Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت عطاء ارزق کو ان کی بیوی نے دودرہم دیئے کہ اس کا آٹا خرید کر لادیں ۔ جب آپ بازار کو چلے تو راستے میں ایک غلام کو دیکھا کہ کھڑا رورہا ہے ۔ اس سے وجہ پوچھی تو اس نے کہا : میرے آقا نے دودرہم سودے کے لئے دیئے تھے ، وہ مجھ سے کھو گئے ، اب وہ مجھے مارے گا ۔۔۔ حضرت عطا نے دونوں درہم اسے دے دیئے اور شام تک نماز میں مشغول رہے اور انتظار کرتے رہے کہ کچھ ملے ، مگر کچھ میسر نہ آیا ۔ شام ہوئی تو اپنے ایک دوست بڑھئی کی دکان پر بیٹھ گئے ۔ اس نے کہا : یہ کھورا لے جائو ، تنور گرم کرنے کی ضرورت ہو تو کام آئے گا اور کچھ میرے پاس نہیں ، جو آپ کی خدمت کروں ۔ آپ وہ کھورا ایک تھیلے میں ڈال کر گھر تشریف لے گئے اور دروازے ہی سے تھیلا گھر میں پھینک کر مسجد تشریف لے گئے اور نماز پڑھ کر بہت دیر تک بیٹھے رہے تا کہ گھر والے سو جائیں اور ان سے جھگڑا نہ کریں ۔ پھر گھر آئے تو دیکھا کہ گھر والے روٹی پکارہے تھے ۔ فرمایا ، آٹا کہاں سے ملا؟ کہنے لگے وہی ہے جو آپ تھیلے میں لائے تھے ،ہمیشہ اسی شخص سے خرید کر لایا کریں ، جس سے آج خریدا ہے ، بہت اچھا آٹا ہے ۔ فرمایا : خدا نے چاہا تو میں ایسا ہی کروں گا ۔ صدقے کی برکت کا نتیجہ ہے کہ مشکل حل ہوگئی ۔

(بحوالہ سخی لوگ)

مورخین لکھتے ہیں ، امام ابو حنیفہ سے ایک شخص نے 20ہزار روپے قرض لیا اور مدت متعین کردی کہ ایک سال میں ادا کروں گا ۔ مدت گزر گئی ۔ جب وقت گزر گیا اور نہ ادا کیا تو وہ امام ابو حنیفہ سے کترانے لگا کہ سامنے آئوں گا تو شرمندگی ہوگی ۔ ایک بار اس نے امام ابو حنیفہ کو دیکھا کہ آرہے ہیں تو ایک گلی میں گھس گیا تاکہ سامنا نہ ہو ورنہ مجھے شرمندہ کریں گے ۔ اما م ابو حنیفہ بھی اس گلی جا گھسے اور جا کر پیچھے سے دامن پکڑ لیا اور کہا : ''بھائی تو نے تعلقات کیوں خراب کئے ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو تم نے بیس ہزار لئے تھے ، وہ دینے کے لئے نہیں ہیں ، اس لئے شرمندہ ہو ۔ میں نے تمہیں معا ف کیا''۔ اما م ابو حنیفہ نے بے شمار لوگوں کو اسی طرح قرضے معاف کئے ۔ انہی صدقات اور حاجت مندوں پر دولت لٹانے کی برکت تھی کہ امام ابو حنیفہ کے مال میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہو رہی تھی ۔ امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز نے وفات کے وقت گیارہ لڑکے چھوڑے تھے ۔ ان کا کل ترکہ سترہ دینا ر تھا ۔ پانچ دینار ان کے کفن پر صرف ہوئے ، دو دینار سے قبر کے لئے زمین خریدی گئی ، باقی رقم گیارہ لڑکوں میں تقسیم ہوئی ۔ ہر لڑکے کے حصے میں انیس انیس درہم آئے ۔ خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے بھی گیارہ لڑکے چھوڑے تھے ۔ ان میں سے ہر ایک کو دس دس لاکھ درہم ملے ، لیکن بعد میں دیکھنے والوں نے دیکھا کہ عمر بن عبدالعزیز کے ایک لڑکے نے ایک دن میں سو گھوڑے جہاد کے لئے دیئے اور ہشام کے ایک لڑکے کو لوگ صدقہ دے رہے تھے اور وہ مسجد کے دروازے پر بھیک مانگ رہا تھا ۔

(خزینہ )

متعلقہ خبریں