تقریر بازی سے خالص دودھ کی دستیابی تک

تقریر بازی سے خالص دودھ کی دستیابی تک

مدت سے پھیکی چائے پینے کی عادت پڑ چکی ہے۔ ہمارے بزرگ دوست قمر راہی جو اب ہم میں نہیں رہے۔ وہ بھی بغیر شکر کی چائے پینے کے عادی تھے۔ خوراک کی لذتوں سے خود کو بچائے رکھنا تزکیہ نفس کی نشانی ہوتی ہے۔ وہ بتاتے کہ میں نے 40 سال سے آم منہ کو نہیں لگا' پلائو نہیں کھایا' مٹھائی کا ذائقہ بھول چکا ہوں۔ اسے ہم نفس پر قابو پانے کی ایک بہترین مثال کہہ سکتے ہیں۔ صوفیاء بھی کم خوراک' تھوڑی نیند اور قلیل گفتگو کو روحانی بالیدگی کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ پہلی دو عادتوں پر تو ایک حد تک ہم بھی قابو پا چکے ہیں۔ اس میں ہماری ذاتی کاوشوں کاکچھ زیادہ عمل دخل نہیں اور نہ اس میں ہمارا کوئی کمال ہے۔ اپنے معدے کی ساخت کی وجہ سے کم خوراکی ہماری عادت بن چکی ہے۔ نیند سے تادیر لطف اندوز ہونے کی بچپن میں ابا نے کبھی اجازت نہ دی' چرگ بانگ مال۔ یاد رہے یہ صبح کاذب کا وقت ہوتا ہے۔ ابا ہماری چار پائی کو لاتیں مار کر ہمیں جگا دیتے تھے۔ کسی حسین خواب میں مگن ہونے کی وجہ سے اگر نہ جاگتے تو پھر وہ گھونسوں سے کام لیتے۔ نشانہ ہماری چھاتی ہوتا۔ ہم ہڑ بڑا کر چار پائی سے چھلانگ لگاتے ہوئے سیدھے مسجد تک دوڑتے ہوئے رستے میں ہوش میں آتے۔ صوفیاء نے روح کی بالیدگی کے لئے تقلیل کلام کی جو شرط مقرر کر رکھی ہے اس پر عمل کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ ہمارے صوفی نہ بننے کی یہی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس میں ہمارا زیادہ قصور بھی نہیں' مشیت ایزدی نے باتیں کرنا اور خوب باتیں کرنا ہمارے رزق کا وسیلہ بنا دیا ہے۔ ہم وکیل نہیں جن کے لئے کابل والوں نے کڑتا ونڑ زیادہ باتیں کرنے والے کی اصلاح وضع کر رکھی ہے۔ البتہ تقریر کرنا اور بار بار تقریر کرنا ہمارے فرائض منصبی میں شامل تھا۔ قدرت نے ہماری قسمت میں لیکچرر یعنی تقریر باز بننا لکھا تھا اور ہم پورے پینتیس سال تک روزانہ تین سے چار تقریریں کرکے روزی کماتے رہے۔ بعض ستم ظریفوں کا خیال ہے کہ Noise pollution کی ایک بڑی وجہ ہماری یہ مسلسل تقریریں بھی ہیں۔ جانے یہ لوگ اس ضمن میں سیاستدانوں کی بات بے بات پر تقریریں جھاڑنا' ٹاک شوز میں شرکاء کی گفتگو' بازاروں میں عطائیوں کی مجمع بازی کو اور اور۔۔ چلئے ان کا ذکر ہی جانے دیجئے ' کیوں نظر انداز کردیتے ہیں مانتے ہیں فضائی آلودگی کی ایک وجہ ہماری تقریریں بھی ہوں گی لیکن اس کا سارا الزام ہم پر دھرنا مناسب نہیں۔ تمہید قدرے طویل ہوگئی۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ پھیکی چائے کو گوارا بنانے کا نسخہ قمر راہی مرحوم نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ بناتے وقت اس میں پانی نہ ڈالا جائے۔ ان کی بات اس لئے درست تھی کہ یہ کام گوالے پہلے سے کردیتے ہیں اور کسی کو چائے میں مزید پانی ملانے کی زحمت نہیں دیتے تو آج صبح جب ہم نے چائے کی پہلی چسکی لی تو ذائقہ بہتر لگا۔ پوچھا' گوالا بدل لیا ہے یا اس پرانے نے اپنی عادت بدل دی ہے۔ کیوں؟ آج چائے میں دودھ کا ذائقہ کچھ نمایاں معلوم ہوتا ہے۔ جی ہاں' یہی سوال جب ہم نے گوالے سے کیا بڑا صاف گو آدمی ہے بولا' پانی کی مقدار تو خیر جو پہلے تھی اب بھی وہی ہے کہ اس سے وارہ نہیں کھاتا' وارہ کی وضاحت انہوں نے کچھ اس طرح کی کہ سرکار دودھ کے نرخوں میں اضافے کی اجازت نہیں دیتی۔ خالص دودھ بیچنے میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا' مجبوراً پانی ملانا پڑتا ہے۔ البتہ یہ پانی میں نے خالص اور صاف کردیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے چائے کے ذائقے میں جو تبدیلی محسوس کی وہ خالص دودھ کی وجہ سے نہیں خالص پانی کی وجہ سے تھی۔ ایک انکشاف ہمارے نیک سیرت گوالے نے یہ کیا کہ وہ بھینسوں سے زیادہ سے زیادہ دودھ حاصل کرنے کی لالچ میں کوئی ٹیکہ بھی استعمال نہیں کرتا۔ اس پر بھی ہم نے اس کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ٹیکے کے استعمال سے بھینس کے خالص دودھ کو زہر آلود نہیں کرتا۔ یہ ایک ایسی آلودگی ہوتی ہے جو جسم کے قدرتی نظام میں توڑ پھوڑ پیدا کرکے آپ کو بے شمار ایسی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا کرسکتی ہے جس کا طبی سائنس میں ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا۔ ناقابل علاج ہیپاٹائٹس بچوں کی بیماریاں' جلدی امراض 'یاد داشت کی کمی اسی زہر آلود دودھ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ بچھڑے کے د ودھ پینے سے بھینس گائے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیتی ہے' بچھڑے کا اپنے حصے کا دودھ پینے کے بعد گوالا پھر برتن میں دودھ دھونے لگتا ہے' گائے یا بھینس سے دودھ حاصل کرنے کا یہی ایک بے ضرر طریقہ ہے لیکن اب' جی ہاں اب' گوالے صاحبان دودھ بچانے کی خاطر دودھ پر پلنے والے کم عمر بچھڑے کووقت سے پہلے فروخت کردیتے ہیں اور پھر جانوروں کو ٹیکہ لگا کر دودھ حاصل کرتے ہیں۔ بازار میں یہ ٹیکے کھلے عام فروخت ہوتے ہیں جس کے لگانے کے تھوڑی دیر بعد بھینس اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیتی ہے اور پھر گوالے پھر ان کے تھنوں سے دودھ کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیتے ہیں۔ کیا ہمارے ملک میں ایسا کوئی محکمہ نہیں جو دودھ بیچنے والوں کو اس گھنائونے اور انسانی صحت کے لئے انتہائی تباہ کن کاروبار سے روکنے کا کوئی طریقہ کار وضع کرسکے۔ یقینا ہوگا' لیکن ان کا جانوروں سے دودھ نچوڑنے والے ٹیکوں کی فروخت پر کوئی اعتراض نہیں۔ یہ ٹیکے ملک میں ہی کوئی فارسیوٹیکل کمپنی بناتی ہوگی' کیا حکومت کو اس کا علم بھی نہیں؟ اگر ہے تو وہ اس پر پابندی کیوں نہیں لگاتی۔ ہمارے شہر کی اندرونی گلی میں واقع دودھ کی ایک دکان سے شرطیہ خالص دودھ بھی دستیاب ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ گوالا ایک اقلیتی برادری سے تعلق رکھتا ہے۔

اداریہ