Daily Mashriq


افغانستان ذمہ دار عناصر کیخلاف کارروائی کرے

افغانستان ذمہ دار عناصر کیخلاف کارروائی کرے

نوشہرہ خود کش حملے کی ذمہ داری افغانستان میں موجود ایک تنظیم کی طرف سے لینا اور حملہ آور کی شناخت اور نام کے ساتھ تصویر کا اجراء جس میں حملہ آور کا تعلق افغانستان سے ثابت ہوتا ہے اس امر پر دال ہے کہ افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے جس کی روک تھام کی ذمہ داری افغانستان کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے مراکز کو تباہ نہیں کیاجاتا اور ان کی مرکزی قیادت کو نشانہ نہیں بنایا جاتا اس وقت تک اس قسم کے واقعات کی مکمل روک تھام نہیں ہوسکتی۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ امریکہ پاکستان پر نت نئے قسم کے الزامات لگا کردبائو ڈالنے اور پاکستان میں مبینہ طور پر موجود شدت پسند عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائیاں کرنے کی مسلسل کوشش میں مصروف ہے۔ مگر پاکستان کی جانب سے افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں اور نامی گرامی دہشت گرد کا نام دے کر اس پر پابندی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو امریکہ اسے قبول نہیں کرتا۔ پاکستان نے حال ہی میں اسی تنظیم اور اس کے سربراہ پر پابندی اور ان کے خلاف کارروائی کامطالبہ کیا تھا مگر امریکہ نے اسے تسلیم نہ کیا۔ نوشہرہ کے خود کش حملے میں اسی تنظیم کا اصل چہرہ ایک مرتبہ پھر طشت از بام ہوگیا ہے جس کے بعد امریکہ کو چاہئے کہ وہ اس تنظیم کی پشت پناہی کی بجائے اس پر پابندی اور اس کی قیادت کے خلاف ٹھوس کارروائی کی ذمہ داری نبھائے۔ افغان حکام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود پاکستان کے دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرکے ان کو اس قابل نہ رہنے دے کہ وہ پاکستان میں کسی حملے کی منصوبہ بندی کرسکیں۔

مزید اقدامات نا گزیر ہیں

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ کا ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کے بعد احتجاجی دھرنے کا خاتمہ احسن اقدام ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس معاہدے میں پولیٹکل انتظامیہ نے پانچ اہم مطالبات پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر پولیٹکل ایجنٹ شمالی وزیرستان اور مظاہرین کے نمائندوں نے دستخط کیے ہیں۔معاہدے کے مطابق علاقے میں ہدف بنا کر قتل کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیٹکل انتظامیہ اور پاک فوج کے اہلکار ہر گائوں کی سطح پر مشترکہ گشت کریں گے۔ اس کے علاوہ داخلی اور خارجی راستوں پر مشترکہ اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں ایک ماہ کے دوران دس افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جس میں سابق رکن قومی اسمبلی کا بیٹا بھی شامل تھا۔ٹارگٹ کلنگ کے بیشتر واقعات رات کے اوقات میںکئے گئے اور ان میں مسلح حملہ آوروں نے گھروں کے اندر داخل ہو کر لوگوں کو قتل کیا ۔شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد متاثرین کی واپسی کے لیے تمام لوگوں کو غیر مسلح کر دیا گیا تھا اور وہ اپنا تحفظ آپ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس علاقے میں تعینات خاصہ داروں کے پاس بھی اسلحہ نہیں جس کے باعث وہ بھی عوام کی حفاظت کی ذمہ داری نہتے ہاتھوں کرنے سے قاصر تھے۔ علاوہ ازیں کے مسائل بھی معاہدے کا حصہ ہیں جس کی رو سے مکانات کے معاوضے کے لیے جی او سی نے بذات خود وزیر اعظم، وزارت سیفران اور فاٹا سیکریٹریٹ کے حکام سے رابطہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔شمالی وزیرستان میں شدت پسندی اور فوجی آپریشنز کے دوران متعدد مکانات جزوی اور مکمل تباہ ہوئے ہیں جن کی مرمت اور تعمیر کے لیے حکومت نے تمام متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا۔یہ معاوضہ ایک لاکھ سے چار لاکھ روپے تک طے کیا گیا تھا مگر یہ قلیل رقم بھی بیشتر افراد کو نہیں ملی۔ہم سمجھتے ہیں کہ محولہ صورتحال میں بعض عناصر کے مطالبے پر ختم کی چیک پوسٹوں کو دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ گو کہ یہ کوئی موزوں تجویز نہیں لیکن ایسا کرنے میں حرج اس لئے نہیں کہ علاقے کے عوام کا تحفظ سب سے زیادہ ضروری اور مقدم ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کی ان وارداتوں میں ملوث عناصر جو بھی ہوں اس کے محرکات سے قطع نظر قبائلی علاقہ جات میں استحکام امن کے لئے سخت سے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ جب تک قبائلی علاقوں میں پولیٹیکل انتظامیہ اس قابل نہیں ہوتی کہ وہ عوام کے تحفظ کی ذمہ داری نبھائے فوج سے مدد لینے پر اعتراض کی گنجائش نہیں۔ خاصہ دارفورس کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے اور ان کی تعداد میں اضافے پر بھی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ ان کو امن و امان برقرار رکھنے کے لئے تیار کیاجاسکے۔ متاثرہ افراد کو امداد کی عدم فراہمی اور جزوی امداد دینے کا معاملہ ہی حل طلب نہیں بلکہ جن کے گھر بار تباہ ہوئے ہوں ان کو مزید اور موزوں معاوضے کی ادائیگی کا بھی انتظام کیا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں