عصر حاضر اور قانون توہین رسالتؐ

عصر حاضر اور قانون توہین رسالتؐ

اس بات پر عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان میں کوئی دوسری بات اور رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ ناموس رسالتؐ اور حرمت پر تن من دھن سب قربان ہو جائیں تب ایک مسلمان کی دعا اور خواہش یہی ہوگی کہ ’’ گر قبول افتد زہے عزوشرف‘‘ناموس رسالتؐ اور توہین رسالتؐ کے موضوع پر صحابہ کرامؓ کے دور مبارک سے لے کر ہر دور میں مستند حوالوں کے ساتھ کتب لکھی جا چکی ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ قرآن و حدیث اور علماء و فقہاء کرام کی تحقیق کے مطابق اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گستاخ رسولؐ (مستند و ناقابل تردید دلائل‘ ثبوت کے بعد) واجب القتل ہے۔ اور امت کی تاریخ میں اس قسم کے واقعات ہوتے رہے ہیں اور عاشقان رسالتؐ نے اس حوالے سے عموماً قانون کی پروا کئے بغیر گستاخ رسولؐ پر حملے کئے ہیں۔قیام پاکستان سے قبل جب برصغیر پاک و ہند پر برطانوی راج قائم تھا اس وقت ہندوئوں کی طرف سے جب بعض ایسی تحریریں سامنے آئیں تو غازی عبدالرشید‘ علم الدین غازی اور عبدالعزیز جیسے لوگوں نے گستاخان رسولؐ کا کام تمام کیا۔ انگریز راج میں گستاخ رسولؐ کے لئے دستور میں کوئی خاص قانون سازی نہیں ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ علم الدین غازی پر راجپال کے قتل کی پاداش میں مقدمہ چلا تو ان کو پھانسی ہوگئی۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد اور بالخصوص 1973ء کے آئین کے وجود میں آنے کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔آئین پاکستان اور عدالتوں اور پارلیمنٹ کی کاروائیوں کے بعد شاید 291سی آئین کی وہ شق ہے جس کی رو سے گستاخ رسولؐ کی سزا موت مقرر ہوگئی ہے۔

یہ قانون سازی جس تناظر اور پس منظر و پیش منظر میں ہوئی تھی اس وقت اس قسم کے مذموم واقعات بیرونی عناصر اور ا یجنڈا کی آشیر واد سے سر اٹھانے لگے تھے۔ قادیانی پارلیمنٹ کی متفقہ قانون سازی و کارروائی کے بعد غیر مسلم قرار دئیے گئے تھے اور ان کے بیرونی آقا اس پر بہت سیخ پا تھے اور پھر ایک بات یہ بھی سامنے آئی کہ وطن عزیز کے اندر اس قانون کی آڑ میں بعض مسلمان افراد کی طرف سے اپنے ذاتی مفادات و ایجنڈے کو بڑھانے کے لئے استعمال کی کوششیں بھی ہوئیں جس کی وجہ سے قانون ناموس رسالتؐ کے حوالے سے پاکستان کے حکمرانوں‘ قانون سازوں‘ ججوں اور علماء و عوام پر بہت دبائو آیا۔ مجھے معلوم ہے کہ پاکستانی عوام کا ایک طبقہ اس حوالے سے بہت جذباتی سوچ رکھنے کی بناء پر ان باتوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے ۔ لیکن اس وقت جو عالمی صورتحال ہے اس کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دور مبارک میں اس طرح کے دو تین واقعات ہوئے ہیں۔ بعض حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو ایسے گستاخوں کو قرار واقعی سزا دلانے کا حکم دیا ہے لیکن بعض اوقات اور مواقع پر حکمت سے کام لیتے ہوئے نظر انداز فرمایا ہے۔ کعب بن اشرف اور اس جیسے دیگر گستاخان رسالتؐ کو انجام تک پہنچایا ہے لیکن عبداللہ بن البی بن سلول جیسے لوگوں کو اس کے باوجود چھوڑ دیا ہے کہ اس کا بیٹا صحابی رسولؐ عبداللہؓ بن عبداللہ‘ اپنے باپ کو قتل کرنے کی اجازت طلب کر رہا ہے۔اس واقعے میں کتنا لطیف نکتہ پنہاں ہے یعنی ریاست میں حکمران کی اجازت اور قانون کی عملداری کے بغیر کسی فرد یا جماعت کی طرف سے اپنی دانست میں ’’قانون کا نفاذ‘‘ مزید پیچیدگیوں کو دعوت دیتا ہے۔ کسی بھی منظم اور تسلیم شدہ ریاست میں کسی بھی حوالے سے فرد یا جماعت کا قانون کو اپنی چھڑی بنا کر گھمانا اسلامی تعلیمات میں جگہ بناتا نظر نہیں آتا۔ پاکستان کی ترقی نہ کرنے اور اس پر عالمی تناظر میں دبائو کے اضافے میں اس چیز کا بہت بڑا کردار ہے۔ ہمارے ہاں بعض اوقات سیاست میں مذہبی فیکٹر کو جس طرح داخل کرکے غلط استعمال کیاجاتا ہے وہ آج کے عالمگیر معاشرے میں سپر پاورز کی طرف پاکستان پر دبائو بڑھانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ناموس رسالتؐ کے قانون کے حوالے سے امریکہ اور مغرب کو بہت زیادہ تحفظات ہیں اور یہ بات حقیقت ہے کہ ان کو اس نازک اور مقدس موقف کے بارے میں بہت کم اور وہ بھی غلط معلومات حاصل ہیں۔ لیکن جب ہمارے اپنے ہی لوگ ناموس رسالتؐ جیسے نازک عقیدے کے حوالے سے قانون کی عملداری کو مضبوط و مستحکم بنانے کی بجائے قانون کو ہاتھ میں لے کر اسلام آباد کی طرف مارچ کرکے دھرنا دیتے ہیں یا اور کسی دینی یا سیاسی مسئلے کو حل کروانے کے لئے اسلام آباد کو بند کروانے اور توڑ پھوڑ کی کوشش کرتے ہیں تو اسلام آباد میں موجود مغربی سفارت خانوں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ اپنی حکومتوں کو رپورٹ بنا کر روانہ کردیتے ہیں کہ اسلام آباد خطرے میں ہے اس پر کسی بھی وقت مذہبی انتہا پسندوں کا قبضہ ہوسکتا ہے اوراس کے نتیجے میں پاکستان کا ایٹمی اسلحہ غیر محفوظ ہوسکتا ( اللہ نہ کرے) اور پھر سپر پاورز پاکستان سے قانون ناموس رسالتؐ منسوخ کرنے کے لئے دبائو ڈالنا شروع کردیتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حرمت و ناموس پر صحیح معنوں میں وقت پڑنے پر جان مال اور سب کچھ نچھاور و نثار کرنے کے لئے تیار رہیں لیکن اس حوالے سے غیر ضروری جذبات اور غیر ضروری طور پر اسلام آباد کا گھیرائو کرنے سے گریز کریں کہ اس سے ملک و قوم اور اس مقدس قانون کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کے خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔ ہر حال میں ملکی قانون اور عدالتوں کا احترام وطن عزیز کے استحکام کا باعث ہوگا۔

اداریہ