Daily Mashriq


اووربلنگ اور فوٹو میٹر ریڈنگ

اووربلنگ اور فوٹو میٹر ریڈنگ

اخباری اطلاعات کے مطابق پیسکو میں فوٹو میٹر ریڈنگ کے اہداف کے حصول میں ناکامی کی بنیاد ی وجہ عملے کی کمی ہے ، صوبے کے 21لاکھ صارفین کیلئے صرف 15سو میٹر ریڈر ز ہیں ، جبکہ پچاس فیصد بجلی پولوں پر میٹر ز اتنی اونچائی پر نصب کئے گئے ہیں کہ ان کے فوٹو بنانا ممکن نہیں ، خبر میں یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ اس وقت پیسکومیں 50فیصد میٹر ریڈرز کی اسامیاں خالی پڑئی ہوئی ہیں ، دوسری جانب وزیراعظم کے مشیرنجینئر امیر مقام کی صدارت میںپیسکو کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔ امیر مقام نے اس موقع پر کہا کہ پیسکو صوبے میں گر یڈ سٹیشن اور فیڈرز پر برق رفتاری سے کام کرے تاکہ آئندہ موسم گرما سے قبل اوور لوڈنگ کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو جائے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ڈیڑھ دو سال پہلے پیسکو نے خیبر پختونخوامیں ایسے نئے میٹر نصب کئے جن کے بارے میں اسی وقت یہ خبر یں سامنے آئی تھیں کہ ان میٹروں کی خصوصیت ہے کہ اصل ریڈنگ سے تقریباً33فیصد زیادہ اخراجات ظاہر کئے جاتے ہیں ، اس پر عوامی سطح پر احتجاج بھی ہوا تھا ، مگر عوامی چیخ وپکار کو درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا ور اب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ جو نئے میٹر لگائے گئے ہیں ان میں ریڈنگ زیادہ آتی ہے ۔ حالانکہ ان میٹروں کی تنصیب کے وقت عوام سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ میٹروں کی فوٹو بل کی پشت پر چھاپ کر صارفین کو بتا یا جائے گا کہ جتنا بل انہیں بھیجا گیا ہے وہ درست ریڈنگ کے مطابق ہے ۔ تاہم یہ وعدہ صرف وعدہ ہی رہا اس لیے اگر وزیراعظم کے مشیر نے پیسکو میں میڑ ریڈروں کی خالی اسامیاں پر کرنے کی ہدایت کی ہے تو اس پر نہ صرف فوری طور پر عمل ہونا چاہیے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنانا اشد ضروری ہے کہ میٹر ریڈ ر اپنی ذمہ داری ایمانداری اور دیانتداری سے پوری کرتے ہوئے ہر صارف کے میڑ کی تصویر لیکر اس کو بلوں پر چھپوانے کا اہتمام کرے تاکہ اوور بلنگ کی شکایت ختم ہو سکے ۔

متعلقہ خبریں