Daily Mashriq


حق اور سچ کی آواز

حق اور سچ کی آواز

اسلام آباد میں جے سالک کشمیریوں کی قتل عام اور برما میں مسلمانوں پر جاری ظلم اور تشدد کے خلاف احتجاج کیا۔ اُنہوں نے یو این او اور دوسری بین الاقوامی ایجنسیوں کو یادداشت پیش کیں جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں اور کشمیر اور برما کے مسلمانوں پر جاری ظلم کو فوری روکا جائے۔اُن کا کہنا ہے کہ میں اُس وقت تک چھین سے نہیں بیٹھوںگا جب تک مسلمانوں پر جاری ظلم کے خلاف میں اقدامات نہ کرلوں۔

کسی نے کیا خوب کہا You cannot be a leader and ask other people to follow you, unless you know how to follow. جب سالک سے میری با ت ہو رہی تھی میں نے ان سے کہا کہ جے سالک صا حب آپ میں بھٹو کی جھلک نظر آتی ہے، کہنے لگے بھٹو تو ایک مالدار لیڈر تھے میں ایک غریب انسان ہوںاور میرا تعلق غریب متو سط گھرانے سے ہے ۔ اگر دنیائے عالم کے راہنمائو ں کی زندگی پر نظرڈالی جائے تو ان میں سے ہزاروں لیڈر ایسے ہیں جنکا تعلق متوسط یا غریب گھرانوں سے ہے۔

پشتو کے مشہور شاعر خوشحال خان کہتے ہیں کہ ایک لیڈر ، قبیلے کے سردار یا قائد کی خصو صیات میں عفو در گزر، ہمت و حو صلہ، شجاعت اور بہا دری اور اخلاق ہو نا چاہئے ، اور جے سالک میں یہ تمام خصو صیات بدر جہ اُتم موجود ہیں۔جے سالک پانچ مر تبہ قومی اسمبلی کے ممبر رہ چکے ہیں، عیسائی برا دری کے ایک ایسے لیڈر، جو سال1996میں نوبل انعام کے لئے نامزد کئے گئے تھے۔ جن کے بارے میں مدر ٹریسا نے کہا تھا "ڈئیر جو لیس میری دُ عائیں آپکے ساتھ ہیں"۔ ملک کے مایہ ناز اٹیمی سائنس دان ڈا کٹر عبد القدیر خان اور سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹونے جے سالک کے بارے میں اپنے خیا لات کا اظہار کر تے ہو ئے کہاتھا جے سالک سے زیادہ نوبل انعام کے لئے مو زوں امیدوار کوئی نہیں۔ میاں نوا ز شریف نے کہا جے سالک کی خد مات قابل قدر ہیں۔وفاقی وزیر کے طو ر پر اُنہوں نے کر سمس تہوار اپنی شریک حیات اور اکلوتے بیٹے کے ساتھ بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ منایا جہاں وہ جا رح سرب کی جا رحیت کا شکار تھے، حالانکہ اُ س وقت حکومت وقت نے نا مساعد حالات کی وجہ سے جے سالک کو بو سنیا ہر زی گوینا جانے سے منع کیا تھا۔بھارت میں 300 مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کے طو ر پر جے سالک نے سال 1980 سے 12 سال تک ٹاٹ کے کپڑے پہنے رکھے اور پھر قومی اسمبلی میں مشترکہ قرارداد کے ذریعے جے سالک کو مجبور کیا گیا کہ وہ احتجاج کے طو ر پرٹا ٹ کے کپڑے پہننا چھوڑ دیں۔انہوںنے ایران اور عراق کے درمیان جنگ کو ختم کر نے کے لئے اور امن کی کو ششوں کے سلسلے میں 2000 میل پیدل سفر کیا تا کہ جنگ روکی جائے اور خطے میں امن لا یا جا سکے ۔ صدر ضیاء ا لحق کے دور حکومت میں جے سالک ما رشل لاء کے خلاف سال 1979اور سال 1980 میں دو دفعہ کو نسلر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ جے سالک کی ذاتی کو ششوں کی وجہ سے پنڈی اسلام آباد میں8000 عیسائیوں اور 3000 مسلمانوں کو سر چھپانے کی جگہ دی گئی۔اپنی کتاب "پاکستان کی پہچان "کی ساری رقم زلزلہ زد گان یتیموں اور بیوائوں پر خرچ کرنے کا اعلان کیا۔

1995 میں جب پا ر لیمان کے سارے ممبران کوپا رلیمینٹری ہا ئو سنگ سکیم کے تحت پلاٹ 2 لاکھ کے عوض دئے گئے تو جے سالک نے اعلان کیا کہ میں اس پلاٹ کو اس وقت تک نہیں لوں گا جب تک اس ملک کے ایک ایک غریب کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ ایک اندازے کے مطابق ان پلاٹوں کی قیمت عام مارکیٹ میںایک کروڑ 80 لاکھ روپے تھی۔اپنی وزارت کے دوران انہوں نے اپنے سرکاری بنگلے کو یتیموں کے لئے ایک قومی ادارے کے طو ر پر وقف کیا تھا۔اب جب کہ جے سالک کی ساری فیملی یو رپ میں ہے مگر جے سالک نے جانے سے اس وجہ سے انکار کیا ہے کہ وہ وطن عزیز میں غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی خد مت کر نا چاہتے ہیں۔ انکے والد نے اُسکانام جو لیس سیزر کے نام پر رکھا جو ایک با دشاہ تھا مگر جے سالک کہتا ہے کہ میں غریبوں میں سے ہوں اور غریبوں کا با د شاہ ہوں۔ جے سالک نے وزیر بنتے گو شت کھانا چھو ڑ دیا ۔ انہوں نے گریڈ 1 سے لیکر گریڈ 22 افسران کے لئے حا ضری کا رجسٹر رکھا جس میں وہ اپنی حا ضری لگاتے رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی وزارت میں صبح کے وقت دفتر میں قُر آن پاک کی تلا وت کا حکم دیا اور روزانہ صبح 8 بجکر 50 منٹ سے ٹھیک 9بجے تک قُرآن مجید فُرقان حمید کی تلا وت ہو تی تھی۔گو کہ ان کا کوئی مکان نہیں مگرانہوں نے اس دھر تی کے غریبوں کے لئے 14 بستیاں تعمیر کر وائیں جس میں گیس بجلی اور پا نی کی ساری سہو لیات موجود ہیں۔جیسا کہ ہم سب کو پتہ ہے کہ وطن عزیز میں نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے جب لوگوں کے مسائل حل نہیں ہو تے تو زیادہ تر لوگ چیف جسٹس سے سوموٹو ایکشن لینے کے مطالبے کے سلسلے میں اسلام آباد آتے ہیں جے سالک ان لوگوں کے کھانے کا بندوبست کر تے ہیں۔ایک دفعہ رمضان کے مہینے میں تقریبا ً دو سو لوگ ایک مہینہ ٹھہرے رہے اور ان سب کی سحر ی اور افطا ری کا انتظام جے سالک نے کیا۔وہ کم ازکم اسلامی کانفرنس تنظیم کے ٥٤ ممالک سے اچھے ہیں کہ مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز تو اُٹھاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں