Daily Mashriq


فلسطینی لاشوں پر جشنِ طرب

فلسطینی لاشوں پر جشنِ طرب

عین اس وقت جب بیت المقدس میں ایک عارضی مکان میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا جشن تالیوں اور نائونوش کی محفل کے ذریعے منایا جا رہا تھا صرف چالیس میل کی دوری پر غزہ کی پٹی میں اس محفل کی پرامن انداز میں مخالفت کرنے والے فلسطیینیوں پر اسرائیلی فوج کا قہر وغضب جاری تھا ۔آسمان سے ڈرون ان پر گولوں کی برسات کئے ہوئے تھا اور زمین پر خاک نشین فلسطینی بوڑھے عورتیں اور بچے آہ وبکا میں مصروف لاشوںکو سنبھارہے تھے ۔یہ سب محض اسرائیل کی تنہا کارروائی نہیں تھی بلکہ اس قتل عام کے پیچھے امریکہ کا یک طرفہ فیصلہ تھا ۔دنیا میں دہشت گردی کا ڈھول پیٹنے والا امریکہ فلسطین میں ریاستی دہشت گردی کا سرپرست اور معاون بن کر سامنے آرہا ہے ۔جس کا ثبوت امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کئے جانے اور اس کے افتتاح کے موقع پر فلسطینی عوام کے پرامن احتجاج کو طاقت سے دبانے کی اسرائیلی کوشش ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برسر اقتدار آتے ہی جہاں دنیا میں اتھل پتھل اور بے چینی کو جنم دینے والے کئی اعلانات کئے وہیں ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کرکے پوری مسلمان دنیا میں غم وغصے کی لہردوڑا دی تھی ۔امریکہ ہمیشہ سے اسرائیل کا سرپرست اور اس کے تمام کالے کرتوتوں میں ساجھے دار رہا ہے اس لئے اب امریکہ نے ایک نئی پوزیشن لے کر اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے متنازعہ علاقے میں منتقل کرنے کی حکمت عملی اپنائی ۔جس سے فلسطینی عوام میں بے چینی پیدا ہوگئی۔یہ عالمی ضمیر اور رائے کو نظرانداز کرکے بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرنے کا پہلا قدم ہے ۔یورپ تک نے اس فیصلے میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اعلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا قدم اُٹھانے کا فیصلہ کیا اور عمارت کی افتتاحی تقریب میں تختی کی نقاب کشائی ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے کی جو اس معاملے میں امریکہ اور ٹرمپ کی دلچسپی کا اظہار ہے۔اس موقع پر ہزاروں فلسطینیوں نے جمع ہو کر باڑھ کے قریب پرامن احتجاج کیا مگر اسرائیل کو یہ احتجاج گوارا نہ ہوا اور اسرائیلی فوج نے ڈرون سے شیلنگ کرکے ستر افراد کو شہید جبکہ ہزاروں کو زخمی کردیا۔اسرائیل نے پرامن مظاہرین کو جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے دہشت گرد قرار دیا اور اپنی ریاستی دہشت گردی کو دفاع کا حق کہہ کر دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی صدر بل کلنٹن نے1993کے اوسلو معاہدے میں فلسطینیوں کو جو خواب دکھائے تھے اب ٹرمپ انہی خوابوں کو اپنے اقدامات او ر فیصلوں سے چکنا چور کر رہے ہیں ۔فلسطین کا قضیہ ہی خوابوں کے ٹوٹنے سے شروع ہوا ہے ۔جب فلسطینی عوام حالات سے مایوس ہوجاتے ہیں تو وہ سڑکوں کا رخ کرتے ہیں ۔ وقت نے ثابت کیا کہ امریکہ نے اوسلو معاہدے کا ڈول صرف فلسطین کی عالمی شہرت یافتہ اور مسلمہ قیادت یاسر عرفات کو گھیرنے کے لئے ڈالاتھا ۔امریکہ اوراسرائیل دونوں کو اندازہ تھا کہ دہائیوں تک فلسطین کی مزاحمت اور حریت کی علامت رہنے والے یاسر عرفات اب ڈھلتی چھاؤںہیں ان کو کسی فرضی مفاہمتی عمل کاحصہ بنا کر حریت اور مزاحمت کی لگیسی کو اسرائیلی دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔یاسر عرفات نے معاہدہ تو کر لیا مگر وہ اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹے اور اگر یاسر عرفات جدوجہد اور مزاحمت کو فریز کرنے کا فیصلہ بھی کرتے تو حماس اور اس طرح کی دوسری تنظیمیں اس فیصلے کو فسخ کرنے کے لئے موجود تھیں۔ اس طرح فلسطینیوں کے خوابوں کی راکھ پرگریٹر اسرائیل کی بنیادیں نہ رکھی جا سکیں ۔یاسر عرفات معاہدوں میں بندھ گئے تو حماس نے آگے بڑھ کرمزاحمت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اُٹھالیا۔اب ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات اور فیصلوں نے امریکہ کی ثالث کی حیثیت کوجو پہلے ہی زیادہ غیر جانبدار اور قابل بھروسہ نہیں تھی مزید مجروح کردیا ۔فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سمیت اسلامی اور یورپی ملکوں نے اسرائیل کی طرف سے نہتے عوام پر طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی ۔اقوام متحدہ نے اسے انسانی حقوق کی شرمناک پامالی قرار دیا ۔امریکہ کے فیصلے اور اسرائیل کی جارحیت نے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود بحران اور کشیدگی کو کم کرنے کی بجائے بڑھا دیا ۔جس کا ثبوت القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کا وہ ویڈیو پیغام ہے جس میں کہا گیا کہ امریکہ کے خلاف جہاد لازم ہو گیا ہے۔اس بیان سے القاعدہ کی ڈوبتی ہوئی نبضیں بحال ہونے کا انداز ہ ہورہا ہے ۔امریکہ اپنے اقدامات سے دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے اور پھر دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کی نام پر طاقت کا استعمال کرکے اپنا نیا کردار تلاش کرتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل میں امریکہ اسرائیل اور بھارت کی لائن اختیا رکرکے اپنی عالمی حیثیت کو بری طرح مجروح اورمسخ کرچکا ہے۔

متعلقہ خبریں