Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت عبدالوہاب ابن ابی بکرہ سے مروی ہے ،آپ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : '' اے عمر ! نیکی کریں جنت پائیں ''۔پھر اس نے چند عربی اشعار پڑھے ،جن کا ترجمہ یہ ہے : میری بچیوں اور ان کی ماں کو کپڑے پہنا یئے تو ہم ساری زندگی آپ کے لئے جنت کی دعا کریں گے ۔ خدا کی قسم ! آپ (یہ نیکی ) ضرور کریں ۔ امیر المومنین سیدنا عمر نے ارشاد فرمایا : '' اگر میں ایسا نہ کرسکوں تو ؟ '' ۔
اعرابی بولا: '' اے ابو حفص ! اگر ایسا نہ ہوا تو میں چلا جائوں گا ۔ '' (ابو حفص حضرت عمر کی کنیت ہے ) سیدنا عمر فاروق نے پوچھا :'' اگر تو چلا گیا تو پھر کیا ہوگا ؟ ''
وہ کہنے لگا : '' تو پھر خدا کی قسم ! آپ سے میرے حال کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا اور اس دن عطیات احسان اور نیکیا ں ہوں گی تو ( محشر کے دن ) کھڑے شخص سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا ۔ پھر اسے (حساب و کتاب کے بعد ) یا تو جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا یا جنت کی خوشخبری سنائی جائے گی ''۔ (اشعار کی صورت میں اس اعرابی کی یہ باتیں سن کر ) امیر المو منین سیدنا عمر فاروق کی آنکھوں میںسے اشک رواں ہوگیا ، یہاں تک کہ آ پ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔ پھر عمر فاروق نے اپنے غلام کو حکم فرمایا : اس شخص کومیری یہ قمیض عطا کردو اور یہ اس وجہ سے نہیں کہ اس نے اچھا شعر کہا ہے ، بلکہ اس دن (یعنی قیامت ) کیلئے ۔ اس کے بعد ارشاد فرما یا : '' خدا کی قسم ! ( اس قمیض کے علاوہ میں کسی اور چیز کا مالک نہیں ہوں ۔ ''امام ابو یوسف نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہ کی والدہ نے کسی بات پر قسم کھائی تو والدہ نے اپنے بیٹے یعنی امام صاحب سے کہا : میں اپنی قسم توڑنا چاہتی ہوں ، مجھے کتنا کفارہ دینا پڑے گا ، فلاں واعظ صاحب جو وعظ کیا کرتے ہیں ، ان سے پوچھ کر آئو کہ اس صورتحال میں شرعی حکم کیا ہے ؟ امام ابو یوسف نے فرمایا کہ میرے خالو وعظ کیا کرتے تھے اور وہ اپنے وعظ میں عبرتناک اور نصیحت آموز قصے زیادہ بیان فرماتے تھے ، جس کی وجہ سے ان کا نام القاص (یعنی قصہ سنانے والا)پڑ گیا تھا ۔حالانکہ یہ شخص امام ابو حنیفہ کے شاگردوں سے بھی علم میں درجہ کم رکھتے تھے ، لیکن چوں کہ والد ہ محترمہ نے فرمایا تھا کہ ا نہی سے جواب پوچھنا تو امام صاحب نے یہ نہیں فرمایا کہ امی میں بتادوں ۔ میں جانتا ہوں یہ مسئلہ ۔۔بلکہ اپنے شاگرد کے ذریعے امام ابو حنیفہ نے ان کو بلوایا اور ان سے پوچھا ۔
ابو طالب نے کہا : مجھے تو جواب آتا نہیں ، آپ مجھے جواب بتا دیں ۔
تو امام نے فرما یا : اس مسئلہ کا جواب اس طرح سے ہے ۔ تو ابو طالب نے کہا : میری طرف سے آپ ہی والدہ صاحبہ کو یہ جواب دے دیں ۔ امام صاحب نے اپنی والدہ کو اس طرح بتا دیا کہ وہ صاحب اس مسئلہ کا اس طرح جواب دے رہے ہیں تو وہ واعظ کی اس بات سے راضی ہوگئیں ۔
(سنہرے واقعات)

اداریہ