Daily Mashriq


''وہ ایک جملہ''

''وہ ایک جملہ''

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے معزول پیشرو میاں نواز شریف کے ''روزنامہ ڈان'' کے ساتھ انٹرویو کے حوالے سے ان کے دفاع کی جو کوشش کی تھی وہ دراصل پاکستان کے عوام کے سامنے اپنے دفاع کی کوشش تھی۔ جب انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کے محض ایک جملہ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے تو وہ دراصل یہ کہہ رہے تھے کہ وہ خود میاں نواز شریف کے اس مؤقف سے متفق نہیں ہیں جو میاں صاحب نے اس جملہ میں اختیار کیا تھا۔ یہ ایک نہیں دو جملے تھے۔ ایک یہ کہ ''کیا ہمیں ان (غیر ریاستی عناصر) کو اجازت دینی چاہیے تھی کہ وہ سرحد عبور کریں اور ممبئی میں 150افراد کو قتل کر دیں۔'' دوسرا جملہ یہ تھا کہ'' اس معاملے کی سماعت انسداد دہشت گردی کی جو عدالت کر رہی ہے وہ سماعت مکمل کیوں نہیں کر سکی؟'' پہلے جملے کا مطلب آسان زبان میں یہ نکلتا ہے کہ ممبئی پر حملہ آور ہونے والے دہشت گردوں کو پاکستان نے سرحد عبور کرنے کی اجازت دی (تاکہ وہ) ممبئی جا کر 150افراد کو قتل کر دیں۔ یعنی یہ کہ ممبئی میں دہشت گرد حملہ کی ذمہ داری پاکستان کی ہے ۔ دوسرا جملہ کہ پاکستانی عدالت اب تک ممبئی واردات کے مقدمے کی سماعت مکمل کیوں نہ کر سکی۔ اس سوال میںبیان یہ مضمر ہے کہ پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی عدالت ممبئی واردات کے مقدمے کو جان بوجھ کر طول دے رہی ہے ۔ پاکستان پر اس بدنیتی کاالزام بھی پہلے الزام کو تقویت دیتا ہے کہ ممبئی واردات کی ذمہ داری پاکستان کی ہے۔ خود میاں نواز شریف کے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے یہ وضاحت کر دی ہے کہ اس معاملہ میں تاخیر کی ذمہ داری بھارت کی ہے جو مطلوبہ بھارتی گواہوں کو پیش نہیں ہونے دے رہا۔ مقدمے کی اس سست روی سے بھارت کا مقصد یہ ہے کہ وہ پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرتا رہے ، خاص طور پر ممبئی واردات کے بارے میں۔ یہ اس سے بھی ظاہر ہے کہ بھارتی گواہوں کے پیش ہونے کے باعث جو حقائق سامنے آ سکتے ہیں وہ بھارت کے الزام کی نفی بھی کرسکتے ہیں ۔ اس لیے بھارت مطلوبہ گواہ پیش نہیں کر رہا۔ (امرناتھ یاترا کے قتل عام اور سمجھوتہ ایکسپریس پر حملہ کی وارداتوں کی رپورٹیں یہ بتاتی ہیں کہ بھارت کے منصوبہ ساز تمام اعلیٰ اقدار کو پامال کر سکتے ہیں)۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی جس ایک جملے کا ذکر کرتے ہیں ، وہی ایک جملہ کہنے کے لیے تو یہ ساری محفل سجائی گئی تھی۔ ڈان کے صحافی کے طیارے کو ملتان ایئر پورٹ پر بروقت اترنے کے لیے سرکاری طور پر احکامات جاری کیے گئے تھے۔ خود ڈان کے صحافی نے لکھا ہے کہ اس نے تو محض یہ سوال کیا تھا کہ ان کے خیال میں انہیں (نواز شریف کو) کیوں نکالا گیا؟ تو خود میاں صاحب گفتگو کو اور ہی طرف لے چلے اور وہ جملہ کہا جو کہنا چاہتے تھے اور چاہتے تھے کہ یہ جملہ روزنامہ ڈان میں شائع ہو جسے سفارتی حلقوں میں بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ پارٹی میں نواز شریف کے جانشین بردار خورد کہہ رہے ہیں کہ جس نے انٹرویو کا بندوبست کیا ہے وہ سب سے بڑا دشمن ہے لیکن جس نے وہ انٹرویو دیا…؟

اس انٹرویو کے ذریعے میاں نواز شریف جو پیغام جہاں پہنچانا چاہتے تھے وہاں پہنچ گیا ہے۔ امریکہ کے دفتر خارجہ کی بریفنگ کے دوران وزیر دفاع ڈانا وہائٹ کو یہ بیان پہنچایا گیا۔ ڈانا وہائٹ نے کہا کہ انہیں پاکستان سے مزید کی توقع ہے اور یہ کہ امریکہ کو توقع ہے کہ پاکستان امن کے قائم رہنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ خبر کا ابتدائی حصہ ہے کہ امریکہ نے کہا ہے کہ ممبئی حملے کے بارے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بیان ملک میں تبدیلی کا نشان ہے۔ اس کے بعد کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر دفاع نے اس امیدکا اظہار کیا کہ پاکستان خطے کے دفاع میں شراکت دار ہو گا اور جنوبی ایشیاء میں امن کی تقویت کے لیے مزید کوشش کرے گا۔ وہ کیا ہے جس کی ڈانا وہائٹ کو پاکستان سے کیے جانے کی توقع ہے ؟ یہ خبر سے ظاہر نہیں ہے۔ بہر حال میاں نواز شریف کاجملہ امریکہ کے دفتر دفاع تک پہنچنے کی شہادت مل گئی ہے۔

ممبئی واردات 26نومبر 2008ء کو ہوئی تھی۔ پہلے دن سے بھارت اور بھارتی میڈیا اس کے لیے پاکستان کو الزام دینے لگے تھے۔ پانچ روز تک بھارتی کمانڈوز کے ساتھ لڑائی میں ایک کے سوا باقی حملہ آور مارے گئے تھے (حالانکہ پانچ دن رات تھکے ہوئے حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکتا تھا) ۔ ایک اجمل قصاب زندہ گرفتار ہوا ۔یہ ایک قیمتی گواہ تھا جو یہ بتا سکتا تھا کہ کس نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھرتی کیا ' کہاں تربیت دی گئی۔ تربیت میں کیا سکھایا گیا ۔ لیکن اسے قید کر کے خفیہ سماعت کے بعد عجلت میں موت کی سزا دے دی گئی۔ پاکستان نے مشترکہ تحقیقات کی پیش کش کی جو منظور نہیں کی گئی ۔ اس وقت کی امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے پاکستان میںکہا ہمارے پاس شواہد ہیں کہ یہ واردات کس نے کی ہے ۔ لیکن وہ شواہد کبھی پیش نہیں کیے۔ امریکی سی آئی اے کا ایک ایجنٹ ڈیوڈ ہیڈلی ان لوگوں کی نگرانی کر رہا تھا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ممبئی حملوں کے سہولت کار تھے۔ بھارتی عدالت میں اس کی گواہی ریکارڈ نہیں کی گئی ۔ ہیڈلی مفرور نہیں تھا امریکہ میں قید تھا ، اس کی گواہی کا بندوبست کیاجا سکتا تھا لیکن نہیں کیا گیا۔ اجمل قصاب اور دیگر حملہ آوروں کو موت کے گھاٹ اُتار کے اہم شہادتیں ضائع کر دی گئیں۔ ڈیوڈ ہیڈلی کو گواہی کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔ پاکستان کی جس عدالت میں ممبئی واردات کا مقدمہ چل رہا ہے بھارت اس عدالت کے سامنے گواہی دینے کے لیے 24افراد کو نہیں بھیج رہا۔ بھارتی حکومت اور میڈیا بھی الزام لگا رہا ہے کہ ممبئی کے حملہ آوروں کو پاکستان نے سرحد پار کرنے کی اجازت دی ۔ میاں نواز شریف بھی یہی کہہ رہے ہیں ، امریکہ کے سابق وزیر خارجہ نے بھی یہی کہا تھا لیکن اس کے لیے شہادتیں یا ثبوت کہاں ہیں۔

متعلقہ خبریں