Daily Mashriq


اسلام آباد میں دھرنا اور ارکان پارلیمنٹ

اسلام آباد میں دھرنا اور ارکان پارلیمنٹ

اسلام آباد اور راولپنڈی کے جنکشن فیض آباد میں تحریک لبیک کے دھرنے اور حکومت کی اسے ختم کرانے کی کوششوں نے چودھویں دن اخبارات کی شہ سرخیوں میں جگہ بنا لی ہے۔ یعنی معاملے کی اہمیت اور سنگینی اب شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔دوروز سے دھرنا دینے والوں اور حکومت کے اہم کارپردازوں میں مذاکرات بھی جاری ہیں جن کے بارے میں مختلف اخبارات میں مختلف تاثر سامنے آ رہا ہے۔ مثلاً ’’دھرنا کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے پہلے دور میں پیش رفت‘‘ ’’تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان معاہدے پر اتفاق‘‘ دھرنا ختم کرنے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ڈیڈ لائن آج ختم ہوگی‘‘ ’’دھرنا مظاہرین کو 24گھنٹے کی مہلت‘‘ ’’مذا کرات میں پیش رفت ‘‘ وغیرہ۔ ان شہ سرخیوں سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ مذاکرات کہاں تک پہنچے۔ پیش رفت کہاں تک ہوئی ہے اور اختلاف کہاں تک باقی ہے۔ البتہ فریقین کے اس فیصلے پر ان سے اظہار تشکر کیاجا سکتا ہے کہ وہ مذاکرات کی طرف بڑھے۔ بعض اخبارات کے مطابق مذاکرات کے چار دور ہو چکے ہیں اس لیے امکان ہے کہ جاری بھی رہیں گے اور کامیاب بھی ہوں گے۔ بات یہاں تک نہ آتی اگر حکومت کے نمائندے دھرنے کے شروع ہی میں مذاکرات کی طرف آ جاتے۔ اس کی بجائے انہوں نے مظاہرین کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی۔ وزیر مملکت برائے اُمور داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ مظاہرین کچھ لاشیں اُٹھانا چاہتے ہیں۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ’’خدانخواستہ ایک اور سانحہ ماڈل ٹاؤن برپا ہو سکتا ہے۔‘‘لاشوں اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرف اشارے دانستہ یا نادانستہ طور پر اشتعال انگیزی تھی جس سے اجتناب کیا جانا چاہیے تھا۔ یہ معاملہ ایسا نہیں ہے کہ اس پر دھونس دھمکی کا رویہ اختیار کیا جاتا۔ نہ ایسا کہ اسے ’’کلیریکل غلطی‘‘ کہہ کر ٹال دیا جاتا۔ پھر 24گھنٹے کی مہلت دی گئی اور ٹی وی سٹیشنوں پر یہ تفصیلات نشر ہوئیں کہ آپریشن کے لیے فورسز کو تیار کرلیا گیا ہے۔ پہلی صف میں فلاں پولیس ہے ‘ دوسری صف میں فلاں فورس ہے اور تیسری صف میں ایف سی ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ حکومت دھرنے والوں پر حملہ آور ہونا چاہتی ہے۔ نہ جانے کس کی دانش کام آئی اور یہ آپریشن نہ کیا گیا۔ دھرنے والوں کو بھی داد دینی چاہیے کہ انہوں نے نہایت صبر کے ساتھ یہ تیاریاں دیکھیں اور ان کی طرف سے کسی مبنی براشتعال ردِ عمل کا اظہار نہیں ہوا۔ ان تمام واقعات کے بعد وزیر داخلہ کا یہ اعلان قابلِ تعریف ہے کہ طاقت استعمال نہیں کی جائے گی۔ یہ بھی باعث اطمینان ہے کہ حکمران مسلم لیگ کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کی رہائش پر مذاکرات جاری ہیں جنہوں نے انتخابی اصلاحات کے قانون میں عقیدہ ختم نبوت کے گوشوارے میں ترمیم کے معاملے کی رپورٹ مرتب کرکے پارٹی کے صدر نواز شریف کو پیش کی۔ یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ گوشوارے میں کیا ترمیم ہوئی تھی اور اس کی نشاندہی کے فوراً بعد حکومت نے یہ ترمیم واپس بھی لے لی اور سابقہ گوشوارہ بحال کرکے اس کی پارلیمنٹ سے منظوری بھی لی لیکن یہ بات بار بار دہرانے کے لائق ہے کہ موجودہ اسمبلی اور سینیٹ کے سب ارکان نے اس ناپسندیدہ ترمیم سمیت انتخابی اصلاحات کا بل پاس کیا۔ طریقہ کار کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس کی خواندگی بھی ہوئی ہو گی ‘ اس پر رائے شماری بھی ہوئی اور ایوان صدر سے بھی اس کی منظوری ہو گئی۔ یہ ٹھیک ہے کہ طریقہ کار کے مطابق اس بل کو وزارت قانون نے آخری شکل دی ہو گی اور وزیر قانون نے یہ بل اسمبلی میں پیش کیا۔ لیکن اس حقیقت سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ ساری پارلیمنٹ نے منظور کرکے اسے قانون کی حیثیت دی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سبھی ارکان عوام کے منتخب ذی ہوش نمائندے تھے۔ کسی بل کی زبان اور اس کے مضمرات پر غور کرنا ان کے منصب کی ذمہ داری تھی۔ ان سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ… حکومت والے بھی اور اپوزیشن والے بھی… بغیر دیکھے ‘ بغیر غور کیے کسی بل کی منظوری دے دیں گے جو قانون کی شکل اختیار کرنے کے بعد عوام کی زندگیوں پر اثر انداز ہو گا۔ بعض اخبارات کے مطابق دھرنے والے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وزیر قانون استعفیٰ دے دیں اور اسی مطالبے سے آگے مذاکرات نہیں بڑھ رہے۔ وزیر قانون نے بھی قومی اسمبلی میں اس غلطی کا اعتراف کیا ہے اور اس پر ندامت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اچھا کیالیکن صرف وزیر قانون کو منفرد کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ تمام ارکان پارلیمنٹ کی کوتاہی کی پردہ پوشی کرکے انہیں اس غلطی سے مبرّا قرار دے دیا جائے۔ وزیر قانون کی طرح تمام ارکان پارلیمنٹ کو بھی غلطی کا اعتراف کرنا چاہیے اور اللہ کریم اور پوری قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ وزیر قانون سمیت ان میں سے کسی کو رعایت نہیں دی جا سکتی۔ پارلیمنٹ سے باہر ان تمام لوگوں کو جو دین کے فروغ کے لیے کام کرنے کا دعویٰ رکھتے ہیں ، اپنے آپ کو دین دار اور دین کا محافظ سمجھتے ہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ انہیں مزید کاوش کی ضرورت ہے تاکہ عوام اور ان کے منتخب نمائندے دینی معاملات کو اپنی زندگی میں اور کارکردگی میں کماحقہ اہمیت دیں۔ تحریک لبیک اور حکومت کے مذاکرات اگر آگے بڑھ تو رہے ہیں لیکن نہایت سست رفتاری سے۔ ان کو آگے بڑھانے کے لیے سبھی اہل ایمان کو بالخصوص ارکان پارلیمنٹ اور علماء او رمشائخ کو آگے آنا چاہیے ۔ صبر آزمائی اس حد تک نہیں جانی چاہیے جس کی طرف رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمان اشارہ کر رہے ہیں کہ ملک ایک اور سانحہ لال مسجد کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

متعلقہ خبریں