Daily Mashriq

بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ!

بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ!

اقوام متحدہ کے 31ممبر ممالک آج بھی اسرائیل کو الگ ریاست تسلیم نہیں کرتے،بلکہ اسرائیل کو فلسطین پر قابض سمجھتے ہیں۔نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے بعد امریکہ میں مسلسل مظاہرے ہورہے ہیں، ان میں کچھ وہ لوگ ہیں،جو ٹرمپ کو اس لیے پسند نہیں کرتے کیوں کہ ٹرمپ ''پرواسرائیلی''ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکی عوام ٹرمپ کی حکومتی ٹیم میں شامل سٹیو بینن،جیسن گرین بالٹ،فریڈ مین،کوشنر اور ایونکا ایسے''اسرائیل نواز''یہودیوں کی شمولیت پر سخت نالاں ہیں۔امریکی اور یورپی عوام کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمان بھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں۔ اسرائیل سے نفرت کی بنیادی وجہ فلسطین اور مسجدا قصی پرصہیونیوں کا قبضہ کرنا اور فلسطینی عوام پر ظلم ڈھانا ہے۔ ایک طرف اسرائیل سے دنیا بھر کے مسلمانوںکے جذبات کا یہ عالم ہے، دوسری طرف بھارت کی اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی قرابتیں ہیں۔اسرائیل کے ساتھ بھارت کے تعلقات کی تاریخ طویل ہے۔ باضابطہ طور پر 1950ء میں بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرونے یہ کہہ کر کہ''اسرائیل ایک حقیقت ہے''اسرائیل کوخودمختارریاست تسلیم کرلیاتھا۔لیکن عوامی دباؤاور سیاسی مفادات کی وجہ سے باقاعدہ سفارتی تعلقات 42 سال تک خفیہ رکھے۔چنانچہ 1992ء میں بھارت نے پہلی مرتبہ اسرائیل میں سفارت خانہ کھولا،جس کے بعد مستقل سفارتی ،اقتصادی اور دفاعی تعلقات بڑھنا شروع ہوئے ۔1997 میں اسرائیل کے ساتویں صد ر عیزوایزمان پہلے اسرائیلی صدر تھے جنہوں نے بھارت کا دورہ کیا اور انڈیا کیساتھ اسلحے کی ڈیل کی۔اس کے بعد1999 میں کارگل جنگ کے موقع اسرائیل نے کھل کر بھارت کی حمایت اور مددکی، جس کا اقرار 2008ء میں اسرائیلی سفیر نے بھی کیا۔2000ء میں اسرائیلی نیوی نے بھارتی نیوی کے ساتھ مل کر بحیرہ عرب میں سمندری مشقیں کیں اور اسرائیل نے بھارت کو پانی کے اندر ہتھیار لے جانے والے میزائل فروخت کیے۔اس کے علاوہ بھارتی خفیہ ایجنسی''را ''بھی شروع سے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے۔90کی دہائی میں پاکستان نے را اور موساد کے پاکستان مخالف خفیہ تعلقات پر اس وقت آواز اٹھائی جب سیاحت کے نام پر دو اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے اہلکار مقبوضہ کشمیر میں آئے،ان میں سے ایک کو کشمیری مسلمانوں نے مار دیا اور ایک کو اغواکرلیا تھا۔نریندرمودی حکومت کے آنے کے بعدسیاسی اور دفاعی سطح پر اسرائیل کے ساتھ بھارتی تعلقات میں ماضی کی نسبت دوگنا اضافہ ہوا ہے۔انڈین میڈیا کے مطابق 2006میں مودی اسرائیل کا وزٹ کرچکے ہیں اور اسرائیلی حکومت کے ساتھ گہرے مراسم رکھتے ہیں۔اس کااندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ2014 میں یہودیوں کے خاص تہوار''چانوکا''کے موقع پر مودی نے عبرانی زبان میں نیتن یاہو کوٹوئٹر پر مبارکبادی ،جواب میں نیتن یاہو نے ہندی میں مودی کا شکریہ بھی ادا کیا۔بھارت اسرائیل دوستی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ اسرائیل ہی سے خریدتاہے۔اس کے علاوہ سیاحت اور تعلیم کے نام پربھی دونوں ملکوں میں بہت زیادہ قرابت ہے۔ اسرائیل کے ساتھ انڈیا کی قربتوں کی اس مختصر داستان کے بعد ایک نظر دونوں کے مشترکہ اہداف پر بھی ڈال لی جائے تو اس دوستی کی گہرائی مزید کھل کر سامنے آجائے گی۔اسرائیل مسلمانوں کی زمین پر قبضہ کرواکے بنوایا گیا ،دوسری طرف ہندوستان میں مسلمانوں کی ساڑھے آٹھ سوسالہ حکومت ختم کرکے عالمی قوتوں نے بھارت کو ایک الگ ملک بنوایا۔ دونوں کے الگ الگ ملک بننے میں نوماہ کا وقفہ ہے۔ امریکہ آج بھی اسرائیل کو یومیہ10.2ملین ڈالرفوجی امداددیتاہے،جب کہ آئندہ دس سالوں میں 38 بلین ڈالر کی امداد اس کے علاوہ دے گا۔دوسری طرف اسرائیل کی طرح بھارت کی طرف بھی امریکہ کا جھکاؤ بہت زیادہ ہے۔چائنا اور پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے امریکہ ہمیشہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف منصوبے بناتا رہاہے۔بنگلہ دیش کی علیحدگی میں بھی بھارت کے ساتھ مل کر امریکہ نے پاکستان کو کمزور کیا۔اسی طرح اسرائیل فلسطینی مظلوم مسلمانوں پر پچھلے ستر سالوں سے ظلم کررہا ہے،دوسری طرف بھارت بھی ستر سالوں سے کشمیری مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہاہے۔ پاکستان مخالف بھارت اسرائیل کا یہ اتحاد اور پھر مودی حکومت کے آنے کے بعد اس اتحاد میں پختگی اور اضافہ پاکستان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کررہاہے ۔ایک طرف بھارت پاکستان کے خلاف اسرائیل کے ساتھ قربتیں بڑھارہاہے،دوسری طرف سی پیک کیخلاف بھارت امریکہ ، اسرائیل، افغانستان اور ایران کیساتھ مل کر لابنگ کررہا ہے۔کشمیر میں چارماہ سے جاری بھارتی جارحیت، ایل او سی پر بھارتی بزدلانہ کارروائیاں، پاکستانی سمندری حدود کی خلاف ورزی، بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے منصوبہ سازی اور گواد رکے مقابلے میں چاہ بہارپورٹ میں 500 ملین سے زائد کی سرمایہ کاری کا مقصد صرف پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔پاکستان مخالف بھارتی اتحادسے نمٹنے اورسی پیک کو کامیاب بنانے کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے تعلقات کوچائنا ،جاپان، روس اور اسلامی ملکوںترکی ،خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اوریورپی ممالک کے ساتھ مضبوط کرے اور تجارتی،اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دے۔

اداریہ