Daily Mashriq

آ عندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں

آ عندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک‘ پشتو زبان کا ایک مشہور مقولہ ہے کہ جس کے ملنے میں رات پوری پڑی ہو اس بلا سے کیا ڈرنا‘ اسی لئے تو حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن شوق پورا کر لے ان کا احتجاج بے معنی ہوگا۔ حکومتی ترجمان کی یہ بات ہوا میں تیر چلانے کا شوق نہیں بلکہ یہ جو ہر جانب سے کان پڑی آواز سنائی نہ دینے والی کیفیت کو جنم دینے کا ہنگامہ بپا ہے اور ہر جماعت اپنی اپنی بولی بول کر احتجاج ریکارڈ کرا رہی ہے اسی کے ردعمل میں جوابی حملہ کیا گیا ہے۔ بات کچھ کچھ سمجھ میں آبھی رہی ہے اس لئے کہ وہ جو کسی زمانے میں نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم حکومت مخالف تحریکوں کو منظم کرکے سیاسی طور پر تمام جماعتوں کو ایک صف میں لاکھڑا کر دیتے تھے اب وہ صورتحال کہاں یعنی بقول انشاء اللہ خان انشاء

ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی

مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی

بلاول زرداری نے اگرچہ اتوار 19مئی (جب یہ کالم تحریر کیا جا رہا ہے) اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو افطار ڈنر پر مدعو کر رکھا ہے تاکہ حکومت کیخلاف کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر تبادلۂ خیال کیا جائے اور ان سطور کے شائع ہونے تک اس حوالے سے ممکن ہے کوئی اطلاع بھی میڈیا پر آجائے کہ افطاری اور ڈنر کے ہنگام کیا کیا مشاورت ہوئی تاہم سیاسی رہنماؤں کے تیور جس بات کی غمازی کر رہے ہیں اس سے نہیں لگتا کہ یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھنے کو تیار ہو جائے گا کیونکہ مختلف رہنماؤں کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو ہنوز دلی دور است والی کیفیت واضح ہو کر سامنے آرہی ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بیان دیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کی احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے۔ مزید فرماتے ہیں حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کر لے معاشی مسائل کا راستہ ہم بتا دیں گے۔ اس سے پہلے موصوف نے ایک اور بیان میں کہا تھا کہ عید کے بعد مہنگائی کیخلاف تحریک چلائیں گے اور اسی پر تو ہم نے کالم کے آغاز ہی میں پشتو ضرب المثل کا تذکرہ کیا تھا۔ دراصل سراج الحق کو اپنے پیشرو قاضی حسین احمد کی تقلید کرنے کا بہت شوق ہے جو ایک ہی للکار سے ایوانوں پر لرزہ طاری کر دیتے تھے کہ ’’ظالمو قاضی آرہا ہے‘‘ مگر کہاں قاضی مرحوم کہاں۔۔۔ جانے دیجئے۔

نوابزادہ نصراللہ خان اور بلاول کا موازنہ کیوں نہ کرلیں کہ نوابزادہ صاحب جیسے سن رسید‘ گرگ باراں دیدہ اور تجربہ کار سیاسی رہنماء کا کمال یہ تھا کہ سخت مخالفین کو بھی ایک ہی صف میں لاکھڑا کرکے محمود وایاز کی داستان دہرا دیتے تھے جبکہ بلاول بے چارے کو اس مقام تک پہنچنے میں ابھی نصف صدی کا سفر طے کرنا ہے۔ رہ گئی بات مسلم لیگ (ن) کی تو حکومت کیخلاف احتجاج کے حوالے سے وہ دو دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے، ایک دھڑا حکومت کیخلاف تحریک کا حصہ نہ بننے کے بیانئے کو لیکر پارٹی کی صفوں میں مبینہ دراڑ پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہے‘ ادھر لیگ (ن) کے سابقہ ساتھی اور ہمدم دیرینہ جبکہ موجودہ حکومت کے دربار داری کا بھرم رکھنے والے ہمایوں اختر نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف لندن چلے جائیں گے جس کے بعد اپوزیشن تحریک ختم ہو جائے گی۔ اب صورتحال کس سمت جا رہی ہے یہ تو عید کے بعد ہی پتہ چلے گا کیونکہ اپوزیشن جماعتیں فی الحال افطاریاں کھانے میں مشغول ہیں اور ویسے بھی رمضان کا مہینہ نصف گزر چکا ہے جس کے بعد باقی دن یا تو افطاریوں کی نذر ہو جاتے ہیں یا پھر عید کی خریداریوں میں کٹتے ہیں اور اس مہینے کے دوران جو افتاد ملکی معیشت پر پڑنی تھی اس کا آغاز ہو چکا ہے جس کے اثرات آہستہ آہستہ سامنے آئیں گے۔ ایسے میں بعض سیانے سیاسی رہنماؤں کو یقین ہے کہ اس حکومت کو گرانے کیلئے کسی تحریک کی ضرورت ہی نہیں کہ بقول ان کے یہ خود اپنے غلط فیصلوں کے بوجھ تلے آکر خود ہی گر جائے گی یعنی بقول علامہ اقبال

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

البتہ اپوزیشن جماعتوں کے تیور دیکھ کر یہ بات بھی آسانی سے کہی جاسکتی ہے کہ اپوزیشن والوں کا اکٹھ حکومت کیلئے ایک اور پشتو ضرب المثل کی مانند ہے کہ ’’بلا وہ خو برکت یے نہ وو‘‘ یعنی یہ ایک ایسی بلا ہے جس میں برکت (بہ معنی قوت) نہیں ہے کہ اس ’’بلا‘‘ کے دانت ’’افطاریاں‘‘ کھا کھا کر اتنے کمزور ہو جائیں گے کہ الٹے جھڑنے لگیں گے اور جب اصلی دانت گر جائیں تو پھر بلا نے کاٹنا کیا ہے۔ صرف ہاتھی کے دکھانے والے دانتوں سے تو کام نہیں چلایا جاسکتا کہ وہ ’’مہنگے داموں‘‘ فروخت تو کئے جاسکتے ہیں ان سے کاٹنے کا کام نہیں لیا جا سکتا۔ اس لئے اپوزیشن جماعتیں اس طرح غراتی رہیں گی‘ چیختی چنگھاڑتی رہیں گی‘ دکھانے والے دانتوں کی نمائش بھی کرتی رہیں گی مگر کاٹنے کی قوت سے یہ عاری ہیں‘ بالکل اسی طرح جس طرح ان دنوں ڈاکٹروں کیساتھ پیش آنے والے ایک واقعے نے اس گیدڑ کی یاد دلا دی ہے جس نے شہر آنے کی غلطی کی مگر شہرکے کچھ جانوروں نے اس کا پیچھا کیا تو وہ بھاگتے ہوئے نہ صرف غرا رہا تھا بلکہ پیچھے سے بھی آوازیں خارج کر رہا تھا‘ کسی نے پوچھا کیا بات ہے‘ اس نے جواب دیا خوف کی وجہ سے آوازیں نکل رہی ہیں‘ اور غرا اس لئے رہا ہوں کہ پیچھا کرنے والے کہیں حملہ ہی نہ کر دیں۔ یوں معاملہ ایک جانب دھمکیاں دینے کا سامنے آرہا ہے تو دوسری جانب بلیک میل نہیں ہوں گے کے بیانئے کیساتھ مذاکرات کی پیشکش بھی کی جا رہی ہے۔ سید محمد خان رند نے کہا تھا ناں کہ

آ عندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں

تو ہائے گل پکار‘ میں چلاؤں ہائے دل

متعلقہ خبریں