیں جواب میں یہ کہا گیا کہ یہ سلسلہ یکطرفہ نہیں ہے بلکہ یہ دو طرفہ ٹریفک ہے۔ ہم متاثر بھی ہورہے ہیں اور متاثر کر بھی رہے ہیں اگر وہاں سے بہت سی چیزیں یہا ں آرہی ہیں تو ہمارے یہاں سے بھی بہت کچھ وہاں جارہا ہے مغربی کلچر کے سیلاب کے خلاف بند بھی باندھا جارہا ہے۔ ایک متبادل بیانیہ بھی فروغ پا رہا ہے ۔کلچر کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کبھی تبدیل نہ ہو یہ ہمیشہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اس میں بہت سی چیزیں اپنا حصہ ڈالتی رہتی ہیں۔ ہماری زبان،ہمارا رہن سہن، ہمارے رسم رواج، ہماری روایات، کھانے پکانے کے طریقے، اخلاقیات اور مذہب !انگلش میڈیم سکولوں کے مقابلے میں اقراء سکول بھی بڑی تعداد میں فروغ پارہے ہیں۔جب ثقافت کی بات ہوتی ہے تو سب اپنی اپنی ثقافت کے لیے آواز بلند کرتے ہیں اور یہ فطری امر ہے یہ کسی سکول میں نہیں سکھایا جاتا اس کے لیے کسی تربیت کی ضرورت نہیں پڑتی آپ کا کلچر آپ کی جڑوں میں موجود ہوتا ہے یہ ایک نسل سے دوسری نسل میںغیر محسوس طریقے سے منتقل ہوتا رہتاہے جب آپ اپنی زبان کو چھوڑ کر کسی غیر زبان کے ساتھ چمٹنے کی غیر فطری کوشش کرتے ہیں تو بات بنتی نظر نہیں آتی۔ ضرورت کی بات اور ہے اگر آج انگریزی زبان بین الاقوامی زبان کے درجے پر فائز ہے اور ہم سب کی ضرورت بناد ی گئی ہے تو بس یہ ضرورت ہی رہتی ہے۔ لیکن یہ زبان آپ کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرسکتی آپ کسی اور مٹی سے بنے ہوئے ہیں۔ یہ زبان آپ کی نہیں ہے یہ آپ کی ہو بھی نہیں سکتی !جب تک آپ غصے کا اظہار اپنی زبان میں نہ کریں اپنی زبان میں گالی نہ دیں تو آپ کی تسلی نہیں ہوتی کسی کمی کا احساس رہتا ہے آج کل سی پیک اور دوسرے حوالوں سے چینی زبان کے حوالے بہت سی باتیں سامنے آرہی ہیں آج اسے سیکھنے سکھانے کی باتیں ہورہی ہیں۔ جہاں تک مختلف زبانیں سیکھنے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے تعلیمی اداروں میں بطور اختیاری مضامین انہیں رکھا جاسکتا ہے۔ زبان تو ایک اوزار ہے اسے استعمال میں لانا ہوتا ہے لیکن جب ثقافت کی بات ہوتی ہے تہذیب کا ذکر چھڑتا ہے تو پھر ہر قوم کا اپنا کلچر ہوتا ہے وہ اسی میں زندہ رہنا چاہتی ہے جہاں تک سائنس کی ترقی کا تعلق ہے تو سائنس نے حد بندی کردی ہے وہ حقائق اور تجربات کی کسوٹی پر چلتی ہے اس نے سب کچھ لیبارٹری میں لاکر ٹیسٹ کرنا ہوتا ہے۔ اس کا آپ کے جذبات آپ کے کلچر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا !ڈارون، کارل مارکس،روسو، گوئٹے، نیٹشے اور دوسرے بہت سے سکالرز نے جب بات کی اپنے خیالات دنیا کے سامنے رکھے تو ان کو سراہا بھی گیا اور ان پر تنقید بھی ہوئی کیونکہ ان کے خیالات کی حدود میں مذہب بھی آتا تھا اور تہذیب و ثقافت بھی اور ان کے ساتھ جڑی ہوئی بہت سی دوسری چیزیں! لیکن نیوٹن نے جب سائنس کے حوالے سے اپنے نظریات پیش کیے تو اس پر علمی حوالوں سے تو بہت بات ہوئی لیکن وہ ان اعتراضات اور تنقید سے محفوظ رہا جن کا سامنا مذہب کی حدود میں داخل ہونے کے بعد کرنا پڑتا ہے۔ ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ کسی بھی کلچر کی یلغار سو فی صد آپ کی ثقافت کو تبدیل نہیں کرسکتی اور نہ ہی مکمل طور پر آپ کو ثقافتی اعتبار سے مغلوب کرسکتی ہے۔ اثرات ضرور ہوتے ہیں اور پھر ہر ثقافت میں مثبت اور منفی دونوں حوالے موجود ہوتے ہیں جو اچھے حوالے ہیں انہیں قبول کرلینے یا اختیار کرلینے میں کیا حرج ہے ؟ایسی بہت سی باتیں ہوتی ہیں جو مختلف ثقافتوں میں مشترک ہوتی ہیں۔ دراصل ثقافت کی اپنی حدود ہوتی ہیں یہ جب اپنی حدود پھلانگ کر مذہب کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہے تو پھر سوالات بھی اٹھتے ہیں اور اپنی تہذیب و ثقافت کو محفوظ رکھنے کا خیال بھی مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس سارے حوالے سے خوبصورت بات یہ ہے کہ کلچر تو بہت سے ہیں اور سب کا تعلق ہماری زمین کے ساتھ ہے۔ ان کا آپس میں میل ملاپ بھی ہوتا ہے بہت سی جگہوں پر ٹکرائو بھی ہوتا ہے سب کو ساتھ لے کر چلنے میں حکمت پوشیدہ ہے۔ دوسروں کو برداشت کرنے سے بات بنتی ہے مکالمہ بھی جاری رہنا چاہیے اسے موت زندگی کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ جدید دور کی تبدیلیوں کو تسلیم کرنا پڑتا ہے آپ ان کی راہ میں دیوار نہیں بن سکتے ، شروع شروع میں چھاپہ خانے کی مخالفت ہوئی اسی طرح ریڈیو، ٹی وی، لائوڈ سپیکر اور دوسری بہت سی چیزوں کے خلاف آوازیں اٹھتی رہیں لیکن آج یہ سب کچھ ہماری زندگی میں اہم اجزاء کے طور پر اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں