Daily Mashriq

چینی شادیاں اور ڈبل شاہ

چینی شادیاں اور ڈبل شاہ

دیہاتی علاقوں میں نوسرباز عورتیں اکثر گھروں میں جاکر سادہ لوح خواتین کو سونا ڈبل کرنے کیلئے لالچ دیتیں اور آنکھیں بند کرنے کو کہتیں، جب آنکھ کھولی تو نہ سونا ہوتا اور نہ ہی سونا ڈبل کرنے والی خاتون، پھر زمانہ بدلہ اور پنجاب میں ایک شخص نے مردوں کو لوٹنا شروع کردیا۔ اس کا طریقۂ واردات یہ تھا کہ یہ لوگوں سے پیسے لیتا اور پھر پندرہ دن میں ڈبل رقم واپس کردیتا، یوں اس کا نام ہی ڈبل شاہ پڑ گیا۔ ڈبل شاہ نے پانچ ارب روپے لوگوں سے لوٹے، ڈبل شاہ کسی ایک علاقہ یا ایک سال نہیں بلکہ سات سال تک مختلف علاقوں کے لوگوں کو لوٹتا رہا۔ یاد رہے اس کے لٹنے والوں میں سادہ لوح لوگ نہیں بلکہ اکثر پڑھے لکھے اور کاروباری افراد تھے اور تو اور اس نے نیب کو بھی دھوکہ دیا، جیل بھی کاٹی اور پھر رہائی کے چند ماہ بعد دل کا دورہ پڑنے سے مرگیا، اس کے مرنے پر اخبار نے سرخی لگائی ’’سینکڑوں کو امیر ہزاروں کو غریب کرنے والا ڈبل شاہ خالی ہاتھ دنیا سے چلا گیا‘‘ اس طرح کا فریب صرف ہمارے یہاں ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ملکوں میں اسے ’’پنزیPunzi Scheem‘‘ کہتے ہیں۔ اس فریب کو اسلامی رنگ دیکر مانسہرہ کے مولویوں نے مضاربہ کے نام پر سات ارب روپے بٹورے اور بھاگ گئے، تاہم کچھ عرصہ بعد نیب نے ان میں سے چند کو پکڑ کر دس سال سزا بھی دی، ان کی شکلیں اگر دیکھیں تو لگتا ہے کوئی فرشتہ ہے سفید ریش ماتھے پر مہراب اور انتہائی صاف ستھرا سفید لباس پہنے ہوئے۔

ہمارے وطن میں ڈیجیٹل نوسرباز بھی کام کر رہے ہیں، اب کوئی بچ کر جائے گا تو کہاں جائے گا، ان موبائل دھوکے بازوں کا نشانہ کسی ایک طبقہ کے لوگ نہیں بلکہ بچے، بڑے، جوان اور عورتیں سب شامل ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ بالکل ’’ڈبل شاہ‘‘ کے واقعہ سے ملتا جلتا ہے یا یوں کہا جائے کہ ٹھیٹھ روایتی طریقہ واردات ہے، ہوا یوں کہ ایک دفتر کے کلرک کو میسج (SMS) آیا کہ اس نمبر پر جواب دیں تو آپ کا بیلنس ڈبل ہو جائے گا، کلرک صاحب کے پاس اس وقت بیلنس 22روپے تھا اس نے جوابی SMSکیا تو تھوڑی دیر میںان کا بیلنس 44روپے ہوگیا، وہ صاحب بڑا خوش ہوا دوڑا دوڑا گیا چھ سو روپے (شکر ہے اس کی جیب میں اس وقت صرف اتنی رقم ہی تھی) کے کارڈ لیکر لوڈ کر دینے کے بعد پھر SMSکیا اس پر وہی ہوا جو ہونا تھا کوئی جواب نہیں آیا، ہاں البتہ کلرک صاحب کا بیلنس صفر ہوگیا یعنی کہ 644روپے کا بیلنس ایسے غائب تھا جیسے گدھے کے سر سے سینگ، اس کے بعد لاکھ فون گھمائے مگر وہ شخص ہاتھ نہیں آیا۔پھر ہوا یوںکہ بھکاری بھی اس ایجاد کا استعمال کرنا شروع ہوگئے، موبائل چونکہ ہر پاکستانی کی طرح ان کے پاس بھی ہیں لہٰذہ وہ بھی اپنی سی کر رہے ہیں جب سائنس کے اس دور میں سب کچھ ڈیجیٹل ہو رہا ہے تو اب یہ بھکاری بھی ڈیجیٹل ہوگئے ہیں اور موبائل کے ذریعے بھیک مانگتے ہیں۔ اس میں کچھ نوجوان اس سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہیں وہ اس طرح کہ یہ بھکاری موبائل کا میسج بھیج دیتے ہیں کہ میں ایک غریب لڑکا ہوں، ماں باپ کا اکلوتا سہارا ہوں لیکن آج کل بیروزگار ہوں، برائے مہربانی چند روپے میرے موبائل میں بھیج دیں تاکہ میرا گزارہ ہوسکے۔ اسی طرح کا ایک میسج ایک صاحب کو آیا کہ میں ایف اے کی طالبہ ہوں، میرے والد دمے کے مریض ہیں اور میری تعلیم کے اخراجات نہیں اُٹھاسکتے، میں ایک لائق طالبہ ہوں کسی سے بھیک نہیں مانگ سکتی مگر آپ بھلے آدمی سے درخواست ہے کہ مجھے کچھ رقم بھیج دیں، اتفاق سے وہ صاحب ڈاکٹر تھے انہوں نے اسے جواباً کہا آپ اپنے والد کو میرے کلینک لے آئیں، میں ان کا علاج بھی مفت کردوں گا اور آپ کی مدد بھی کردوں گا، لیکن صاحب نہ وہ لڑکی اور اس کا والد ڈاکٹر کے کلینک آئے اور نہ ہی اس کے بعد کوئی میسج آیا۔ مشہور زمانہ ’’صبا‘‘ کا زبان زدعام میسج تو میرے ساتھ ساتھ آپ سب کو بھی آیا ہوگا۔

بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی بلکہ اب سی پیک اور چین کیساتھ تجارت بڑھنے سے انٹرکلچرل میریجز کے نام پرکچھ لوگ غریب گھرانوں کی لڑکیوں کو لالچ دیکر چین کے لڑکوں سے شادیاں کروا رہے ہیں ان نوسربازوں نے پوش ایریا میں بنگلے کرائے پر لئے ہوئے ہیں، انہوں نے کچھ دیہاتوں میں پوسٹر اور بینر لگائے ہوئے ہیں، جن کے لالچ میں ہمارے غریب عوام آرہے ہیں۔ سرکاری اداروں یا پڑھے لکھے لوگوںکو کچھ یوں کہا جاتا ہے کیونکہ یہ چائنا کا باشندہ پاکستان میں رہ کر کاروبار کرنا چاہتا ہے اور کاروبار اور جائیداد خریدنے کیلئے اسے پاکستانی لڑکی سے شادی کرکے نیشنیلٹی ملے گی، یوں وہ زمین خرید کر کاروبار کر سکے گا۔ دوسری ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ کیونکہ چین میں کم بچے پیدا کرنے کی وجہ سے لڑکیاں ناپید ہیں، اوپر سے لالچ یہ دی جاتی ہے کہ کسی قسم کا جہیز نہیں چاہئے بلکہ لڑکی چائنہ جاکر اپنے بہن بھائیوں کو بھی بلا سکتی ہے اور اس کے بھائی چائنہ میں اچھے کام پر بھی لگ سکتے ہیں۔ لیکن ٹھہریئے! یہ سراسر جھوٹ ہے یہ لوگ بھی ڈبل شاہ ہیں، لڑکیوں کو چین لے جاکر خوبصورت لڑکیوں سے غیراخلاقی کام کرواتے ہیں۔

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں