Daily Mashriq

ناتمام جمہوری عمل!

ناتمام جمہوری عمل!

ہمارے یہاں سیاسی ' سماجی اور صحافتی دانشوروں میں اس بات پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ ہمارے بیشتر مسائل ، خواہ وہ کسی بھی نوعیت کے ہوں، ان کا حل جمہوری نظام کی تشکیل ِنو اور تسلسل و استحکام سے وابستہ ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ جمہوریت اور جمہوری نظام ہی ہمارے مسائل کو حل کر سکتا ہے کیونکہ جمہوریت محض ایک حکومتی نظام کا نام نہیں بلکہ جمہوری عمل لوگوں میں برداشت ' رواداری اور ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے اور بالخصوص قانون کی حکمرانی کو قبول کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ انہی عوامل کے ذریعے ہم ایک پرامن' انصاف پسند اور برابری کی بنیاد پر چلنے والا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ ایک پرامن معاشرے کی ضرورت آج اس لیے بھی محسوس کی جاتی ہے کہ ہم بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصے سے عملاً ایک پرتشدد معاشرے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر بگاڑ اور بربادی کی ایک مکمل کہانی پیش کر رہاہے۔ اس سے واپسی کا راستہ جمہوریت کو اس کی اصل روح کے مطابق تسلیم کر کے ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں جمہوری عمل اور جمہوری روایات کے مقابلے میں ہمیں عملی طور پر ایک آمرانہ سوچ اور اس پر مبنی نظام کی جھلک واضح طور پر نظر آتی ہے کیونکہ آزادی کے بعد سے لے کر اب تک ہمارا سیاسی تجربہ کہتا ہے کہ جمہوریت ہمیں محض ایک نمائشی عمل کے طور پر دی گئی ہے۔ اگر ہم آزادی کے بعد 70برسوں کا جائزہ لیں تو یہاں روزِ اول سے ہی جمہوریت کی جڑیں پھیلنے ہی نہیں دی گئیں اور جو کچھ جمہوریت کو پھلنے پھولنے کے مواقع ملے بھی تو اس سے جمہوریت سے وابستہ افراد اور حکمران کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ جمہوریت کو فروغ دینے اور پروان چڑھانے کے ذمہ دار افراد کی طرز حکمرانی اور دیگر طور طریقوں نے جمہوری نظام کی ناکامی کا وہ تمام سامان پیدا کیا جو جمہوری عمل کو غیر مسلسل بنانے ' اس کے غیر مستحکم رہنے اور اس کی ناکامی کا باعث بنا۔ اسی طرزعمل کی وجہ سے ہمارے ملک میں سیاسی اور جمہوری عمل کے مقابلے میں 30برس سے زیادہ عرصہ براہ راست فوجی حکمرانی رہی اور جن ادوار میں یہاں سول حکومتیں برسراقتدار رہیں ، ان میں بھی یہی قوتیں پس پردہ رہ کر اپنی بالادستی منواتی رہیں۔ دوسرا المیہ یہ ہے کہ ہم نے جمہوریت کو کلی طور پر اور اس کی اصل روح کے مطابق قبول کرنے کی بجائے اس کے چند پہلوؤں پر ہی اکتفا کر لیا ہے۔ یہاں مراد محض سیاسی جماعتیں یا ان کی قیادتیں نہیں ہیں بلکہ معاشرے کا مجموعی مزاج ہی جمہوری انداز میں تشکیل نہیں دیا جا سکا۔ یعنی ہمارے نزدیک محض انتخابات ' ووٹ کا استعمال ' اسمبلیوں کی تشکیل ' حکومتوں کا قیام ہی جمہوریت ہے اور یہ کہ اگر ووٹ دینے کے عمل میں تسلسل ہوتو جمہوریت مضبوط اور قائم رہ سکتی ہے۔ دراصل یہ سب چیزیں جمہوریت کی مضبوطی کی طرف ایک قدم تو ہو سکتی ہیں لیکن جمہوریت کی مکمل مضبوطی اور بحالی محض ان باتوں سے ممکن نہیں۔ ہندوستان کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں مضبوط جمہوریت ہے اور اس کے جمہوری تسلسل کی وجہ سے اسے جنوبی ایشیائی خطے میں ایک اعلیٰ جمہوریت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان کی جمہوریت کو آج شدید خطرات لاحق ہیںکیوںکہ وہاں کی جمہوریت لوگوں کو زندہ رہنے کے تناظر میں بنیادی مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستان کا معاملہ اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہے کیوں کہ یہاں جمہوری عمل میں کوئی تسلسل ہی نظر نہیں آتا۔ سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں کی جمہوریت سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے بیشتر رہنما عوام کے مقابلے میں پس پردہ قوتوں سے ملی بھگت کرکے اقتدار میں آتے ہیں۔ اس لیے اگر یہاں جمہوری عمل کامیاب نہیں ہو سکا تو اس کی ذمہ داری محض کسی ایک گروہ یا فریق پر عائد نہیں کی جا سکتی بلکہ تمام فریق کسی نہ کسی شکل میں آج کی غیر جمہوری صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔ جمہوریت کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر ایک جمہوری معاشرہ نہیں ہے کیونکہ عملاً اس معاشرے میں جاگیردار ذہنیت' طبقاتی تقسیم' برادری کی مضبوط جکڑبندی' قبائلی اور سرداری نظام موجود ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں جمہوریت کا ایک واضح اظہار انتخابات کا تسلسل ہوتا ہے اور لوگ ووٹ کی طاقت کی بنا پر جمہوری اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں۔ انتخابات جمہوری استحکام کے لیے ایک مضبوط ذریعہ ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ انتخابات شفاف ہوں تاکہ لوگوں کے سیاسی فیصلوں کو طاقت دی جا سکے۔ لیکن بدقسمتی سے ہر انتخاب میں پس پردہ قوتوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا اور انہی کی بنیاد پر یہ طے کیا گیا کہ کن لوگوں کو اقتدار میں لانا ہے اور کن لوگوں کو اقتدار سے باہر رکھنا ہے۔ ہمیں اس غلط فہمی سے بھی باہر نکلنا ہوگا کہ لوگ یہاں جمہوریت کے لیے ووٹ دیتے ہیں کیونکہ جو ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار موجود ہے وہ کسی بھی طرح جمہوری نہیں۔ اس کے مقابلے میں ہم ووٹ خالصتاً برادری' مذہبی بنیادوں ' شخصیت پرستی خوف ' جبر ' دھونس دھاندلی سمیت پیسے لے کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں جو خالصتاً جمہوریت کی ترقی کے لیے ووٹ ڈالتے ہیں۔ اس لیے ووٹ کے انداز اور طریقہ انتخاب کو بدلنا ہوگا اور یہ کوئی آسان کم نہیں، اس کے لیے سیاسی و سماجی سطح پر ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ 

اداریہ