Daily Mashriq


مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو

ہائے مرگیا۔ کوئی بچاؤ۔ ہائے اف۔ وائی وائی وائی مرگیا۔ وہ قمیص سے اپنے چہرے اور سر کو ڈھانپے اندھا دھند دوڑے جارہا تھا۔ کبھی اس کا پاؤں پھسلتا اور وہ اوندھے منہ گرجاتا۔ گر کر سنبھلتااٹھتا اور ایک بار پھر سراسیمگی کی حالت میں چیختا چلاتا بھاگنے لگتا۔ ارے بھائی کیا ہوا ہے۔ میں نے اس کی دل خراش چیخیں سنیں تو روک کر پوچھنا چاہا۔ مگر وہ تھا کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ بھلا وہ ہماری کسی بات کا کیا جواب دے پاتا۔ کیا ہوا کیوں چلا رہے ہو۔ کہاں بھاگے جارہے ہو۔ مگر وہ بے چارا شامت کا مارا کچھ بھی تو نہ بتا سکتا تھا۔ اس نے اپنا پیچھا کرنے والی شہد کی مکھیوں کی ایک بپھری ہوئی فوج ظفر موج کی طرف اشارہ کیا جو آتش انتقام میں جلتی بھنتی'' ٹھہر تیری ایسی کی تیسی'' قسم کی دھمکی آمیز جملے بولتی اس بے چارے شامت کے مارے کو دن کے وقت تارے دکھانے کا قرض کھائے اس کا پیچھا کر رہی تھی۔ بھئی کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے جو اس قدر قہر آلود بن کر غول در غول پیچھا کر رہی ہو اس بے چارے کا۔ دیکھو تو وہ کتنا گھبرایا ہوا ہے۔ کیا گناہ سر زد ہوگیا اس سے۔ کیا بگاڑا ہے اس نے تم سب کا۔ اگر میں شہد کی مکھی نہ سہی مکھیوں کی 20 ہزار اقسام میںسے کسی بھی قسم کی مکھی یا مکھا ہوتا تو اڑ کر ان کے بپھرے ہوئے غول میں گھس جاتا۔ اور ان سب کی رانی ماں سے پوچھتا کہ کیوں قیامت ڈھارہی ہو اس بے چارے بھاگتے گرتے چیختے چلاتے شامت مارے پر۔ کیا اس نے آپ لوگوں کے شہد کے چھتے کو چھیڑا ہے۔ جس کے جواب میں وہ کہتی'' نہیں!!کسی کی کیا مجال جو ہمارے شہد کے چھتے کو چھیڑ پائے۔ ہم کتنی محنت اور جاں فشانی سے پھول پھول گھوم کر اور ان کا رس چوس چوس کر چھتا تیار کرتی ہیں۔ اس میں شہد اور موم جمع کرتی ہیں۔ اور جو لوگ ہمارے چھتے سے شہد حاصل کرنے کے لگے بندھے اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں ہم اپنا شہد ان کی نذر کردیتی ہیں۔ تو پھر کیا کردیا اس شامت مارے نے جو آپ سب مل کر اس بے چارے پر حملہ آور ہوگئیں۔ کاش میں مکھیوں کی رانی سے پوچھ سکتااور وہ مجھے جواب میں کہتی کہ اس نے بیڑہ غرق کردیا ہے ہمارے فٹبال میچ کا۔ ارے یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔ آپ اور فٹبال۔ میرامطلب ہے آپ فٹبال میچ کب سے کھیلنے لگیں۔ میں مکھیوں کی رانی سے یہ بات حیرت بھرے انداز میں پوچھتا۔ لیکن ایسا کبھی نہ ہوسکتا۔ میں شہد کی مکھیوں کی رانی سے ایسا بے ہودہ سوال اس وقت کرنے یا پوچھنے کا مجاز ہوتا جب مجھے اس بات کا علم نہ ہوتا کہ وہ فٹبال میچ بھی کھیلا کرتی ہیں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ شہد کی مکھیاں فٹبال بھی کھیلا کرتی ہیں۔ تو صاحبو میں آپ کو بتاتا چلوں کہ آج 20 مئی کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں شہد کی مکھیوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس بات کی دھنک جیسے ہی ہمارے کان میں پڑی تو ہم نے ٹھان لی شہد کی مکھیوں کے موضوع پر کالم لکھنے کی۔ موضوعی کالم لکھنے کے لئے مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔ جس کا کسی کو فائدہ پہنچے یا نہ پہنچے کالم لکھنے والے کو ضرور پہنچتا ہے ۔ وہ ایک دم سے شہد کی مکھی بن جاتا ہے اور معلومات کے پنڈورے کھول کھول کر ان سے پھولوں کے رس جیسا مواد اکٹھا کرنے لگتا ہے اور اپنے گنبد ذہن میں لگے چھتے میں اپنے کالم کے قارئین کے لئے شہد تیار کرتا ہے۔ جسے وہ اپنا حاصل مطالعہ کہتا ہے ۔ شہد کی مکھیوں کے متعلق ہم اتنا تو جانتے ہی تھے کہ حدیث نبوی ۖ کے مطابق بہت سارے امراض میں شہد کی افادیت مسلمہ ہے ۔ شہد کی مکھیاں بڑی محنت جان فشانی اوراپنی رانی کی نگرانی میں بڑے منظم طریقے سے شہد تیار کرتی ہیں۔ان میں مزدور یا محنت کش مکھیاں بھی ہوتی ہیں ، ان کے چھتے کی حفاظت کرنے والی عسکری مکھیاں بھی ہوتی ہیں، اور ہڈ حرام مکھیاں بھی موجود ہوتی ہیں ، انسان کی طرح یہ بھی اکیلا رہنا پسند نہیں کرتیں بلکہ ایک سماج یا معاشرہ بنا کر زندگی کے شب و روز گزارتی ہیں ، یہ ہمہ وقت کام کام اور کام کے قائداعظمی اصول پر قائم رہتی ہیں ، اپنے کام سے کام رکھتی ہیں ، اور جو کوئی ان کے کام میں آڑے آتا ہے اس کا حشر شامت کے مارے جیسا کردیتی ہیں ، ان کو رنگوں کی پہچان میں کمال حاصل ہوتی ہے ، اور اپنے دشمن پر حملہ آور ہوتے وقت ہر اس بندے کو اپنے قہر و غضب کا نشانہ بنا دیتی ہیں جس نے ان سے چھیڑ کرنے والے کے کپڑوں کے رنگ جیسے کپڑے پہن رکھے ہوتے ہیں ، بلا کی ذہین واقع ہوئی ہیں شہد کی مکھیاں ، ایک آن لائن حوالہ کے مطابق انکشاف ہوا ہے کہ اگر کوئی اچھا کوچ مل جائے تو شہد کی مکھیاں فٹبال بھی کھیل لیتی ہیں ، کوچ کے حوالہ سے بات یاد آئی ہم ہر سال 20 مئی کو شہد کی مکھیوں کا عالمی دن اس لئے بھی مناتے ہیں کہ اس دن اٹھارہویں صدی کے دوران شہد کی مکھیوں کے مطالعہ کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے والے اینٹن جانساAnton Jansa کی سالگرہ ہوتی ہے اور اسطرح اس دن شہد کی مکھیوں کا عالمی دن منا کر ایک پنتھ دو کاج کے مصداق اس نابغہ روزگار شخصیت کو بھی خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے ۔ بلا کے عالی دماغ ہوتے ہیں شہد کی مکھیوں کی زندگی کا مطالعہ کرنے والے۔ شہد کی مکھیاں صرف شہد اور موم کی پیداوار میں اضافہ کرکے عالمی منڈی میں کروڑوں کا زر مبادلہ کمانے کا باعث نہیں بنتیں ، ان کے موم سے بننے والی شمع جب روشن ہوتی ہے تو پروانے جل کر اپنی جان نثار کردیتے ہیں ۔ جبھی تو کسی شاعر باکمال نے کہا ہے

مگس کو باغ میں نہ جانے دیجیو

کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا

متعلقہ خبریں