Daily Mashriq

کیا بچپن میں شادی سماجی عیب ہے؟

کیا بچپن میں شادی سماجی عیب ہے؟

شادی کیلئے لڑکیوں کی عمر کم سے کم کتنی ہونی چاہئے؟ اس نئی بحث نے ہمارے معاشرے کی سماجی سوچ میں موجود زبردست رجعت پسندی کو آشکار کیا ہے اور اس کے مضمرات حقیقتاً قابل تشویش ہیں۔ حال ہی میں حکمران جماعت کے غیرمسلم رکن اسمبلی رمیش وانکوانی نے لڑکیوں کیلئے شادی کی عمر کی کم سے کم حد 18 برس تک بڑھانے کا بل پیش کیا۔ ایک مسلم وزیر نے نہ صرف ان کی مخالفت کی بلکہ انہیں حاصل بل پیش کرنے کے حق پر بھی سوال کھڑا کردیا، یوں وزیر نے اپنے عمل سے یہ ظاہر کردیا کہ وانکوانی کو اس کے مذہبی عقیدے کی وجہ سے کسی ایسے مسئلے کو اٹھانے کی اجازت نہیں ہے جس کا اثر مسلمان لڑکیوں پر ہوتا ہو۔ ہماری قانون سازی کی تاریخ میں نہ آزادی سے قبل نہ آزادی کے بعد، اس قسم کی رجعت پسندانہ سوچ کا ایسا مظہر کبھی دیکھنے کو ملا ہے۔ قائداعظم نے انڈیا کی سینٹرل اسمبلی میں شادی قوانین پر دو بار اظہار رائے پیش کیا۔ پہلے موقع پر انہوں نے اس ہندو میرج بل کی حمایت کی جس میں بین الذات شادیوں کی اجازت دی گئی تھی اور انہوں نے یہ واضح کیا کہ میں ہندو اقلیت کی آگے بڑھ کر مدد کرنے میں اتنی ہی دلچسپی رکھتا ہوں، جتنی دلچسپی کوئی بھی شخص مسلمان اقلیت کی آگے بڑھ کر مدد کرنے میں رکھتا، اگر وہ (مسلمان اقلیت)تکلیف میں مبتلا ہوتی۔ دوسرے موقع پر انہوں نے ہندو برادری میں بچپن کی شادی کی روک تھام کیلئے پیش کئے جانیوالے بل پر مباحثہ کے دوران اپنا مؤقف بیان کیا۔ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 جس کا اطلاق مسلمان لڑکیوں پر بھی ہوتا ہے، کی تیاری میں قائد کی کامیابی کا حوالہ بھی بار بار عوامی مباحثے میں دیا جاتا رہا ہے، مگر اس کی یاد ایک بار پھر یہاں تازہ کرنا سودمند رہے گا۔ علما کی ایک بڑی تعداد نے قائد کی اس پیش قدمی کی مخالفت کی، ایسے میں مولانا شبلی نعمانی واحد ایسے شخص تھے جو ان کی حمایت میں آگے آگے تھے۔ ضیاء الحق نے قائد کی قومی عظمت اور مرتبے کو جو ٹھیس پہنچائی اس کا مداوا ضیاء کے بعد آنیوالی کسی حکومت نے نہیں کیا مگر بچپن کی شادی کی چھوٹ کے معاملے پر قائد کے خیالات کو یاد کرتے ہوئے کسی کو خفا کئے بغیر سوال اُٹھایا جاسکتا ہے۔ پوری دنیا اس بات سے آگاہ ہے کہ بچپن کی شادی کس قدر شیطانی عمل ہے۔ پاکستان اس سے بدترین حد تک متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق21فیصد لڑکیوں کی شادی18 برس کی عمر تک پہنچنے سے قبل اور3فیصد لڑکیوں کی شادی15برس کی عمر تک پہنچنے سے قبل ہی کروا دی جاتی ہے۔ یہ برائی معاشروں میں جو تباہی پھیلاتی ہے وہ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ دلہن بننے والی چھوٹی بچی اکثر وبیشتر ازدواجی ریپ کا نشانہ بنتی ہے۔ ابھی وہ تولیدی عوامل کو ٹھیک طور پر سمجھنے کے قابل بھی نہیں ہوتی کہ اسے ان عوامل سے زبردستی گزارا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ یہ سیکھ اور جان پائے کہ بطور ماں اس پر کون کونسی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، وہ ایک ماں بن جاتی ہے۔ بار بار بچے کی پیدائش ماں کی شرح اموات میں اضافے اور ایسے بچوں کی پیدائش کا باعث بنتی ہے جو اس قدر کمزور ہوتے ہیں کہ ان کا زندہ بچنا مشکل ہوجاتا ہے، جس کی مثال ہم تھر کی صورتحال سے حاصل کرسکتے ہیں چنانچہ جہاں ایک طرف بچپن کی شادی خواتین کی زندگیوں کے ضیاع کا باعث بنتی ہے وہیں دوسری طرف نومولود بچوں کی شرح اموات میں اضافے اور ناپختہ بچوں کی پیدائش کا باعث بنتی ہے۔ کئی ممالک خواتین اور بچوں کے معیار زندگی بہتر کرچکے ہیں اور خاندانوں کو لڑکیوں کی شادی کی عمر تک پرورش کرنے کے قابل بنا کر اپنی اقتصادی ترقی کی شرح میں بہتری لاچکے ہیں۔ اس کی سب سے قریبی مثال بنگلہ دیش ہے۔ ترکی، مصر، بنگلہ دیش اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد مسلم ممالک نے لڑکیوں کیلئے کم سے کم شادی لائق عمر18برس مقرر کی ہوئی ہے پاکستانی علماء ان ممالک میں مذہبی احکامات کی تشتریح کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ کچھ عرصہ قبل سندھ نے لڑکیوں کیلئے شادی کی عمر بڑھا کر18برس مقرر کی تھی تو کیا صوبے پر آسمان ٹوٹ پڑا ہے؟

آخری بات یہ کہ لڑکیوں کیلئے شادی کی کم سے کم عمر مقرر کرنے کا عمل کوئی نئی سازش نہیں ہے۔ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 آزادی کے72 برسوں تک نافذالعمل رہتا آیا ہے۔ مسلم فیملی لا آرڈینینس میں لڑکیوں کی شادی لائق عمر کی قانونی شرط2 دہائیوں تک درج رہی جس کے بعد جنرل ضیاء نے اپنی مرضی سے اس کا خاتمہ کردیا۔

موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے اپنے حد سے زیادہ رجعت پسند بازو کی حمایت سے انکار کا فیصلہ روشنی کی ایک کرن سے کم نہیں ہے۔ حکمران جماعت کے پاس اس مسئلے پر کسی اتفاقِ رائے کو نظرانداز کرتے رہنے کا زیادہ وقت نہیں ہے۔ ہر ایک کی خواہش یہی ہوگی کہ وہ اپنے چند گمراہ اراکین کے اذہان کو غلط خیالات سے چھٹکارہ دلانے میں کامیاب ہونگے لیکن اگر وہ اس مسئلے پر یونہی گھبراہٹ کا شکار رہتے ہیں تو یوں اس تاثر کو مزید تقویت ملے گی کہ موجودہ حکومت جہل پسند عناصر کیلئے راہیں ہموار کرنے میں گزشتہ حکومتوں کو بھی پیچھے چھوڑنے لگی ہے جو ملک کی خواتین اور اقلیتی برادریوں کے افراد کیلئے ناقابلِ بیان دشواریوں اور صعوبتوں کا باعث بنے گا اور اس کے علاوہ خلافِ زمانہ روایت پسندوں کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کی وجہ بنے گا۔

متعلقہ خبریں