Daily Mashriq

آرمی چیف کا عزم بالجزم

آرمی چیف کا عزم بالجزم

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہم کسی بھی غیر متوقع صورتحال کیلئے تیار ہیں‘ اسی طرح مشرقی سرحد پر بھی چوکس ہیں‘ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پاک افغان سرحد داداتوئی شمالی وزیرستان میں اگلی چوکیوں کا دورہ کیا جہاں یکم مئی کو سرحد پار سے دہشتگرد حملے میں پاک فوج کے 3جوان شہید ہوگئے تھے۔ آرمی چیف کو پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے اور آپریشن کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور سماجی ترقی اور ٹی ڈی پیز کی بحالی سے بھی آگاہ کیا گیا۔ آرمی چیف نے علاقے میں استحکام کیلئے کردار ادا کرنے پر جوانوں کے بلند حوصلوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان مفاہمتی عمل کی کامیابی اور خطے میں امن کیلئے مثبت کردار جاری رکھے گا۔ ہم کسی بھی غیرمتوقع صورتحال کیلئے تیار ہیں‘ اسی طرح ہم مشرقی سرحد پر بھی چوکس ہیں اور پیشہ ورانہ تربیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آرمی چیف کا دورہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب پاک فوج کے جوان پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی اپنی سرگرمیوں کو آخری مراحل سے گزار رہے ہیں جس کا مقصد سرحد پار سے کسی بھی دہشتگردی کو روکنا مقصود ہے جبکہ اس کیساتھ ہی یہ جو افغان انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کی سرزمین سے افغان سر زمین پر مبینہ دہشتگردی کے واقعات کے حوالے سے الزامات عائد کئے جاتے ہیں ان سے ہمیشہ کیلئے گلوخلاصی کرنا ہے‘ مگر ایسا لگتا ہے کہ کچھ قوتیں ایسا نہیں چاہتیں کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگا کر اسے دہشتگردوں کیلئے ناقابل عبور بنا دیا جائے۔ اب کس کے پیچھے کونسی قوتیں ہیں اگرچہ پوری دنیا جانتی ہے مگر پاکستان نے اس حوالے سے بھی مصلحت سے کام لیا ہے اور خاموشی کیساتھ باڑ لگانے میں پاک فوج کے جوان مصروف ہیں تاکہ پاکستان کی سرحدوں کو زیادہ محفوظ بنا لیا جائے۔ تاہم اسی مہینے کے پہلے ہی روز دہشتگردوں نے پاک فوج کی چوکی پر حملہ کرکے تین جوانوں کو شہید کردیا تھا جبکہ دہشتگردوں کو جوابی حملے میں جہنم واصل کرنے میں پاک فوج نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور ثابت کر دیا کہ مادر وطن کی حفاظت کیلئے وہ اپنی جان کی بازی لگانے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرتے۔ اس لئے پاکستان دشمنوں کو واضح پیغام دیدیا گیا تھا کہ وہ اپنے مذموم مقاصد سے باز رہیں۔ آرمی چیف کے دورے سے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کے حوصلے یقینا بلند ہوگئے ہیں اور انہیں احساس ہوگیا ہے کہ پوری قوم ان کی پشت پر موجود ہے اور قوم ان کے جذبات اور قربانیوں کی قدر کرتی ہے۔

وزیراعلیٰ کا صائب فیصلہ

سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے خاتمے کیلئے حکومت نے مذاکرات کا فیصلہ کرکے درست سمت میں مثبت قدم اٹھایا ہے۔ وزیراعلیٰ نے منگل کے روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں خیبر پختونخوا کے ڈاکٹرز کونسل کے نمائندوں کو طلب کر لیا ہے تاہم اجلاس سے قبل ہسپتالوں میں ہڑتال واپس لینے کی تاکید بھی کردی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹروں نے چند روز پہلے ایک مسئلے پر جس میں ایک سینئر ڈاکٹر اور صوبائی وزیر صحت کے علاوہ وزیراعظم کے ایک کزن آمنے سامنے تھے جبکہ حکومت کی محکمہ صحت میں چند اصلاحات پر بھی فریقین میں اختلافات کی بنیاد پر نوبت ڈاکٹروں کے صوبائی بنیاد پر سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال پر منتج ہوئی جس سے عوام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اگرچہ سرکاری ترجمان صوبائی وزیراطلاعات نے ڈاکٹروں سے بلیک میل نہ ہونے اور ان کیخلاف سخت اقدامات کا اعلان بھی کیا جس کے بعد کے ٹی ایچ میں سیکورٹی اہلکار اور بکتربند گاڑیوں کے پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں اور گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے بھی پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران صوبائی وزیراعلیٰ کو ڈاکٹروں کیساتھ مذاکرات کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد صورتحال میں مثبت تبدیلی کے اشارے واضح ہونے لگے ہیں۔ اس موقع پر ہم ہڑتالی ڈاکٹروں سے بھی یہی گزارش کریں گے کہ وہ مذاکرات کا ماحول خوشگوار بنانے کیلئے کم ازکم او پی ڈی کھولنے اور مریضوں کو ایمرجنسی کور دینے پر توجہ دیں‘ اس سے صورتحال پر مثبت اثرات پڑیں گے اور مذاکرات کا عمل خوشگوار ماحول میں مکمل ہونے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ ہم صوبائی حکومت سے بھی گزارش کریں گے کہ مذاکرات کے دوران فریق دوم کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے اور اس کے جائز مطالبات کو صرف اس لئے رد نہ کیا جائے کہ حکومت کسی کے آگے جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ ظاہر ہے مذاکرات ہوتے ہی اس لئے ہیں کہ معاملات اور مسائل کو حل کرنے کیلئے دونوں فریقوں کو کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحبان وزیر صحت کے استعفیٰ کے مطالبے کو ترک کردیں اور صوبائی حکومت کسی سے بلیک میل ہونے کے بیانیہ سے پیچھے ہٹ جائے کہ مذاکرات میں سخت شرائط سے گریز ہی بہتر نتائج پیدا کرتا ہے۔ امید ہے مریضوں کی حالت زار پر دونوں فریق کسی قابل قبول اور قابل عمل سمجھوتے پر متفق ہوجائیں گے۔

متعلقہ خبریں