Daily Mashriq

پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ

اسی مہینے کی پندرہ تاریخ کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں عالمی یوم خاندان منایا گیا۔ جس کا آغاز1994 کے دوران منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں منظور کی جانے والی قرارداد کے نتیجے میں ہوا اور جس کا مقصد خاندانوں کے معاملات اور ان پر اثرانداز ہونے والے عناصر سے دنیا والوں کو آگاہ کرکے ان کے شعور میں یہ بات ڈالنی ہے کہ

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

خاندان کسی بھی معاشرے کی اس اکائی کو کہتے ہیں جس میں کسی گھرانے کے سربراہ کے علاوہ اس کے زیرکفالت افراد مل جل کر زندگی کے شب وروز گزار رہے ہوں۔ جس طرح کہ خاندان کی تعریف کرتے وقت اسے معاشرے کی ایک اکائی کہا گیا ہے اس طرح ہم یہ بات بڑی آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ کوئی معاشرہ یا سماج ایک ہی جگہ بود وباش کرنیوالے یا ایک ہی قسم کی طرز زندگی کو اپنانے والے مختلف خاندانوں کے ملاپ سے وجود میں آتا ہے۔ کسی معاشرے، سماج یا سوسائٹی میں خاندانوں کی مثال کسی عمارت یا اس کی کسی بھی دیوار میں پیوست اینٹوں کی مانند ہوتی ہے اور کوئی بھی عمارت اپنی دیواروں اور ان دیواروں پر ایستادہ چھت کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے کسی معاشرے یا سماج کی اکائی خاندان میں شامل افراد میں کسی بھی فرد کی گنتی کے بغیر مکمل ہو نہیں سکتا۔ یہی اصول مختلف مقامات کی مردم شماری کے دوران ایک معیار بن کر سامنے آتا ہے، جس میں ہر خاندان کو ایک گھرانہ متصور کیا جاتا ہے۔ دانشوروں نے انسان کو سماجی جانور کہہ کر پکارا ہے جس کی وجہ اس کا خاندان بنا کر یا مل جل کر رہنا سہنا اور گزر اوقات کرنا ہے۔ اگر کہا جائے کہ کوئی بھی انسان کسی بھی قسم کا سماج تشکیل دینے سے پہلے اپنے خاندان کے افراد کیساتھ مل جل کر زندگی گزارنے کے بغیر گزر اوقات کر ہی نہیں سکتا تو غلط نہ ہوگا۔ اس کا یہی خاندان اور اس خاندان کے افراد نہ صرف اس کی زندگی کا سہارا ثابت ہوتے ہیں بلکہ اس کی ذات کا بہت بڑا حوالہ یا اس کی پہچان کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ کسی فرد یا افراد کا حسب نسب اس کے پیڑی درپیڑی چلتے خاندانوں ہی کا اتہ پتہ دیتے ہیں اور یوں ایک ہی نوعیت کے خاندان ایک قوم یا قبیلے کے روپ میں ڈھل کر سامنے آتے ہیں، ہم نے بعض لوگوں کو اپنے بارے میں یہ کہتے سنا ہے کہ میں خاندانی آدمی ہوں، جس سے مراد یہی ہے کہ وہ ایک اچھے اور نامور خاندان یا خاندانوں پر مشتمل قوم یا ذات کے سیٹ اپ کا ایک فرد ہے، ہمارے ہاں سید، اعوان، مغل، جیسی لاتعداد قومیتوں سے تعلق رکھنے والے خانوادے اور ان سے وابستہ افراد اپنے وجود کے برتر ہونے یا اپنے آپ کو خاندانی ثابت کرنے کیلئے یہ بات جتاتے نہیں تھکتے کہ وہ کسی سے کم نہیں، حالانکہ ہماری مذہبی تعلیمات میں اس بات کو واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ کالے کو گورے پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں، معلم اخلاق، نبی الامی والہاشمیﷺ نے ان تعلیمات کا نور اس لئے عام کیا کہ ہم تقویٰ اور پرہیزگاری کے علاوہ نیکی اور بھلائی کو اپنی زندگی کا معیار بنائیں، لیکن ارشاد ربانی کی روشنی میں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ رب کن فیکون نے ہم سب کو قوموں اور قبیلوں کی صورت پیدا کیا تاکہ ہم میں سے ہر کوئی اپنی پہچان کا مالک ثابت ہو، جب بچہ اپنی ماں کی مامتا بھری گود میں آنکھ کھولتا ہے تو وہ آغوش مادر کو اپنے لئے دنیا کا واحد گوشہ عافیت سمجھنے لگتا ہے۔ ماں کی مامتا کی لوریوں کی سندرتا کا قرض اٹھا کر جب وہ پنگھوڑے میں کلکاریاں کرنے لگتا ہے تو اس پرآہستہ آہستہ

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

کا عقدہ بھی کھلنے لگتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے اس کے لاڈ منانے والے گھر کے دیگر افراد بھی ہیں۔ بہنا بھیا ابو تایا خالہ پوپھو اور ان جیسے جانے کتنے رشتہ دار ہیں جو اس کی چاہت میں اپنا دل اور جان نچھاور کئے دیتے ہیں اس کی ننھی سی جان پر۔ وہ جو ننھی کونپل بن کر کھلا تھا کسی خانوادے کے گھر آنگن میں، مہربان وقت نے اس کو نونہال بنا کر اس کی پرورش کرنا شروع کردی اور وہ گزرتا وقت ہی تھا جو اسے خاندان کے ہر فرد کی پہچان کرواتا رہا۔ خاندان کا ہر فرد اس کی زندگی کا سہارا تھا، خاندان کا ہر فرد جن کی آنکھوں کا وہ تارا اور راج دلارا تھا اور جب پل کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے لگا قدرت کے نادیدہ ہاتھ اسے خودمختار بنا کر اس کی اپنی مرضی یا والدین کی مرضی سے دوسرا خاندان تشکیل دینے لگے، اصطلاحی طور پر ایک خاندان یا فیملی میں بیوی اور بچوں پر مشتمل سمجھا جاتا ہے اور جب تک بچے شادی کے بندھن میں جکڑے نہیں جاتے وہ اس خاندان کا حصہ سمجھے جاتے ہیں جس میں ان کے ابو، امی، بھائی بہنیں اورکبھی کبھی تایا چچا، پوپھی اور خاندان کے دیگر افراد بھی شامل ہوتے ہیں، رشتے ناطے ایک سیٹ اپ کا نام ہے، انہیں ہم برادری کا نام بھی دیتے ہیں لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ برادری کے بہت سے لوگ برادران یوسف ثابت ہوتے ہیں اور یوں برادران یوسف کا وار برداشت نہ کر سکنے والے افراد اپنے خاندان سے یوں کٹ کر رہ جاتے ہیں جیسے پت جھڑ کے موسم میں خزاں گزیدہ پتے جبکہ دانائے راز ان کو کہتا نہیں تھکتا کہ

ملت کیساتھ رابطہ استوار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

متعلقہ خبریں