Daily Mashriq


چینی باشندوں سے شادیوں کا معاملہ: نکاح نامے کی تصدیق کیلئے لڑکی کا عدالت سے رجوع

چینی باشندوں سے شادیوں کا معاملہ: نکاح نامے کی تصدیق کیلئے لڑکی کا عدالت سے رجوع

چینی باشندوں کی پاکستانی لڑکیوں سے شادیوں میں دیگر مسائل کے بعد قانونی پیچیدگیاں بھی سامنے آنے لگیں اور لاہور ہائیکورٹ میں نکاح نامے کی تصدیق سے متعلق دائر درخواست پر عدالت نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور وزارت خارجہ سے جواب طلب کرلیا۔

جسٹس سردار احمد نعیم نے چینی لڑکے سے شادی کرنے والی پاکستانی لڑکی کومل شہزادی کی درخواست پر سماعت کی، یہ درخواست دفتر امور خارجہ کی جانب سے چینی باشندوں سے شادی کرنے کے بعد جوڑوں کے نکاح نامے کی تصدیق نہ کرنے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

درخواست گزار کی جانب سے میاں وحید اور جنید غفور ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت عالیہ نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ایف آئی اے اور وزارت خارجہ سے جواب طلب کرلیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ وزارت خارجہ کی جانب سے جوڑوں کے نکاح نامے کی تصدیق نہیں کی جا رہی ہے اور ایف آئی اے نے امور خارجہ کو نکاح نامے کی تصدیق کرنے سے روک رکھا ہے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت چینی باشندوں کے ساتھ شادی کرنے پر دفتر امور خارجہ کو نکاح نامے کی تصدیق کا حکم دے۔

اس سے قبل 17 مئی 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے چینی باشندوں سے شادی کرنے والی مسلمان اور مسیحی لڑکیوں کی تحفظ کے لیے دائر کردہ درخواست سماعت کے لیے منظور کی تھی۔

جسٹس سردار نعیم احمد نے صائمہ تبسم اور شبانہ عاشق کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے اسے منظور کیا تھا۔

مذکورہ درخواست میں مدعی نے وزارت خارجہ، چیف سیکریٹری پنجاب اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر کو فریق بنایا تھا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پاک چین دوستی کو بدنام کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر پاک چین شادیوں کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔

چینی نوجوانوں کی پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادیوں کا معاملہ

خیال رہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے اس طرح کی خبریں سامنے آرہی ہیں کہ چینی شہری پاکستانی لڑکیوں سے مبینہ طور پر جعلی شادیاں مبینہ طور پر انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہیں اور پاکستانی لڑکیوں کو سرحد پار لے جاکر زبردستی جسم فروشی کروائی جاتی اور ان کے اعضا فروخت کیے جاتے۔

اس معاملے پر ایف آئی اے کی جانب سے ایکشن لیا گیا تھا اور انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے درجنوں چینی باشندوں کو گرفتار کیا تھا۔

تمام صورتحال پر اسلام آباد میں چینی سفارتخانہ بھی حرکت میں آیا تھا اور انہوں نے 2 الگ الگ بیان جاری کیے تھے، پہلے بیان میں غیر قانونی شادیوں کے حوالے سے رپورٹس کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'چین، پاکستان کی حکومت اور قانونی نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر غیر قانونی شادیوں میں ملوث افراد کو تلاش کررہا ہے'۔

تاہم 10 مئی کو جاری ایک اور بیان میں چین نے اپنے باشندوں کی جانب سے شادی کے بعد پاکستانی لڑکیوں سے زبردستی جسم فروشی کروانے اور ان کے اعضا فروخت کرنے سے متعلق خبریں مسترد کردی تھیں۔

پنجاب میں ایف آئی اے نے اب تک 39 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جس میں زیادہ تر چینی باشندے ہیں جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو چین اسمگل کرکے مبینہ طور پر جسم فروشی کروانے اور ان کے اعضا فروخت کرنے کے لیے جعلی شادیوں سے متعلق کیس میں 6 لڑکیوں کو بھی بازیاب کروایا گیا تھا۔

یہ گرفتاریاں اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد میں کی گئیں، جہاں ایف آئی اے نے چینی گینگ کے مقامی سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا، یہ گرفتاریاں ہیومن رائٹس واچ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ خواتین اور لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کی حالیہ رپورٹس پر پاکستان کو پریشان ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں