Daily Mashriq


سماج سازی میں حصہ ڈالئے

سماج سازی میں حصہ ڈالئے

گو کہ اس طالب علم کی روزی روٹی لکھنے پڑھنے سے بندھی ہے پھر بھی کبھی کبھی ایک دو یا چند دن لکھنے پڑھنے کو جی نہیں کرتا۔ اب بھی یہی صورت ہے۔ حالانکہ سیاست کے میدان میں گرمی موسم سے زیادہ ہے۔ غداری کے فتوے اچھالے جا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی جیسی سنجیدہ سیاسی جماعت بھی وقتی جذبات کے دھارے پر بہہ نکلی۔ یہ اور اس کے علاوہ بھی خبروں کا بازار گرم ہے لیکن کچھ لکھنے کو جی نہیں کرتا۔ پچھلے کئی گھنٹوں سے ''عربی ادب قبل از اسلام'' کے مطالعے میں مصروف ہوں۔ ایک دو نہیں نصف درجن کتابیں سرہانے رکھی ہیں۔ برادرم صفدر زیدی کا ناول ''بھاگ بھری'' بھی انہی کتابوں میں شامل ہے۔ مرحوم احمد فراز کا ایک شعر سماعتوں پر دستک دے رہا ہے۔ وہی جس کا مصرعہ ثانی یہ ہے کہ

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

کل شام دفتر سے گھر واپسی کے سفر کے دوران ویگن والے نے ایک مبلغ کی کیسٹ لگا رکھی تھی۔ برداشت کی حد چھلکنے لگی تو عرض کیا۔ کرایہ لے کر کس بات کی سزا دے رہے ہو؟ جواب ملا' رمضان المبارک ہے بزرگو اللہ اللہ کیا کرو۔ ساتھ والی نشست پر بیٹھے نوجوان طالب علم نے دریافت کیا۔ انکل ! رمضان میں ہی اللہ کو یاد کرنا لازم و واجب کیوں ہو جاتا ہے؟ جی چاہا اس سے کہوں برخوردار ضرورتوں کے پیچھے بھاگتے لوگ خدا کو بھی ضرورت ہی سمجھتے ہیں۔ لیکن عرض یہ کیا' بندہ خود غرض ہوتا ہے اور غرض کے بغیر خدا کو صرف اس وقت یاد کرتا ہے جب ذات کے کرب برداشت سے باہر ہوں یا پھر ارد گرد کے لوگوں کو یہ باور کروانا مقصود ہو کہ میں بہت دیندار ہوں۔

مبلغ کا خطاب زور و شور سے جاری تھا۔ مشاہدے اور مطالعے کے ساتھ مکالمہ کرتے نصف صدی بیت گئی مگر یہ سمجھ نہیں پایا کہ ہمارے مبلغین (تمام مذاہب کے) لوگوں کو احساس ذمہ داری کی طرف متوجہ کیوں نہیں کرتے۔ کیوں وہ لوگوں سے یہ نہیں کہتے کہ برائی میں چھوٹی و بڑی برائی کا امتیاز بذات خود ایک برائی ہے۔ مستحق کی داد رسی' بندہ پروری' بانٹ کر کھانے کی عادت' وقت پر سچ بولنا اور کانٹوں سے دامن بچا کر چلنا بھی نیکیوں میں شمار ہوتا ہے۔زندہ انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ حق بندگی اداکرتا رہے۔ حق بندگی کیاہے۔ اپنے ہونے پر اترانے کے زعم کو پالنے کی بجائے دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا، اپنی خوشیوں اور کھانے میں محروم لوگوں کو شریک کرنا' حق بندگی یہ بھی ہے کہ منافع کم ہو اور مول تول پورا' یہاں تو ہر چیز الٹ ہے' ماہ صیام کے مقدس ایام کے آتے ہی منافع خور جیبیں بڑی کروالیتے ہیں۔رمضان سے ایک دن پہلے ایک پھل 120 روپے درجن تھا یکم رمضان کو وہی 250 روپے درجن۔ یہ ایک مثال ہے' گو اس مہنگائی سے وہ طبقہ متاثر نہیں ہوتا جن کا سارا سال رمضان والی حالت میں ہی گزرتا ہے پھر بھی مہنگائی کا سیلاب بھلا اچھے خاصے لوگوں کو پریشان کرکے رکھ دیتا ہے۔ ایک سفید پوش خاندان کے گھر کے اگر تین سے پانچ افر اد روزہ رکھ لیں تو افطاری ان کے بجٹ کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ سموسہ 30روپے کا ہے' کچوری 50روپے کی' کھجور 70روپے پائو ہے۔ لیموں300روپے کلو۔ ہم دنیا کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے۔ کچھ خوش فہم سارا سال فرماتے رہتے ہیں یورپ کی اخلاقیات اور سماجی روئیے مسلمانوں کا اصل ہیں۔ ارے صاحب! یہ سچ ہے تو مسلمانوں کو کس نے روکا ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاقیات' قابل تحسین سماجی رویوں اور کم منافع پر کاروبار کریں۔ آخر کیوں ہم رمضان المبارک کے 29 یا 30 دنوں میں اتنا منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ سال بھر کی روٹیاں لگ جائیں۔

عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کبھی ہمیں اپنے اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ بحیثیت انسان ہمارے جو فرائض بنتے ہیں ان سے عہدہ برآ کیوں نہیں ہوتے ہے ؟ ۔ سچ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی نفس کے سرکش گھوڑے سے اُترنے کو تیار نہیں ۔ راتوں رات امیر ہونے کی خواہش چین نہیں لینے دیتی ۔ پچھلے برس 20لاکھ پاکستانی مسلمانوں نے عمرہ کیا ۔ ان میں سے 12لاکھ افراد وہ تھے جنہوں نے دو یا اس سے زیادہ بار عمرے کی سعادت حاصل کی ۔ کیامبلغین کا فرض نہیں کہ وہ ان صاحب حیثیت لوگوں کو بتا سکیں کہ عمرہ اورحج ایک ایک بار ہی کافی ہے ۔ اللہ نے استطاعت دی ہے تو خیر کے کاموں میں حصہ ڈالیں ۔ اپنے اپنے خاندان اور گردونواح کے مستحقین کے لئے زندگی کے دروازے کھول کر سعادت حاصل کریں ۔ لگ بھگ 60فیصد لوگ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان میں خط غربت سے نیچے کی زندگی بسر کرتے ہیں زیر دستوں کو بہتر معیار زندگی دینا ریاست پر لازم ہے لیکن اگر صاحبان حیثیت ریاست کے ساتھ مل کر یا اپنی اپنی شہر ی حدود میں انجمنوں کے ذریعے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے عملی اقدام کریں تو زیادہ مناسب رہے گا ۔ ''اخوت''ادارے کی مثال ہمارے سامنے ہے پچھلی شب ایک عالم دین دوست سے عرض کیا حضور ! لوگوں کو سمجھا ئیں کہ سال بھر کی زکوٰة کی رقم سے رمضان المبارک میں خیرات کرنا درست نہیں ۔ زکوٰة کا اپنامصرف ہے ۔ خیرات کا اپنا پس منظر ۔ زکوٰة دیتے وقت بھی عزت نفس کو مجروح نہ کیجئے اورخیرات کے ذریعے لوگوں کوبھکاری نہ بنائیں ۔محترم دوست بولے آپ کی بات تو درست ہے پر اس کا کیا کریں کہ خود پرستیمیں گردن تک دھنسے لوگ سچ سننا نہیں چاہتے ۔ بہت سارے لوگ پھیلے ہوئے ہاتھ دیکھ کرتسکین پاتے ہیں ۔ بہت ادب سے معذرت خواہ ہوں کالم کچھکڑو اکسیلاہوگیا ۔ کم از اکم میری رائے یہی ہے کہ تمام لکھنے والے دوستوں کو چاہیئے کہ گاہے گاہے دوسرے موضوعات سیہٹ کر سماج سازی میں بھی اپنا حصہ ڈالیں تاکہ حق بندگی ادا ہو تا رہے ۔

متعلقہ خبریں