Daily Mashriq

سینئر بیوروکریٹس کی ترقی

سینئر بیوروکریٹس کی ترقی

قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ گریڈ 20اور اس سے اوپر کے افسروں کی ترقی کے اختیارات سے وزیر اعظم نواز شریف کو محروم کر دیا گیا ہے اور یہ کام اب ان کے پرسنل سیکرٹری اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ اس خبر کے مستند ہونے میں کوئی شک نہیں کیا جانا چاہیے کہ یہ خبر خود وزیر اعظم کے داماد رکن قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے دی ہے۔ ان کی اہلیہ محترمہ مریم نواز ان کے اپنے بیان کے مطابق اپنے والد کے ساتھ رہتی ہیں۔ اس لیے وزیر اعظم ہاؤس میں ان کا آنا جانا تسلیم کیا جانا چاہیے۔ وہ خود بھی ایک عرصہ تک وزیر اعظم کے اے ڈی سی رہ چکے ہیں اس وجہ سے بھی وزیر اعظم ہاؤس کے امور سے ان کی واقفیت تسلیم کی جانی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ برسرایوان کو وزیر اعظم کو اپنے فرائض سے غفلت یا کم کوشی کا مورد الزام قرار دے رہے تھے یا ان کے پرسنل سیکرٹری فواد حسن فواد کو اپنے اختیارات سے بڑھ کر فیصلے کرنے کا الزام دے رہے تھے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے کئی ارکان نے ریٹائرڈ کیپٹن صفدر سے اتفاق کیا اور انگریزی روزنامہ کے مطابق وزیراعظم کے دفتر پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ۔ ریٹائرڈ کیپٹن صفدر نے کہا فردِ واحد اپنی مرضی کے مطابق سینئر افسروں کی ترقیوں کے فیصلے کر رہا ہے۔ رکن قومی اسمبلی ریٹائرڈ کیپٹن صفدر بطور مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی اور اس کے علاوہ وزیر اعظم سے اپنے ذاتی قرب کے بھی حامل ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا انہوں نے وزیر اعظم کو اس صورت حال سے آگاہ کیا اور فواد حسن فواد کو اپنی پسند اور مرضی کے مطابق سینئر افسروں کی ترقیوں کے فیصلے کرنے کی شکایت کی؟ انہوں نے ایوان میں یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر وزیر اعظم کومتوجہ کیا۔ اگر وزیر اعظم کو فرض کیجئے اعتماد میں لیا تو وزیر اعظم نے کیا جواب دیا؟ لیکن ریٹائرڈ کیپٹن صفدر وزیراعظم کی حکمران مسلم لیگ کے ایک ذمہ دار رکن اسمبلی ہیں۔ ان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی اقدام کریں گے۔ راقم جیسے عامیوں کی سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ اگر وزیر اعظم کے پرسنل سیکرٹری وزیر اعظم کے اختیارات استعمال کر رہے ہیں تو وزیر اعظم کی مرضی سے کر رہے ہیں اور حکمران پارٹی کے رکن اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اگر اس صورت حال کی شکایت کر رہے ہیں تو یہ بھی پارٹی کی مخالفت مول لے کر نہیں کر رہے۔ یہ معاملہ وزیر اعظم کے دفتر ہی میں طے کیا جا سکتا تھا اگر ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کسی دن وزیر اعظم کو سینئر افسروں کی ترقیوں کے بارے میں اپنی تشویش سے آگاہ کر دیتے۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے ایوان میں تجویز پیش کی ہے کہ سینئر بیوروکریٹس کی ترقی کے معاملات طے کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنا دی جائے۔ اس تجویز کی اصابت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ بیشتر ارکان پارلیمنٹ بیوروکریٹوں کی سرگرمیوں سے واقف ہوتے ہیں۔ ''ہم جانتے ہیں کہ بیشتر بیوروکریٹس شام کو اپنے ذاتی دفتر لگاتے ہیں اور کس طرح وہ جائیدادوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔''انہوں نے ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی سے جو اس وقت سپیکر ایاز صادق کی جگہ ایوان کو چلا رہے تھے سے کہا کہ وہ ارکان پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی بنا دیں جو بیشتر بیوروکریٹس کی ترقی کے معاملات سے عہدہ برآ ہو۔ متعدد ارکان اسمبلی نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب وہ اپنے علاقے کے کام لے کر بیوروکریٹس کے پاس جاتے ہیں وہ ان کی بات نہیں سنتے۔ بعض اوقات ان کی ٹیلی فون کالز کا بھی جواب نہیں دیتے۔ اس شکایت کے باعث اس حمایت کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مطلوبہ قوانین میں بیوروکریسی کے ارکان کی ترقی کو ارکان پارلیمنٹ کی سفارش سے مشروط کرنے کے بعد بیووکریٹ کشاں کشاں ارکان پارلیمنٹ سے ملاقاتیں کرنے' ان کے کام کرنے اور ان کی ٹیلی فون کالز سننے پر مجبور ہوں گے بصورت دیگر ان کی ترقی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اور ارکان پارلیمنٹ اور بیورکریٹس کی کارکردگی سے اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے دوران اپنے تجربات کی روشنی میں واقف ہونے کی بنا پر ان کی سینئر پوسٹوں پر ترقی پر اثر انداز ہو سکیں گے۔ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اپنے عہدے کی ملازمت کے دوران کچھ فیصلے کرتے ہیں جو بعض ارکان پارلیمنٹ کے نزدیک مقبول اور نامقبول بھی ہو سکتے ہیں۔ اب جب ان کی 20گریڈ یا اس سے آگے ترقی کا موقع آ جائے تو ارکان پارلیمنٹ اپنی رائے دے سکیں جو ان کے ماضی کے تجربات پر مبنی ہوگی۔ کسی بیوروکریٹ نے ان کے کام کیے ہوں گے کسی نے نہیں کیے ہوں گے۔ ارکان پارلیمنٹ کی یہ شکایت کہ جب وہ اپنے علاقے کے کام لے کر جاتے ہیں تو بیوروکریٹس ان کے کام نہیں آتے محض بیوروکریٹس سے نہیں ہے۔ وہ اپنے وزراء اور خود وزیر اعظم سے بھی یہی شکایت کرتے ہوئے بالعموم نظر آتے ہیں۔ اکثر ارکان پارلیمنٹ یہ شکایت کرتے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف انہیں ملاقات کا وقت نہیں دیتے یا یہ کہ وزراء انہیں ملاقات کا وقت نہیں دیتے۔ بیوروکریٹس کے بارے میں تو کہا جارہا ہے کہ ان کے لیے قانون سازی کر دی جائے ۔ یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ تمام سیکرٹریوں کو پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شریک ہونے کا پابند کیا جائے۔ تو کیا وزیر اعظم اور وزراء کے لیے بھی پارلیمنٹ کو یہ قانون بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ وہ بھی ارکان پارلیمنٹ کو وقت دیا کریں اور ان کی ٹیلی فون کالز سنا کریں۔ سیکرٹریوں کو پابند کرنا مقصود ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اجلاسوں لازماً شریک ہوا کریں تو کیا وزراء پر بھی یہ لازم ہوگا کہ وہ پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شریک ہوا کریں۔ گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پارلیمنٹ کے کتنے اجلاسوں میں شرکت کی' کتنے وزراء پارلیمنٹ کے اجلاسوں سے غیر حاضر رہے اور خود ارکان ِ پارلیمنٹ کیا تمام اجلاسوںمیں شریک ہوتے ہیں اور کارروائی میں فعال حصہ لیتے ہیں۔ 

اداریہ