Daily Mashriq


قومی سلامتی کے اداروں پر یہ کوئی پہلا حملہ نہیں

قومی سلامتی کے اداروں پر یہ کوئی پہلا حملہ نہیں

ممبئی حملوں کو دس سال ہونے کو ہیں اس دوران حملوں کی ذمہ داری اور ذمہ داران کے متعلق کئی ایک نظریے پیش کیے گئے۔ بھارت نے سارا زور پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے پر صرف کیا لیکن اُس کی بد قسمتی کہ بہت سارے شواہد اس کے خلاف جاتے رہے اور خود بھارت کے اندر سے بھی ایسی آوازیں اٹھیں جس نے بھارت کو اس کا ذمہ دار بتایا لیکن ایسے میں دس سال بعد ایک انوکھا انکشاف پاکستان کے سابق وزیراعظم نے کیا جنہیں عدالتوں نے نااہل قرار دیا اور اُس کے بعد اُنہوں نے ملکی اور قومی وقار کی دھجیاں بکھیرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا اور اسی جوش و جذبے میں ان محترم نے ممبئی حملوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی اور ارشاد فرمایا کہ یہ حملہ آور پاکستان نے بھیجے تھے۔ بات یہ ہے کہ یہ محترم نہ صرف بھارت کے عشق میں مبتلاہیں بلکہ پاک فوج سے ان کی نفرت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور پاک فوج سے ان کی نفرت اس سے کہیں بڑھ کر ہے جتنی ایک پاکستانی بھارتی فوج سے کرتا ہے ۔ وہی بھارت جس کی ہر پالیسی کا مرکزی نکتہ ایک ہی ہوتا ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچائو' اس سے نفرت کرو' وہی بھارت ہمارے سابق وزیراعظم کا محبوب بنا ہوا ہے ۔ میاں صاحب جنہیں فوج کا انتہائی ممنون احسان ہونا چاہیے جس نے اُن کی پر داخت کی انہیں پروان چڑھایا یوں فوج کی انگلی پکڑ کر چلتے چلتے وزارت عظمیٰ تک پہنچے ،مجھے فوج سے بھی گلہ ہے کہ اُس نے اس شخص کی پہچان کیوں نہ کی جو اپنی ذات کے لیے ملک کی عزت کا سودا کر سکتا ہے ۔ اِن محترم کا قومی سلامتی کے اداروں پر یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے وہ تو مشرقی پاکستان میں بھی اپنی ہی فوج کو قصوروار اور قوم کے غدار مجیب الرّحمن کو بے قصور قرار دے چکے ہیں۔ اِن صاحب کی بھارت نوازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اپنے کاروباری مفادات کی خاطر یہ اکثر بھارت کی مدح سرائی کرتے نظر آتے ہیں لیکن اس بار تو انہوں نے حد کر دی کہ وہ الزام جس کا دفاع کرتے کرتے پاکستان نے دس سال گزار دیئے، خود کو عوام کا انتخاب کہنے والے ملک کے ایک سابق وزیراعظم نے اپنی نا اہلیت کا بدلہ لینے کے لیے ملک کی عزت کا سودا کیا۔ یہ یاد رہے کہ اس حادثے میں ایک سوچھیاسٹھ افراد مارے گئے تھے اور ان میں دس افراد نے حصہ لیا نو مارے گئے اور صرف ایک زندہ بچا۔ زندہ بچ جانے والے اجمل قصاب کو بھارت نے پھانسی کی سزا دی اور ایک نکتہ نظر کے مطابق جلد بازی میں دی تاکہ ثبوتوں کو ختم کیا جائے۔ بھارت کے اندر سے بھی کئی لوگوں نے اس واقعے کو بھارت کی اندرونی سازش کہا تھا لیکن ہمارے سابق نا اہل وزیراعظم اس بات کا الزام پاکستان کو دے رہے ہیں جبکہ نواز شریف نے بھارت کے جاسوس کلبھو شن کے خلاف کبھی ایک لفظ نہیں بولا اپنی رائے تک نہیں دی۔ بھارت جو اپنے ہاں ہونے والی ہر دہشت گردی یہاں تک کہ بقول بعضے اپنے ہاں سڑک پر ہونے والے حادثے کا ذمہ دار بھی پاکستان کوقرار دیتا ہے اس کے منہ میں ہم ایک اور بات رکھ دیتے ہیں ایک اور الزام اسے خود پکڑا دیتے ہیں کہ یہ بھی ہم پر لگائو ۔بھارت سے محبت کا یہ عالم ہے کہ مسلمانوں کے قاتل بھارتی وزیراعظم مودی سے ذاتی دوستی قائم کی گئی۔ اپنے لیے تجارتی شریک بھارت میں ڈھونڈے، تجارتی شریک پر اعتراض نہیں قومی مفادات کے سودے پر ہے ۔ کارگل پر متنازعہ بیانات بھی نواز شریف کا ہی کریڈٹ ہے یہی نوازشریف جب لندن جاتے ہیں تو بھارتی سفارت خانے کی زیارت پر ضرور جاتے ہیں اسرائیلی سفارت خانہ بھی اِن کی پسندیدہ اور رازونیاز کی جگہ ہوتی ہے اور وہ وہاں کے سینئر ترین افسران سے ملاقات فرماتے ہیں اور انہیں اُس وقت اُس ووٹ کی اہمیت اور حرمت کا کوئی خیال نہیں ہوتا ،کسی فوجی جنر ل سے اُن کا ذاتی اختلاف یا دشمنی بھی قبول ہے لیکن اس ادارے کو یوں نشانہ بنانا ہر گز جائز نہیں۔وہ جس امن کو قائم کرنے کے دعوے کرتے پھرتے ہیںاس کے قیام کے لیے ان فوجیوں کی قربانیوں سے تو دشمن کو بھی انکار نہیںلیکن اپنے ہی ملک میں مختلف ناموں سے ان کا مذاق اُڑایا جا تا ہے شرپسندوں کے آگے کھڑے قوم کے قابلِ فخر جوانوں کو خلائی مخلوق اور معلوم نہیں کیا کیا کہہ کر بلایا جاتا ہے۔ سیاستدان اپنے پھیلائے ہوئے گند کو جب سمیٹ نہیں پاتے تو فوج کو حکم دیا جاتا ہے اور فوج اُسے صاف کرنے کے لیے اپنا طریقہ کار اختیار کرتی ہے تو اُس پر ہزاروں الزامات لگا دیئے جاتے ہیں۔ پھر ایک اجلاس بُلایا جاتا ہے اور پوری مشینری اپنے قائد کے بیانات کے لیے مختلف توجیہات اور معانی تلاش کرتی ہے۔جمہوریت کے گُن گانے والے یہ رہنما جمہوریت سے یہی مراد لیتے ہیں کہ جو چاہو کہہ لو یہ نہیں کہ یہ عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی نظام حکومت ہے لیکن یوں قومی اور قومی سلامتی کے اداروں اور ملکی وقار پر حملوں کا روا ج بند ہو جانا چاہیے اور اس کی اجازت کسی کو نہیں ہونی چاہیے کہنے والے توکہہ جاتے ہیں لیکن ملک کونئی مصیبت میں ڈال دیتے ہیں۔ نواز شریف نے تو جو فرمانا تھا فرما لیا لیکن پوری دنیا سے پاکستان پر انگلیاں اُٹھ گئیں اور بھارت کی حکومت اور میڈیا نے تو جشن منایا انہیں تو ان ایک سوچھیاسٹھ افراد کا خون بھی بھول گیا بلکہ اس کی قیمت ادا ہو گئی۔ میاں صاحب! نااہلی اتنی بڑی بات نہیں تھی لیکن جب تاریخ آپ کے بارے میں اپنے الفاظ کا چنائو کرے گی تو وہ تکلیف نااہلی کی تکلیف سے بہت زیادہ ہوگی ورنہ تو آزمائش شرط ہے۔

متعلقہ خبریں