Daily Mashriq


داعی کا کام کیا ۔۔۔

داعی کا کام کیا ۔۔۔

آج کل پرنٹ ، الیکٹرانک اور بالخصوص سوشل میڈیا پر عالمی مبلغ مولانا طا رق جمیل کو وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ رائے ونڈ میں ملاقات کے بعد ہدف تنقید بنایا جارہا ہے اور کہتے ہیں کہ مولانا طا رق جمیل نے رائے ونڈ میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کیوں کی۔ اور بعض لوگوں نے تو نواز شریف اور مولانا طارق جمیل کی ملاقات کو ایک سیاسی ایشو بنالیا ہے ۔ان کا ایک غیر عقلی ،غیر استد لا لی اور غیر شعوری سوال یہ بھی ہے کہ اُنہوں نے نواز شریف اور اُنکے خاندان کے لئے دعا کیوں کی۔مولانا طا رق جمیل ایک ایسی غیر متنا زعہ شخصیت ہیں جن کی ملا قاتیں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں سے ہوتی ہیں ۔ ان میں تقریباً تمام مکتبہ فکر کے علمائے کرام، سیاست دان،فلمی اداکار ،گلو کار، کھلا ڑی ، فنون لطیفہ سے وابستہ افرادشامل ہیں ۔ اور یہ کسی بھی مبلغ اور خا ص طور پر عالمی داعی کے لئے بُہت زیادہ ضروری ہے۔ اگر داعی یا دعوت دینے والاہر مکتبہ فکر کے لوگوں سے نہ ملے تو اُسکو کیسے معاشرتی اور سماجی بُرائیوں کا پتہ چلے گا۔ اور وہ لوگ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور مسلمان ہوکر بھی دین سے بیگانے ہیں کیسے نور ہدایت سے منور ہوں گے ۔ مولانا طا رق جمیل کا کہنا ہے کہ ہمیں گناہ والے سے نہیں بلکہ گناہ سے نفرت کرنی چاہئے۔ما ضی قریب میں بھی مولانا طا رق جمیل کی بھا رتی فلمی اداکاروں عامر خان ، سلمان خان ، کترینہ کیف اور پاکستان کے کئی فلمی ستا روں اور ڈرامہ اداکاروں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔

مولانا طا رق جمیل نے جماعت اسلامی کے بانی مولانا مو دودی کے فر زند ، جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن، جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سراج الحق ، عالمی مبلع اور بین لاقوامی مذاہب کے تقابلی جائزے کے ماہر ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ملاقاتیں کیں۔ علاوہ ازیں مولانا طا رق جمیل کی ملاقات منہاج القرآن کے ڈاکٹر طاہر القادری اور مولانا فضل الرحمان سے بھی ہو ئی۔ درگاہ موہڑہ شریف بھی گئے۔ وہ اس وقت بھی امام با رگاہوں میں تشریف لے گئے جب گلگت ، بلتستان اور پنڈی میں شیعہ سُنی میں سخت کشید گی پائی جاتی تھی۔ اُنہوں نے فلمی اداکارہ اور ما ڈل وینا ملک اور فلمی اور سٹیج اداکارہ نر گس کے سر پر دست شفقت رکھا ۔ اُنہوں نے کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کا دورہ کیا۔ وہاں پر دین کی دعوت دی اور استدعا کی کہ کراچی کے حالات ٹھیک کرنے میں ایم کیو ایم اپنا کردار اداکرے۔ لیاری بھی گئے اور وہاں عوام کو امن و امان قائم رکھنے کی تلقین کی۔حال ہی میں ان کی ملاقات صوبائی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر سے ہوئی۔وہ کراچی میںسنت وا لجماعت کے مر کزی دفتر باب الدینہ کراچی بھی گئے اور وہاں پر دین کی سر بلندی اور اسلام کی عظمت کی بات کی۔

وہ کئی شیعہ علمائے کرام سے بھی ملے۔ دو سال پہلے پاکستان تحریک انصاف کے سر براہ عمران خان کے گھر گئے اور اُنکے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ مولانا طارق جمیل اکثر و بیشتر اپنی تقاریر میں اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے فروعی اختلافات کو بھلانا چاہئے اور ہمیں ایک اُمت بننا چاہئے۔وہ کہتے ہیں کہ جب تک ہم اُمت نہیں بنیں گیں اُس وقت تک بات نہیں بنے گی۔ 1999میں جب پاکستان مسلم لیگ (ن) حکومت بُحران میں تھی تو اُس وقت مولانا طا رق جمیل نے نواز شریف سے ملاقات کی اور نواز شریف کو 25بڑے مسائل اور ان کے حل کے متعلق ایک حدیث سُنائی ۔ ایک بدھو حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں پیش ہوئے اور ان سے کچھ سوالات پو چھے اور حضورﷺ نے اُسکے جوابات دئیے۔ اُن تمام سوالات کا تعلق انسان کی کردار سازی سے تھا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے استد عا کی کہ بد ھو کے ۲۵ سوالات اور حضور ﷺ کے جوابات کی روشنی میں ایک تقریر تیار کریں تاکہ کابینہ کی میٹنگ میں سنائی جائے۔ مولانا طا رق جمیل نے جب کابینہ کی میٹنگ کے لئے تقریر شروع کی تو اسی اثناء میں پر ویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کی اور اسی طر ح وہ تقریر نہیں سُنا سکے۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مبلغ ہر طبقہ فکر کے لوگوں سے ملتے رہیں گے مگر ہمیں ان پر تنقید نہیں کرنی چاہئے ۔ اگر ہم مولانا صاحب کی تقاریر کا جا ئزہ لیں تو اس سے یہ بات ثابت ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ایک اُمت کی با ت کر تے ہیں اور ہمیشہ یہ با ت کر تے ہیںکہ مسلمان اُمت کو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا چاہئے اور مسلمانوں کو آپس میں تفرقہ نہیں ڈالنا نہیں چاہئے ۔ ڈاکٹر طا رق جمیل دعوت اور تبلیغ کے سلسلے میں سات بر اعظموں تک گئے اور ان کی وجہ سے لاکھوں لوگ مشرف بہ اسلام ہوگئے۔ تبلیغی اور دینی جماعتوں کی بر کت کی وجہ سے اسلام ایک ایسا دین ہے جو ۲۲ فی صد شرح کے حساب سے پھیل رہا ہے۔ دنیا کے تمام ادیان جس میں ہندو ازم ، بدھ مت، یہودیت ، عیسائیت سکڑ رہے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں اسلام پھیل رہا ہے اور اسلام کی وسعت میں دعوت و تبلیغ کا بڑا کردار ہے۔

متعلقہ خبریں