Daily Mashriq


رنگ روڈ اور گرد وغبار

رنگ روڈ اور گرد وغبار

بارشیں اب کے روٹھ گئی ہیں ،زمین پیاسی ہے ،آسمان نامہربان ہے ۔ ہر سو خشک سالی کا راج ہے ۔ الرجی کی بادشاہت ہے ۔ ہر کوئی کھانس رہا ہے ۔دو نمبر کی دوائیوںکاکاروبار چل رہا ہے ۔ لوگ سیلف میڈیکیشن سے اپنا علاض خود کررہے ہیں ۔ زندگی بہرحال چل رہی ہے لیکن یہ زندگی دکھ بھری زندگی ہے کہ خوشی جوہم سے روٹھ گئی ہے ۔نعمتیں ہزار ہیں اس خلاق کی مگر بارش تو زندگی ہے ۔زندگی کو خدشے لاحق ہیں ۔ اللہ اپنے کاموں پر خوب سمجھتا ہے اس کی حکمتیں وہی جانتا ہے ۔انسان بہرحال انسان ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر چیں بہ جبیں ہوجاتا ہے ۔اب کے موسم کی بے وفائی کا اثر چارسو پھیلا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔ بارش نہیں ہوئی تو گردوغبار کی حکمرانی ہے ۔ مجھے مسلسل کئی دنوں تک حیات آباد جانا پڑا ۔شہرحیات جی ٹی روڈ پر سفر کرنا تو اعصابی طور پر میرے لیے ناممکن ہوچکا ہے ، ٹریفک کا اژدھام ،اور بے ترتیبی، کم فاصلہ بھی اعصاب کو صدیوں کی تھکاوٹ عطا کردیتا ہے ۔ سو حل یہ نکالا کہ رنگ روڈ سے زیادہ فاصلہ طے کرلیا جائے لیکن اعصاب کو کم از کم تھواڑا سا سکون تو میسر ہوگا ۔رنگ روڈ یقینا ایک سود مند اور مفید روڈ ہے ۔اگرچہ اس روڈ پر بھی ہمارے رویے منہ چڑاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ہمارے ہاں ٹریفک کا سب سے بڑا مسئلہ LANEکا ہے ۔ جس کا جو دل کرے اسی لین پر اپنا راستہ نکالنے کی کوشش کرتا ہے ۔رنگ روڈ پر تو زیادہ تر بڑی گاڑیاں ہی چلتی ہیں لیکن چھوٹی گاڑیاں بھی کم نہیں ہوتیں ۔اتنی کشادہ سڑک پر بھی ٹریفک رک جائے تو غصہ آتا ہے کیونکہ ٹریفک کے بہاؤ میں اس رکاوٹ کی وجہ ہماری بے حسی ہوتی ہے۔ ہم کسی کو گزرنے نہیں دیتے ۔ اگر ہم تھوڑا سا حوصلہ کرلیںاور جس گاڑی کا حق ہو اس کو گزرنے دیں تو بہت سے مسئلے کم ہوسکتے ہیں ۔ میں البتہ ایک اور حوالے سے رنگ روڈ کو دیکھتا ہوں ۔ یہ رنگ روڈ پشاورکے سرسبزاور زرخیز علاقوں میں بنائی گئی ہے ۔ حیات آباد تک جاتے اور آتے ہوئے اس بات کا شدت سے دکھ ہوتا ہے کہ اتنے خوبصورت لینڈ سکیپ کو ہم نے بالکل شرماکررکھ دیا ہے ۔ والی سوات کے زمانے میں وادی سوات میںیہ حکم رائج تھا کہ سڑک کے کنارے آبادیاں نہیں بنائی جائیں گی بلکہ یہاں تک حکم تھا کہ سڑک کے کناروں پر کوئی نہیں بیٹھے گا،نہ ہی کوئی سڑک پر لگے ہوئے درختوں کے پتے تک کوتوڑسکے گا۔والی صاحب کا یہ حکم صرف حکم نہیں تھا بلکہ اس حکم پر من وعن عمل بھی ہوتا تھا۔مجھے والی صاحب کے اس حکم کو سن کر بڑا اچھا لگا کہ انہیں اپنی وادی کے حسن کا احساس تھا ۔ آج بھی آپ سوات جائیں تو اس حکم کے اثرات آپ کو ملیں گے ۔اسی لیے سوات کو دنیا کے خوبصورت مقامات میں شمار کیا جاتا ہے ۔رنگ روڈ کے لینڈ سکیپ کو اسی قانون کی عدم موجودگی کی وجہ سے گہن لگ چکا ہے ۔ سڑک کے کنارے پر بنی ورکشاپوں ،دکانوں وغیرہ نے اس روڈ کے سارے لینڈ سکیپ کوبرباد کرکے رکھ دیا ہے ۔ آنکھیں ترس جاتی ہیں کہیں کوئی کھیت نظر آجائیں ۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے ذوق سلیم کو کیا ہوگیا ہے ۔ہم زندگی کو استھیٹک سینس کے بغیر بھلا کیسے گزار لیتے ہیں ۔ مکان بناتے ہیں تو اس میں جو فیشن چل رہا ہے اسی پر مکان بنالیتے ہیں حالانکہ بہت سی ایسی چیزیں ہوسکتی ہیں کہ جن سے انہی پیسوں میں ایک تخلیقی عمارت بناسکتے ہیں ۔ دو تین مرلے کے گھر میں ہم کم از کم چند گملے تو رکھ سکتے ہیں اور ان گملوں میں کچھ پھول تو اگاسکتے ہیں ۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جب آپ اپنے ہاتھوں سے کوئی پودا اگاتے ہیں تو اس میں کھلنے والا پھول آپ کو اپنے بچوں کی طرح عزیز ہوگا۔اس کی خوشبو آپ کے لیے عام پھولوں سے انوکھی ہوگی ۔ اور کچھ نہیں تو ہم اپنے چھوٹے چھوٹے گھروں میں ایسے پودے لگاسکتے ہیں جو سائے میں اور کم دھوپ میں بھی پنپ سکتے ہیں ۔اس سے کم از کم ہماری اپنے گھر سے محبت تو بڑھ سکتی ہے ۔ لیکن ہم ایسے لوگ ہیں کہ جواپنے گھروں سے تو محبت کرتے ہیں ۔لیکن شہر ہمیں ہمارا گھر نہیں لگتا اسی لیے تو ہمارا شہر ہمارے گھروں سے کم خوبصورت ہے بلکہ یوں کہیئے کہ بالکل بھی خوبصورت نہیں ہے۔ اس رنگ روڈ کی مثال ہمارے پاس موجود ہے کہ ایک خوبصورت منظر نامے کو ہم نے ناقابل برداشت بناکر رکھ دیا ہے ۔ یہ سڑک کہ جس کے کنارے پھول اگاسکتے تھے وہی سڑک یہاں دھول اڑاتے ہیں ۔ ہماری بے حسی کانوحہ کرتی یہ رنگ روڈ مجھے آتے جاتے اداس کردیتی ہے ۔ یہ سڑک اداروں کی بے حسی کی وجہ سے ایک کباڑخانہ بن کر رہ گئی ہے ۔ اللہ کے بندواگر والی سوات کی طرح سڑک پر آبادیاں نہیں رکواسکتے تو کم از کم اتنا تو کرلو کہ سڑک کنارے بننے والی کنکریٹ کی عمارتیں بنانے والوں کو اتنا تو پابندکرسکتے ہوکہ بھائی عمارت بناؤ لیکن اس عمارت کی خوبصورتی کے لیے اس کے نقشے کو ایسا بناؤ کہ آتے جاتے لوگوں کی آنکھوں کو اچھا لگے ۔ اب بھی کچھ عمارتیں اس سڑک پر موجود ہیں کہ جو آنکھوںکوبھلی لگتی ہیں ۔کیا سب عمارتوں کو حکم نہیں دیا جاسکتا ۔یا کوئی ادارہ اس کی بیوٹی فیکیشن کا کوئی پروگرام نہیں بناسکتا جس کے تحت حکومت اور ان عمارتوں کے مالکان کوئی ایسا امکان تلاش کریں ۔اس سڑک کے کنارے پھیلی بدصورتی کو خوبصورتی میں تبدیل کیا جاسکے ۔ 

متعلقہ خبریں