مشرقیات

مشرقیات

جنات انسانی زندگیوں میں دخل اندازی کرتے ہیں اور یہ قرآن وسنت سے ثابت شدہ ہے ۔ جنات کی شرارتوں اور ان کے مظالم کے حوالے سے بہت سے واقعات مشہور ہیں ۔ حضرت سعد بن عبادہ ؓ جو شیردل اکابر انصار میں شمار ہوتے اور بنو خزرج کے سردار تھے ۔ ان کے حوالے سے مختلف روایات مشہور ہیں کہ آپ ؓ کو جنات نے اس وقت شہید کردیا تھا جب آپ ؓ ایک جگہ رفع حاجت کر رہے تھے ۔ اس جگہ جنات کا ٹھکانہ تھا ۔ روایات میں آتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے اس جگہ سے آواز سنیں :’’ ہم نے سعد کو قتل کردیا ہے ‘‘۔ جنات نے اونچی اونچی آوازیں دیں اور شعر پڑھے ، جن کا مضمون یہ تھا ’’ ہم نے سعد بن عبادہ ؓ کو قتل کردیا اورہم نے دو تیر پھینکے ، جوان کے دل میں آرپار ہوگئے ‘‘۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں :’’ سعد بن عبادہ ؓ رفع حاجت کرنے کی کوشش میں کھڑے ہوئے ، پھر لوٹ کر کہنے لگے ، مجھے پشت میں کچھ تکلیف محسوس ہورہی ہے اور پھر چند لمحات بعد وفات پاگئے ۔ اسوقت جنات نے با ٓواز بلند کہا : ’’خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کو ہم نے قتل کیا ہے ، انہیں دل پر دو تیر مارے ہیں اور نشانہ خطا نہیں ہوا‘‘۔ چونکہ حدیث میں آتا ہے کہ بیت الخلا شریر جنات کا مسکن ہوتے ہیں ۔ اسی لئے بیت الخلاجانے سے پہلے خصوصی دعائوں کی تلقین کی گئی ہے ، جن میں جنات وغیرہ کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے ۔ (مشکوٰۃ المصابیح )
تاریخ اسرائیلی روایت میں بلقیس کی طرف سے حضرت سلیمان ؑ کے پاس آنیوالے قاصدوں اور تحفوں کی بڑی تفصیلات مذکور ہیں ۔ اتنی بات پر سب روایات متفق ہیں تحفہ میں کچھ سونے کی اینٹیں تھیںکچھ جواہر ا ت اور ایک سو غلام اور ایک سوکنیز تھیں ،مگر کنیزوں کو مردانہ لباس میں اورغلاموں کو ذنانہ لباس میں بھیجا تھا اور ساتھ ہی بلقیس کا ایک خط بھی تھا ، جس میں سلیمان ؑ کے امتحان کے لیے کچھ سوالات بھی تھے تحفوں کے انتخاب میں بھی ان کا امتحان مطلوب تھا ، حضرت سلیمان ؑ کو حق تعالیٰ نے اس کے تحفوں کی تفصیلات ان کے پہنچنے سے پہلے بتلادی تھیں ۔ سلیمان ؑ نے جنات کوحکم دیا کہ دربار سے نوفرسخ (تقریباً تیس میل کی مسافت ) میں سونے چاندی کی اینٹوں کا فرش کردیا جائے اور راستہ میں دو طرفہ عجیب الخلقت جانوروں کو کھڑا کر دیا جائے ، اسی طرح اپنے دربار کو خاص اہتمام سے مزین فرمایا ، دائیں بائیں چار چار ہزار سونے کی کرسیاں ایک طرف علماء کیلئے ، دوسری طرف وزراء اور عمال سلطنت کے لیے بچھا دی گئیں ، جواہرات سے پورا ہال مزین کیا گیا ، بلقیس کے قاصدوں نے جب سونے کی اینٹوں پر جانوروں کو کھڑا دیکھا تو اپنے تحفہ سے شرما گئے ۔ پھر جوں جوں آگے بڑھتے گئے ، دوطرفہ وحوش وطیور کی صفیں دیکھیں ، پھر جنات کی صفیں تو بے حد مرعوب ہوگئے ، مگر جب در بار تک پہنچے اور حضر ت سلیمان ؑ کے سامنے حاضر ہوئے تو آپ ؑ خندہ پیشانی سے پیش آئے ، ان کی مہمانی کا اکرام کیا ، مگر ان کے تحفے واپس کر دیئے اور بلقیس کے سب سوالات کے جوابات دیئے ۔
(معارف القرآن ملخصااز تفسیر قربطی صفحہ۸۱ ۵جلد ۲)

اداریہ