Daily Mashriq


بھارتی اقدامات سے خطے کے امن کو خطرات

بھارتی اقدامات سے خطے کے امن کو خطرات

ماہ صیام کے ان با برکت دنوں میں بھارتی سیکورٹی فورسزکی سیالکوٹ ورکنگ بائونڈ ری پر چھوٹے بڑے ہتھیاروں سے گولہ باری اور فائرنگ سے 2بچوں سمیت 4افراد شہید ،15کا شدید زخمی ہونا کسی بڑے سانحے سے کم نہیں۔اطلاعات کے مطابق بھارتی سیکورٹی فورسز نے سحری کے وقت سیالکوٹ ورکنگ بائونڈری کے چپراڑ ،ہرپال ،باجرہ گڑھی، چاروا ،اکھنور، معراجکے ،کھرانہ، سرگ پور ،کندن پورہ ظفروال سیکٹروں پر بلا اشتعال فائرنگ و گولہ باری کا سلسلہ شروع کردیا او ر چھوٹے بڑے ہتھیاروں سے سول آبادیوں کو نشانہ بنایا۔ تاہم پنجاب رینجرز کی جانب سے بھارتی سکیورٹی فورسز کی گولہ باری اور فائرنگ پر جوابی کارروائی کی بناء پر بھارتی گنیں خاموش ہوگئیں ۔ پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے بھارتی فورسز کی کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر بلااشتعال فائرنگ پر شدید احتجاج کیا اور کہا ہے کہ بھارتی حکومت سیزفائر کی خلاف ورزی کے موجودہ اور سابقہ واقعات کی تحقیقات کرے۔ ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور بھارتی فورسز کی جانب سے کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں بچوں سمیت 4 افراد کی شہادت پر شدید احتجاج کیا گیا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات اور پڑوسیوں کے ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی آرزو بھارت کی آئے روز کی جارحیت سے خواب بنتا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر اکثر و بیشتر اچانک اور بلا اشتعال گولہ باری بھارت کی تو عادت ہی ہے مگر کنٹرول لائن پر جنگ بندیوں کی خلاف ورزیوں کے بعد بھارت ورکنگ بائونڈری پر بھی معصوم انسانوں اور مویشیوں تک کو نشانہ بنا کر اب یہ ثابت کر رہا ہے کہ ا سے اس قسم کے حملوں اور کشیدگی بڑھانے کے اقدامات کے لئے کسی جواز کی ضرورت نہیں۔ گزشتہ روز کے افسوسناک واقعے کا اگرچہ پاک فوج نے منہ توڑ جواب دے کر بھارتی توپوں کو خاموش کردیا مگر نہتے آبادی کو نشانہ بنانے سے جو بے گناہ افراد شہید و زخمی ہوئے مویشی ہلاک ہوئے ' املاک اور کاروبار اور زراعت کو جو نقصان پہنچا اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ افسوسناک امر تو یہ ہے کہ بھارت نے دونوں ملکوں کے مابین سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کو معمول بنا لیا ہے اور بھارتی فوج بد مستی کے عالم میں جب چاہے اندھا دھند فائر کھول کر نہ صرف سرحدی آبادی کو نشانہ بناتی ہے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں استحکام اور اعتماد پر بھی توپ کے گولے داغ کر ملیا میٹ کرتی ہے جس سے نہ صرف پاکستانی عوام میں بے چینی اور غم و غصہ کی لہر دوڑ جاتی ہے بلکہ خود بھارت کے عوام کو بھی اپنی فوج کی اس حرکت سے شدید اختلاف ہوگا اور ہونا بھی چاہئے۔ خاص طور پر سرحدی علاقے کے عوام کو اس لئے زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں کہ پاکستان کی طرف سے جوابی اقدامات پر ان کا بھی متاثر ہونا فطری امر ہوتاہے۔ سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ بھارت اس قسم کی صورتحال کیوں پیداکرنا چاہتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت کو جب بھی اندرونی طور پر دبائو اور مشکلات کا سامنا ہوتا ہے وہ سرحدی کشیدگی پیدا کرکے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش میں لگ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی طرف سے ہی بار بار سرحدی خلاف ورزی ہوتی ہے جس کا مسکت جواب دینا پاکستان کی مجبوری اور دفاع کا تقاضا ہوتا ہے۔ بھارت ہر بار جنگ کی صورتحال پیدا کرکے خطے کا امن خطرے میں ڈالنے کا باعث بن جاتا ہے۔ اس قسم کی صورتحال میں پاکستان کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ بھی بھارت کو شیر بنا دیتا ہے۔ اگر بھارت کے جواب میں پاک فوج صرف بھارتی فوجی چوکیوں اور فائرنگ کے مقامات ہی کو نشانہ بنانے کی بجائے بھارت کی طرح اندھا دھند فائرنگ سے بھارتی سرحدی علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے خطے میں جنگ چھڑنے کا خطرہ سر پر منڈلانے لگے اس لئے پاکستان کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ ہی سامنے آتا ہے۔ پاکستان نے رسمی احتجاجی مراسلہ دینے اور بھارتی ہائی کمشنر کی طلبی اور احتجاج کا روایتی راستہ ہی اختیار کیا ہے لیکن بھارت کے اقدامات اس قدر گمبھیر اور نا قابل برداشت ہیں کہ محض رسمی احتجاجی مراسلوں سے بھارت اپنی حرکتوں سے باز آنے والا نہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ جہاں سرحدوں پر پاکستانی شہریوں کے تحفظ کے لئے دفاعی اقدامات پر توجہ دے وہاں اس معاملے کو بھارت کے ساتھ مختلف فورمز پر اٹھانے کے علاوہ اقوام متحدہ کی سطح پر بھی اس مسئلے کو اٹھا یا جائے او ر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جائے۔ عالمی برادری کو اس امر کا ادراک ہونا چاہئے کہ اس طرح کی صورتحال سے خطے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے جس کا ذمہ دار بھارت ہوگا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو شہریوں کو بلا جواز نشانہ بنانے، ان کے مویشیوں اور املاک کی بلا وجہ تباہی کے بھارتی اقدامات کی نہ صرف مذمت کرنی چاہئے بلکہ بھارت پر دبائو ڈالا جائے کہ وہ جارحانہ حرکتوں سے باز آجائے۔ خطے کا امن جنوبی ایشیاء میں استحکام کے لئے ضروری ہے اس لئے خطے کے دیگر ممالک کو بھارت کو اس قسم کی احمقانہ حرکتوں سے باز رکھنے میں اپنا کردار اداکرنے کے لئے پوری طرح آگے آنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں