Daily Mashriq

پاکستان کے ورلڈکپ اسکواڈ میں 3 تبدیلیوں کا فیصلہ

پاکستان کے ورلڈکپ اسکواڈ میں 3 تبدیلیوں کا فیصلہ

انگلینڈ کے خلاف قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی خصوصاً باؤلنگ لائن کی دشواریوں کو دیکھتے ہوئے پاکستان ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی نے ورلڈکپ کے لیے قومی ٹیم میں 3 تبدیلیوں کا فیصلہ کرلیا۔

انگلینڈ کے خلاف 5 میچوں کی ون ڈے سیریز میں پاکستانی ٹیم کو 0-4 سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور تمام میچوں میں قومی ٹیم بڑا اسکور کرنے کے باوجود ہار گئی۔

سیریز کے دوران ناقص فیلڈنگ نے قومی ٹیم کی ورلڈ کپ کی تیاریوں کی قلعی کھول دی تاہم ٹیم مینجمنٹ کے لیے سب سے بڑا دردِسر باؤلرز کی مسلسل ناقص کارکردگی ہے جنہوں نے تمام میچوں میں 340 سے زائد رنز دیے اور یہی چیز سیریز میں قومی ٹیم کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بنی۔

سیریز میں حسن علی، جنید خان، شاہین شاہ آفریدی اور فہیم اشرف سمیت تمام باؤلرز کی کارکردگی واجبی رہی اور یہی وجہ تھی کہ اختتامی میچوں میں قومی ٹیم نے ایک باؤلر کھلانے کے بجائے پارٹ ٹائم باؤلرز پر انحصار کیا۔

اسی خراب کارکردگی کے پیش نظر ورلڈکپ کے لیے قومی ٹیم کے اسکواڈ میں تین اہم تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ورلڈکپ کے اسکواڈ سے عابد علی، جنید خان اور فہیم اشرف کی چھٹی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان کی جگہ آصف علی، محمد عامر اور وہاب ریاض کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

آصف علی کو شامل کرنے کی وجہ اختتامی اوورز میں پاکستانی ٹیم کی تیزی سے رنز بنانے میں دشواری ہے جس کے سبب پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف سیریز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

جنید خان اور فہیم اشرف کو بھی ناقص کارکردگی کے سبب باہر بیٹھنا پڑے گا تاہم اس سلسلے میں جنید خان تھوڑے بدقسمت رہے جنہیں کافی عرصے بعد صرف دو میچ کھلا کر ہی ان کی قسمت کا فیصلہ کر دیا گیا۔

تاہم دوسری جانب محمد عامر اور وہاب ریاض کافی خوش قسمت رہے اور میچ نہ کھیلنے کے باوجود انہیں اسکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں خصوصاً وہاب ریاض قابل ذکر ہیں جن کا نام ورلڈ کپ کے ابتدائی کھلاڑیوں کی فہرست میں بھی شامل نہیں تھا لیکن ان کی حالیہ ٹورنامنٹس میں عمدہ فارم کو دیکھتے ہوئے سلیکٹرز انہیں ٹیم میں شامل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

وہاب ریاض نے اپنا آخری ون ڈے انٹرنیشنل میچ 2 سال قبل چیمپیئنز ٹرافی میں کھیلا تھا جبکہ آخری ٹیسٹ میچ بھی گزشتہ سال اکتوبر میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا تھا۔

تاہم حالیہ عرصے میں ان کی کارکردگی بہت متاثر کن رہی ہے جہاں پاکستان کپ میں بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹوں پر وہ عماد بٹ کے ہمراہ 10وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب باؤلر رہے تھے تاہم وہاب اس لحاظ سے ممتاز رہے کہ ان کا اسٹرائیک ریٹ اور اوسط دونوں عماد سے بہتر تھی۔

رواں سال پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں بھی وہاب ریاض نے اپنی تیزترین باؤلنگ سے بلےبازوں کو بہت پریشان کیا اور 150 کلومیٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے باؤلنگ بھی کی۔

پی ایس ایل میں وہاب ریاض نے 13 میچز میں 17 وکٹیں حاصل کیں اور اس فہرست میں تیسرے نمبر پر رہے۔

وہاب ریاض مجموعی طور پر پی ایس ایل کے سب سے بہترین باؤلر بھی ہیں جنہوں نے لیگ کے چاروں سیزن میں مجموعی طور پر 45 میچز میں 65 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔

محمد عامر دورہ انگلینڈ کے لیے قومی ٹیم کا حصہ تھے لیکن چکن پاکس کا شکار ہونے کے سبب وہ سیریز کے ایک بھی میچ میں حصہ نہ لے سکے تاہم حالیہ عرصے میں ناقص ریکارڈ کے باوجود تجربے کو دیکھتے ہوئے عالمی کپ میں انہیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

چیف سلیکٹر انضمام الحق کپتان سرفرازاحمد اور کوچ مکی آرتھر سے مشاورت کریں گے جس کے بعد عالمی کپ کے لیے قومی ٹیم کا حتمی اعلان جلد کردیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں