Daily Mashriq

قبائلی عوام کے دیرینہ مطالبے کی پذیرائی

قبائلی عوام کے دیرینہ مطالبے کی پذیرائی

قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ چند روز قبل مجھ خاکسار نے فاٹا کے مسائل پہ کالم تحریر کیا تھا جس میں فاٹا کے وفد کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے بارے میں بتایا تھا اور یہ بھی لکھا تھا کہ فاٹا کے وفد نے اس ملاقات کو اطمینان بخش قرار دیا تھا۔ زیرنظر کالم کو اگر قارئین اسی کالم کا دوسرا حصہ سمجھ کر پڑھیں تو بات کچھ یوں ہے کہ قومی اسمبلی میں قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کیلئے 26ویں آئینی ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔ جس کے بعد ان اضلاع میں قومی اسمبلی کی نشستیں 6 سے بڑھ کر 12 اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں 16 سے بڑھ کر 24 ہو جائیں گی۔ قبائلی اضلاع کی نشستوں میں اضافہ کیلئے آئینی بل کی منظوری بلاشبہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ ملک کی سپریم پارلیمنٹ کی بالادستی پر نہ صرف مہر تصدیق ثبت ہوئی ہے بلکہ اراکین پارلیمنٹ نے قوم وملک کو درپیش ایک امتحانی صورتحال میں سابقہ فاٹا کی قلب ماہیت اور دہشتگردی سے تباہ ہونے والے قبائلی خطے کے عوام کو پہلی بار حقیقی مسرتوں سے دوچار کیا ہے، سیاستدان کشیدگی اور محاذ آرائی کی پیچیدگیوں کے باوجود قبائلی علاقوں کی ترقی اور اس کے عوام کی خوشحالی کے ایجنڈے پر ہمیشہ متفق رہے تھے مگر بعض سیاسی ومذہبی قائدین کا کہنا تھا کہ سابقہ فاٹا کی اصلاحات، انضمام اور نوآبادیاتی دور کے کالے قوانین کی تنسیخ کے معاملات انتہائی حساس ہیں لہٰذا پختون عوام اور سیاسی جماعتوں کے خدشات اور تحفظات کا ازالہ کئے بغیر اتنا بڑا قدم نہ اٹھایا جائے۔ تاہم یہ سیاستدانوں کی عملیت پسندی تھی کہ انہوں نے ایوان میں مکمل اتفاق رائے سے قبائلی نشستوں میں اضافہ کا تاریخ ساز اقدام کیا۔ دریں اثنا گورنر خیبر پختونخوا کے بلدیاتی ایکٹ پر دستخط کے بعد نیا بلدیاتی نظام صوبے میں نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ موجودہ بلدیاتی ادارے اپنی آئینی مدت پوری کرتے ہوئے 30اگست کو ختم ہوجائیں گے۔ نئے بلدیاتی نظام میں اضلاع کی سطح کا سیٹ اپ اور ضلعی ناظم کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے اور تحصیل ناظمین کو اختیارات دیئے گئے ہیں۔ ناظم کا عہدہ چیئرمین جبکہ نائب ناظم کا عہدہ کنوینئر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت یکسانیت برقرار رکھنے کیلئے صوبائی حکومت پالیسی فریم ورک دے گی۔ نئے نظام کے تحت ٹاؤنز بھی ختم ہوجائیں گے۔ نچلی سطح پر دیہی علاقوں میں ویلیج اور شہری علاقوں میں نیبرہڈ کونسلیں قائم ہوں گی، شہر ی حکومتوں کے چیئرمین میئر کہلائیں گے۔ تحصیل لوکل گورنمنٹ چیئرمین، تحصیل لوکل گورنمنٹ اور تحصیل لوکل ایڈمنسٹریشن پر مشتمل ہوگی جس کی انتظامی اتھارٹی چیئرمین کے پاس ہوگی۔ نیبرہڈ اور ویلیج کونسلوں کے چیئرمین تحصیل کونسلوں کے ارکان ہوں گے۔ ہر ویلیج اور نیبرہڈ کونسل 7ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں تین جنرل ارکان شامل ہوں گے اور پیدائشی، فوتگی اور شادی وطلاق سے متعلق رجسٹریشن بھی نچلی سطح پر ہی ہوگی۔ تحصیل چیئرمین بجٹ پیش کرنے کا پابند ہوگا۔ 35اضلاع میں 4203 مقامی کونسلیں قائم ہوں گی جن میں 3624 ویلیج اور 579 نیبرہڈ کونسلیں شامل ہوں گی۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار پرائیویٹ بل پر آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ آئینی ترمیمی بل کے حق میں 288 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ کسی رکن نے بل کی مخالفت نہیں کی۔ بل لانے کی تحریک رکن اسمبلی محسن داوڑ کی طرف سے پیش کی گئی۔ بل کے نفاذ کے بعد الیکشن کم ازکم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ 18ماہ کے دوران کروائے جائیں گے۔ بل کی منظوری کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے اتفاق رائے سے آئینی ترمیم کی منظوری پر قوم کو مبارک باد دی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آئینی بل لانے کا اعزاز بھی پی ٹی ایم کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کے حصہ میں آیا۔ پی ٹی ایم کو قومی دھارے میں لانے کی کوششوں کو تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز نے سراہا۔ ان کے اصولی مؤقف کو فہمیدہ اور ملک کے سنجیدہ سیاسی اور مقتدر حلقوں نے بھی پذیرائی بخشی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابق فاٹا کے عوام نے بہت مشکلات کا سامنا کیا۔ ملک کا کوئی صوبہ ہو یا اس کا کوئی حصہ، کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے سے احساس محرومی دور ہوگا۔ ان علاقوں کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بڑھا رہے ہیں، اس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے خوش آئند ہے۔ ان علاقوں کے عوام کی آواز اب ہر جگہ سنی جائے گی اور ان میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ ان کے مسائل حل کئے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے ازسرنو تعین کیلئے آئینی (ترمیمی) بل 2019ء پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ فاٹا کے حوالے سے اس اہم آئینی ترمیم کی پورا ایوان حمایت کر رہا ہے۔ اس سے قبائلی علاقے کے لوگوں کو یہ احساس ہوگا کہ قوم ان کیساتھ کھڑی ہے۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ کے دوران قبائلی علاقوں میں جس طرح تباہی ہوئی ہے اور یہاں جس طرح کے مسائل سامنے آئے ہیں پوری قوم چاہتی ہے کہ یہ مسائل حل ہوں اور ان لوگوں کی آواز سنی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ تمام صوبوں سے یہ کہنا چاہیں گے کہ قومی مالیاتی کمیشن میں سے سابق فاٹا کے علاقوں کو 3فیصد اضافی حصہ دیا جائے۔

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں