Daily Mashriq


ڈیرہ کا واقعہ ،عمران خان کا شکوہ

ڈیرہ کا واقعہ ،عمران خان کا شکوہ

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان کے مخالفین سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کی بے حرمتی کے واقعہ کے حقائق کو غلط طور پر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی گمراہ کن کوریج کی جا رہی ہے اور مجرموں کے خلاف مناسب کارروائی نہ کرنے کے بارے میں ان پر اور ان کی پارٹی پر گمراہ کن تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ کہ یہ شرمناک واقعہ ہوا اس سے کوئی انکار نہیںکر رہا۔ پولیس کی رپورٹ ہے کہ گاؤں کے جرگہ نے ملزموں کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ وہ مظلومہ کی بے حرمتی کر سکتے ہیں کیوں کہ مظلومہ کے بھائی نے ملزموں کے خاندان کی ایک خاتون سے نازیبا تعلقات استوار کیے تھے۔ اس اجازت کے تحت ملزموں نے مظلومہ شریفاں کے ساتھ شرمناک سلوک کیا اور اسے شرمناک حالت میں گاؤں میں گھمایا۔ پولیس نے کچھ کارروائی کی لیکن کیا خیبر پختونخوا پولیس نے گاؤں کے جرگہ کے ارکان کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا اور انہیں جرم پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا۔ اس بارے میں میڈیا میں کوئی خبر نہیں آئی۔ مظلومہ نے عدالت میں جا کر بیان دیا کہ اسے پولیس والے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر اس نے اپنا بیان نہ بدلا تو اس کے اہل خانہ پر مقدمے قائم کیے جائیں گے ۔ اس پر آئی جی خیبر پختونخوا مظلومہ کے گھر گئے ‘ اسے تسلی دی اور تفتیشی افسر کو لائن حاضر کر دیا۔ کیا لائن حاضر کرنا کوئی سزا ہے؟ بیان بدلنے کے لیے دھمکیاں دینا اگر قانون کی کتاب میں کوئی جرم ہے تو پولیس افسر کے خلاف اس جرم میں مقدمہ کیوں نہ درج کیا گیا؟ کیا اس رویہ کے باوجو د عمران خان کی قیادت میں خیبر پختونخوا کی حکومت کی پولیس مثالی پولیس کہلا سکتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ دس ملزمان میں سے نو گرفتار کیے جا چکے ہیں ‘ ایک ملزم مفرور ہے۔ لیکن ایک ٹی وی پروگرام میں عمران خان کی سابقہ اہلیہ نے بتایا کہ اصلی ملزم کا نام ہی ایف آئی آر میں درج نہیں ہے۔ اگر مظلومہ جس کے ساتھ ملزموں نے شرمناک سلوک کیا اہم ترین ملزم کا نام بتا رہی ہے تو اس کا نام ایف آئی آر میں درج نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ کیا اس رویئے کے باوجود عمران خان کے اس اعلان کو سچ مان لیا جائے کہ خیبرپختونخوا کی پولیس آزاد ہے اور کسی دباؤ میں نہیں آتی۔ پارٹی کے رکن قومی اسمبلی داور کنڈی نے وزیر علی امین گنڈا پور پر ملزموں کی پشت پناہی کا الزام لگایا۔ علی امین گنڈاپور مظلومہ کے گھر گئے اور انہوں نے کہا کہ اگر ملزم ان کے رشتہ دار بھی ہوں تو بھی ان کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس پر عمران خان نے داور کنڈی کے خلاف انضباتی کارروائی کی۔ یہ معاملہ ان کی پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود مظلومہ نے جس مرکزی ملزم کی نشاندہی کی اس کا نام ایف آئی آر میں درج کیا گیا یا اسے گرفتار کیا گیا؟ اگر ریحام خان نے غلط کہا ہے کہ مظلومہ نے جس مرکزی ملزم کی نشاندہی کی اس کا نام ہی ایف آئی آر میں نہیں ہے تو پولیس کو خیبر پختونخوا حکومت کو یا عمران خان کو اس کی تردید کرنی چاہیے اور ریحام خان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ بصورت دیگر پولیس حکام کو چاہیے کہ وہ مظلومہ کے متذکرہ بیان کے مطابق مرکزی ملزم کا نام ایف آئی آر میں درج کریں اور اسے گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لائیں ۔ پولیس کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ دس میں سے نو ملزم گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا ان گرفتار ملزموں میں جرگے کے ارکان بھی شامل ہیں۔ اب تک جو حقائق سامنے آئے ہیں ان کے مطابق گرفتار ملزم وہ ہیں جنہوں نے شریفاں کو شرمناک حالت میں گاؤں میں گھمایا۔ حالانکہ مجرم جرگے کے ارکان بھی ہیں جنہوں نے مظلومہ کی بے حرمتی کی اجازت دی۔ اگر خیبر پختونخوا پولیس مثالی بن چکی ہے اور سیاسی اثرو نفوذ سے آزاد ہے تو جرگے کے ارکان کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کی گئی جنہوں نے جرم کی اجازت دی۔ جرگے کے ارکان کے خلاف کارروائی نہ کرنا ہی یہ ثابت کرتا ہے کہ پولیس بااثر افراد کو بچانے کے لیے قانون پر عملدرآمد کرنے سے اجتناب کررہی ہے۔ بااثر افراد بالعموم سیاست میں بھی دخیل ہوتے ہیں کیا اسی صورت حال کو عمران خان کہتے ہیں کہ پولیس کو سیاسی اثرو نفوذ سے آزاد کر دیا گیا ہے ۔ اگر جرگہ کے ارکان کا کسی سیاسی جماعت یا شخصیت سے تعلق نہیں ہے تو بھی ان کو محض ان کے بااثر ہونے کی وجہ سے رعایت نہیں ملنی چاہیے۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ معاملے کی پوری چھان بین سے پہلے رائے قائم نہ کریں ‘ نہ کسی پر الزام لگائیں۔ الزام در الزام کا سلسلہ سب کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ زیر نظر معاملے کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل ہونا چاہیے اور سب ملزموں کو سز املنی چاہیے۔

متعلقہ خبریں