Daily Mashriq


پہلے اصلی دشمن پہچان لیں

پہلے اصلی دشمن پہچان لیں

یہ معاملات اتنے آسان نہیں ۔ ان کا حل بھی اتنا آسان نہیں ہوگا ۔ سب سے اہم یہ بات سمجھنا ہے کہ کونسی بات کس کے ساتھ کی جانی چاہیئے ۔ وہ لوگ جنہیں معاملات کی نزاکت کا علم ہی نہیں ہوتا جنہیں کسی بھی معاملے کے بارے میں مکمل علم نہیں ہوتا ، وہ لوگ جب کسی حوالے سے بات کرتے ہیں یااپنی رائے دیتے ہیں تو وہ اکثر اوقات بڑی لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں ، کئی بار ان کا ارادہ بھی کسی گستاخی کا نہیں ہوتا ۔ ان کی نیت بھی غلط نہیں ہوتی ، بس ان کی لاپرواہی سار ا معاملہ بگاڑ دیتی ہے ۔ وہ لوگ جو نام کے مسلمان ہیں انکے لیے تو ہین رسالت کے معاملے کی نزاکت کو سمجھنا ہی ممکن نہیں۔یہ معاملہ آج بھی اُلجھا ہوا ہے کیونکہ ایک جانب وہ لوگ ہیں جو اپنے علم کی پوری صحت کے ساتھ معاملے کی نزاکت سے بخوبی واقف ہیں جبکہ دوسری جانب وہ لوگ ہیں جو ایک بچے کی مانند لاپرواہ ہیں کیونکہ انہیں یہ اندازہ ہی نہیں کہ انگارہ ہاتھ میں پکڑ نے سے ہاتھ جل جائے گا اور منہ میں رکھنے سے زبان جل جائے گی ۔ دونوں جانب ہی ایک دوسرے کا مئوقف پورے طور سمجھنے کے قابل نہیں کیونکہ ہر شخص اپنی اہلیت اور شخصیت کے اعتبار سے معاملے کو دیکھتا اور مسئلے کا حل تلاش کرتا ہے ۔ اور یہ ممکن نہیں کہ ہر بار ہی دو مختلف سوچ اور زاویۂ نگاہ رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کی بات کھلے دل سے سننے کے لیے تیار ہوجائیں یہ درست ہے کہ ہم سب مسلمان ہیں لیکن ہم میں سے غالب اکثریت اپنی مسلمانی سے زیادہ دوسرے کی مسلمانی تو لنے کی فکر میں غلطاں رہتی ہے جسکی ضرورت نہیں ۔ پھر حکومت کی اہمیت اور حکم کی صحت کو سمجھ لینا بھی ایک انتہائی اہم نکتہ ہے ۔ کئی بار ایک خاص حد سے تجاوز کرجانا ، ہر دو جانب سے ہی ظلم میں شمار ہو سکتا ہے ۔ رسول پاک ؐ سے محبت اور اس محبت کے اظہار میں اسلام کی روح پوشیدہ ہے کیونکہ رسول پاک ؐ سے محبت کے بغیر مکمل اتباع ممکن نہیں اور رسول پاک ؐ کا مکمل اتباع ہی اصل اسلام ہے ۔ سب باتیں اپنی جگہ لیکن سوال پھر بھی وہی ہے کہ کیا دونوں جانب سے بات کرنے والے اس مسئلے کا حل تلاش کر بھی رہے ہیں یا نہیں اور انکی سوچ ایک دوسرے کی کسی قریبی ویو لینتھ(Wave length) پر بھی ہے ۔ اب تو بہت سے علمائے کرام بڑے جید لوگ ان مذاکرات میں شامل ہوگئے ہیں۔ جناب احسن اقبال بھی ، راجہ ظفرالحق کی مدد کے لیے موجود ہیں ، زاہد حامد سارے معاملے سے دور ہیں تاکہ کسی قسم کی اشتعال انگیریزی کا باعث نہ بن سکیں ۔ خاموش اور متحرک لوگ بھی شامل ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ معاملے کے حل کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ کئی معاملات میں درستگی بھی عمل میں لائی جاچکی ہے لیکن اب احتجاج کرنے والے یقینا اس معاملے کی جڑ تک پہنچنا چاہتے ہونگے کہ ابتداً ایسی جرأت کی ہی کیسے گئی ۔ اور اس میں دراصل کون ملوث ہے ؟ زاہد حامد اگر غلطی پر نہیں تھے تو پھر کون تھا اور اس کا ارادہ کیا تھا ۔ مجرم کا تعین کر کے اُسے قرار واقعی سزا دلوانا مقصود ہوگا اور ان کا مطالبہ اتنا غلط بھی نہیں دوسری جانب حکومت اور انتظامیہ کا خیال یہ ہوگا کہ اگر یونہی چند ہزار لوگوں کے ہاتھوں شہر یر غمال ہوتے رہے اور وزراء مستعفی ہونے لگے تو عنان حکومت سنبھالنا اور حکومت کا نظام چلانا مشکل ہو جائے گا ۔ حکومت اس وقت شاید معاملے کی نزاکت کو انتظامی حدود تک تو سمجھ رہی ہے جبکہ مذہبی جذبات کو انکی پوری حساسیت کے ساتھ سمجھنا شاید ابھی تک اس کے لیے مکمل طور پر ممکن نہیں ۔ پھر ایک یہ خیال بھی مسلسل فضا میں گردش کر رہا ہے کہ تحریک لبیک کے قائدین شاید اس معاملے کو پورے طور سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انہیں معاملات کو کس حد تک لے کر جانا چاہیئے اور بے وجہ خون خرابے میں پڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ وہ جو بات کررہے ہیں ، ان کے مطالبات اور ان مطالبات کی حساسیت کے حوالے سے ایک عام آدمی بھی بہت کم واقف ہے ۔ عام آدمی کو بھی اس حوالے سے آگاہ کرنے ، اسکی تربیت کرنے کی بہت ضرورت ہے ۔ انتظامیہ سے جھگڑا اس وقت نقصان دہ ثابت ہوگا ۔ کئی بار بہت سی باتیں ابتداً نقصان دہ محسوس ہوتی ہیں لیکن لچک دکھانے سے معاملات احسن طور سے حل ہو جاتے ہیں ۔ اور اس کی مثال بھی رسول پاک ؐ کی زندگی سے ہی لی جا سکتی ہے ۔ صلح حدیبیہ کا معاملہ بھی ہمارے سامنے ہے ۔ اس وقت ابتداً مسلمان بھی رسول پاک ؐ کی حکمت کو پورے طور سمجھ نہ سکے تھے لیکن آج دنیا کی بہترین حکمت عملی کی مثالوں میں صلح حدیبیہ کا ذکر ہوتا ہے ۔ اور اسے پڑھا یا جاتا ہے ۔ یہ سمجھ لینا اور کس وقت کس قسم کی لچک دکھانا ضروری ہے کا تعین کرنا بھی بہت اہم ہے خصوصاً اس وقت جب مد مقابل طاقتور بھی ہو اور ان لوگوں میں سمجھ اور دانش اس حد تک نہ ہو کہ وہ معاملات کی نزاکت سمجھ سکے ۔ اس وقت کے لئے شاید خاصی درستگی عمل میں لائی جا چکی ہے لیکن یہ معاملہ ایسا ہے جس کے پیچھے بیرونی طاقتیں موجود ہیں۔وہ بار بار ہماری بنیاد پر حملہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ ایک مقامی اخبار میں جناب روئیداد خان نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ضیاء الحق کے زمانے میں بھی ایک کوشش ہوئی تھی جس کا تدارک تب ہوا جب ضیاء الحق نے روائید ادخان کو طلب کرلیا ۔ اقبال حیدر کے دور میں یہ کوشش ہوئی ، میں نے اپنے گزشتہ کالم میں اس کا ذکر کیا ۔ یہ ایک بڑی سوچی سمجھی سازش ہے ، وہ بار بار وار کرتے ہیں ، اس کا مقابلہ غصے اور جذبات سے کرنے کے بجائے باقاعدہ حکمت عملی ترتیب دے کر کیا جانا چاہیئے ۔ اس کے لیے لوگوں کو اس حوالے سے مطلع کرنا ، آگاہ کرنا ، انکی تربیت کرنا ضروری ہے ، اب تک جتنی صورتحال میں درستگی ہو چکی اگر کچھ اور بنیادی باتیں اور بھی درست کروانا مقصود ہوں تو کر وا لینی چاہئیں اور معاملے کو فی الحال احتجاج کی کیفیت سے باہر لے آنا چاہیئے۔ اس کے بعد اس حوالے سے ایک تحریک ، ایک مباحثے کا اہتمام کرنا چاہیئے تاکہ تدارک بھی کیا جا سکے اور مستقبل کی کسی کوشش کے مقابلے کی حکمت عملی بھی ترتیب دی جا سکے ۔ پہلے اپنے دشمن کو پہچان لیں ، مقابلہ کرنا تو تبھی ممکن ہوگا ۔

متعلقہ خبریں