Daily Mashriq

وزیراعظم کا پشاور میں خطاب

وزیراعظم کا پشاور میں خطاب

صوبائی دارالحکومت پشاور میں شوکت خانم ہسپتال کی فنڈریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے قبائلی اضلاع میں نئے نظام کو متعارف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا نظام قبائلی عوام کے رہن سہن‘ رسم ورواج سے متصادم نہیں ہوگا نہ ہی جرگہ سسٹم کو ختم کیا جارہا ہے بلکہ جرگہ کو اس میں مرکزی حیثیت حاصل ہوگی اور عوام کی مشاورت سے مسائل حل کئے جائیں گے۔ کوشش ہے کہ نئے نظام سے قبائلی طرززندگی زیادہ متاثر نہ ہو‘ نیا اور پرانا قبائلی نظام ایک ساتھ چلے گا۔ انہوں نے موجودہ معاشی اور اقتصادی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو چلانے کیلئے اسی قوم سے پیسہ اکٹھا کیا جائے گا۔ کراچی کے سمندر سے گیس ملنے کی اُمید ہے‘ خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کیخلاف ڈاکٹرز مہم چلا رہے ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔ جہاں تک قبائلی علاقوں میں نئے اور پرانے نظام کو ایک ساتھ چلانے کا تعلق ہے اس پر اگرچہ زیادہ تفصیل کیساتھ اظہار خیال موجودہ صورتحال میں اگر ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے کیونکہ جب تک بقول وزیراعظم نئے نظام کے خدوخال سامنے نہیں آجاتے اس پر تبصرہ آسان نہیں ہے تاہم صدیوں سے قائم قبائلی نظام کی جڑیں جس طرح وہاں کی معاشرت میں بہت گہرائی تک موجود ہیں ان کو اتنی آسانی سے ختم یا تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ قبائلی باشندوں کی سرشت میں اپنی روایات کے برخلاف کسی بھی تبدیلی کو قبول کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اب یہ تو نیا اور پرانا قبائلی نظام جب ایک ساتھ چلنے کی نوبت آئے گی تب پتہ چلے گا کہ مجوزہ نظام کوئی ملغوبہ ہے یا پھر اس کی شکل وصورت قابل قبول حد تک واضح ہے‘ کیونکہ تبدیلی کا جہاں تک تعلق ہے کوئی بھی معاشرہ جب ارتقاء کے منازل طے کرتا ہے اور تبدیلیوں کے عمل سے گزرتا ہے تو قدامت پرستوں اور جدت پسندوں کے بیچ ایک طرح کی کھینچا تانی ضروری ہوتی ہے۔ بہرحال دعا ہے کہ جس نئے نظام کی بنیادیں پرانے قبائلی نظام کے ’’کھنڈرات‘‘ پر استوار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں وہ قبائلی معاشرے اور عوام کیلئے بہتر نتائج کا باعث بنے اور اس کو وہاں کے عوام سندقبولیت عطا کرنے میں بخل سے کام نہ لیں تاکہ تبدیلی کا یہ عمل آسانی سے مکمل ہو سکے اور لوگ خوشدلی سے آنے والے نظام کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں۔ جہاں تک موجودہ معاشی اور اقتصادی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم کے اس عزم کا تعلق ہے کہ وہ اسی قوم سے پیسہ اکٹھا کریں گے تو وہ تو حکومت سنبھالنے کے بعد ہی سے روبہ عمل لایا جا رہا ہے حالانکہ حکومت میں آنے سے پہلے عمران خان اور ان کے ساتھی جس طرح ملک کو لوٹنے والوں سے مبینہ خورد برد کی ہوئی رقم واپس لیکر قومی خزانے میں واپس جمع کرانے‘ بیرون ملک مقیم سمندر پار پاکستانیوں سے بھاری مقدار میں سرمایہ کاری حاصل کرکے ملکی معیشت کو درست کرنے‘ کروڑوں نوکریاں دینے کے وعدوں کیساتھ حکومت سنبھالنے کے اگلے ہی ہفتے لوٹی گئی مبینہ دو سو ارب ڈالر واپس لانے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔ وہ سب وعدے خواب اور سراب بن چکے ہیں جبکہ الٹا عوام پر مہنگائی کا جو عذاب مختلف شعبوں میں ٹیکسوں پہ ٹیکس لگا کر مسلط کیا جا رہا ہے اس سے وزیراعظم کے اس دعوے کی اب تصدیق ضرور ہوتی ہے کہ وہ پیسہ قوم سے ہی اکٹھا کرکے دکھائیں گے اور اگر صورتحال یہی رہی تو ا ن کا دعویٰ پورا ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی، البتہ عوام کی چیخیں عرش کو ضرور ہلا دیں گی۔ کراچی کے سمندر سے تیل ملنے کی امیدیں تو اب خاک ہو چکی ہیں کہ آج اتوار ہی کے دن اخبارات میں خود وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم کا جو تازہ بیان شائع ہوا ہے اس کے مطابق کراچی کے قریب گہرے سمندر میں ڈرلنگ کے دوران تیل وگیس کے ذخائر نہیں مل سکے تاہم حیرت ہے کہ اپنے مشیر کے اس بیان کا وزیراعظم کو بروقت علم نہ ہوسکا اور وہ اب بھی تیل کے ذخائر ملنے کے دعوے کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے حوالے سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اصل حقائق پر پردہ ڈال کر وزیراعظم کو جو اطلاعات فراہم کی جا رہی ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ ڈاکٹروں اور صوبائی حکومت کے ماتحت انتظامیہ کے مابین یہ کھچڑی آج سے نہیں پک رہی ہے بلکہ گزشتہ تحریک انصاف دور سے ہی ڈاکٹروں کو جو تحفظات ہیں ان کی بازگشت ماضی یعنی پرویز خٹک حکومت کے وقت سے ہی سنائی دیتی رہی ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ اس معاملے میں زور زبردستی کوئی فیصلہ مسلط کرنے سے گریز کرتے ہوئے کھلے دل کیساتھ مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے کیونکہ بہرحال اس کا عام لوگوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے اور اب تو پشاور بار کونسل نے بھی ڈاکٹروں کے مطالبات کی حمایت کردی ہے اس لئے عقل وفہم کا تقاضا ہے کہ رعونت اور ذاتی انا کو تج کر مسئلے کو حل کیا جائے۔

متعلقہ خبریں