Daily Mashriq


پاکستانی ہنرمندوں کے لیے جاپان میں ملازمتوں کے مواقع

پاکستانی ہنرمندوں کے لیے جاپان میں ملازمتوں کے مواقع

اسلام آباد: پاکستانی ہنرمندوں کے جاپان میں روزگار کے سلسلے میں دونوں ممالک اپنے تعاون کا دائرہ وسیع کررہے ہیں۔

جاپان کو اس وقت مزدوروں کی سخت کمی کا سامنا ہے جس پر جاپانی حکومت نے خصوصی مہارت اور قابلیت کے حامل غیر ملکی انسانی وسائل کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں خصوصی ہنرمند کارکنان کے لیے ایک نیا ’اسٹیٹس آف ریزیڈینس‘ یا رہائشی حیثیت تشکیل دی گئی ہے جو یکم اپریل سے نافذ ہوچکی ہے۔

اس کے لیے جاپانی حکومت نے ’امیگریشن کنٹرول ایکٹ‘ میں ترمیم کی اور جاپان میں غیر ملکی کارکنان کی رہائش قبول کرنے کے لیے جامع اقدامات اٹھائے ہیں۔

اس کے تحت جاپان کا آئندہ 5 سال کے عرصے میں 3 لاکھ 40 ہزار ہنرمند افراد کو ملازمت دینے کا ارادہ ہے۔

اسلام آباد میں جاپانی سفارت خانے میں ترقیاتی و اقتصادری شعبے کے سربراہ یوجی توکیتا کا کہنا تھا کہ ’جاپان میں پاکستانیوں کو مواقع فراہم کرنے کے سلسلے میں اسٹیک ہولڈرز نے دلچسپی ظاہر کی ہے اور میں نے ان مواقع کی تلاش کے سلسلے میں وزارت خارجہ، وزارت تعلیم، نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کمیشن اور شعبہ اقتصادی امور سے بات چیت کی ہے‘۔

حکام کے مطابق جاپانی حکومت اس ضمن میں فلپائن، کمبوڈیا، منگولیا، میانمار اور نیپال کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرچکی ہیں جبکہ ویت نام کے ساتھ سمجھوتہ طے ہونے کے قریب ہے۔

اس کے ساتھ پاکستان اور جاپان کے درمیان بھی فروری میں ٹیکنیکل انٹرن ٹریننگ پروگرام کے سلسلے میں ٹوکیو میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔

یہ دونوں حکومتوں کے درمیان پہلا باضابطہ سمھجوتہ تھا جس سے پاکستانی کارکنان کے لیے جاپانی مارکیٹ کھلیں گی۔

یہ میمورنڈم دونوں ممالک کے دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے اور پاکستان کے انسانی وسائل اور اقتصادی ترقی میں اہم ترین کردار ادا کرے گا۔

یوجی توکیتا کا کہنا تھا کہ انٹرن ٹریننگ پروگرام اسکلڈ ورکر پروگرام سے مختلف ہے اور یہ نجی شعبے میں پاکستانی اور جاپانی کمپنیوں کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرے گا۔

جاپانی حکام کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستانی قابلیت کو خصوصی جاپانی کمپنیاں اور کاروباری افراد زیادہ سراہیں گے۔

اس سلسلے میں جاپان میں ملازمت کی غرض سے جانے والے تمام ہنرمند کارکنان کو کمپنی کے ساتھ ملازمت کے معاہدے پر دستخط کرنے سے قبل مہارت اور جاپانی زبان کا امتحان پاس کرنا ہوگا۔

جاپانی حکام کے مطابق ایک ہنر مند شخص صرف 5 سال تک کے لیے جاپان میں رہ سکے گا تاہم اسے اپنے اہلِ خانہ کو بلانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

متعلقہ خبریں