Daily Mashriq

20سیکنڈ اور 23گھنٹے

20سیکنڈ اور 23گھنٹے

بات صرف بیس سیکنڈ کی نہیں ، قومی رویئے کی ہے ، اہل مغرب تو اس حوالے سے بہت ہی حساس ہیں ، اب جاپان نے بھی جسے عمومی طور پر مغرب سے کوئی تعلق یا واسطہ نہیں ہے ، احساس ذمہ داری کی کیا عمدہ مثال قائم کر دی ہے اور وہاں کی ایک ریل کمپنی نے عوام سے اس بات پر معافی مانگ لی ہے کہ ٹوکیو اور سکوبہ شہر کے درمیان چلنے والی سکوبہ یکسپریس اپنے وقت سے بیس سیکنڈ پہلے روانہ ہوئی ٹرین کو 9بج کر 44منٹ اور 40سیکنڈ پر روانہ ہونا تھا مگر وہ 9.44.20پر روانہ ہوگئی ، کمپنی کاکہنا تھا کہ یہ غلطی اس لئے ہوئی کہ عملے نے ٹائم ٹیبل کو صحیح چیک نہیں کیا ، کمپنی کی معذرت نے مجھے آج سے کئی برس پہلے جرمنی کے شہر کولون کا ایسا ہی ایک واقعہ یاد دلایا ، 1994میں مجھے ریڈ یوڈرامے کی ٹریننگ کے حوالے سے ریڈیو ڈوئچے ویلے ، کولون میں لگ بھگ دو ماہ قیام کرنا پڑا تھا ، ٹریننگ میں پاکستان ، بھارت ، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ریڈیو پروڈیوسر شامل تھے ۔ وہاں ہمیں دو دن کے سٹڈی ٹو ر پر برلن جانا تھا ، ہمارے گائیڈ ز ہمیں صبح تقریباً چار بجے ہوٹل سے ہمراہ لیکر کولون کے مرکزی ریلوے سٹیشن پر لے گئے۔ برلن کیلئے ریل گاڑی صبح چار بج کر 59منٹ پر روانہ ہونا تھی ، ہم سب مطلوبہ پلیٹ فارم پر پہنچے تو گاڑی کا نام و نشان نہیں تھا جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا ہے کہ گاڑیاں آدھا پون گھنٹہ پہلے پہنچ جاتی ہیں تاکہ مسافروں کو چڑھنے میں دقت نہ ہو ، صبح کے چار بج کر 55منٹ ہوئے مگر گاڑی کا دور دور تک پتہ نہیں تھا ، ہم یہی سمجھے کہ اہل مغرب بھی ہماری طرح لاپرواہ لوگ ہیں لیکن ٹھیک چار بج کر 57منٹ پر گاڑی آہستہ آہستہ رینگتی ہوئی پلٹ فارم پر آکر رک گئی اور آٹو میٹک دروازے کھلنے کے بعد اترنے والے اترے ۔ اس کے بعد ہماری طرح سفر کرنے والے سوار ہوگئے ، اور ٹھیک چار بج کر 59منٹ پر گاڑی روانہ ہوگئی ، میں اور میرے ساتھی حیرت سے یہ ساری صورتحال دیکھ رہے تھے ، بعد میں اپنے گائیڈز سے پوچھا کہ یہ چار بج کر 59منٹ کی کیا تک ہے ، پورے پانچ بجے کیوں گاڑی روانہ نہیں ہوتی تو انہوں نے بتایا کہ آگے مختلف قصبوں اور شہروں میں دوسری جانب سے آنے والی گاڑیوں کے ساتھ کراسنگ کیلئے ٹائمنگ کا ایک مربوط نظام ہے جس میں ایک منٹ کی تاخیر سے پورا شیڈول درہم برہم ہو سکتا ہے ۔ اب جاپان کے واقعے کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ صرف 20سیکنڈ ز کے فرق سے کئی مسافر ریل پر سوار ہونے سے رہ گئے ہوں گے کیونکہ ترقی یافتہ ملکوں میں ایک ایک سیکنڈ قیمتی گردانا جاتا ہے ، اس لئے جن مسافروں کو ریلوے والوں کی وجہ سے زحمت ہوئی ہوگی ان سے معافی مانگنا تو بنتا ہے ناں ، یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ہاں تاخیر سے ریل گاڑیوں کے پہنچنے اور روانہ ہونے کے معاملات کوکوئی اہمیت نہیں دی جاتی ، چہ جائیکہ گاڑی وقت سے پہلے پہنچ جائے ۔ اس حوالے سے ایک لطیفہ بہت عرصے تک مشہور رہا ہے کہ ایک بار جب لوگ عوام ایکسپریس پر سوار ہونے کیلئے لاہور ریلو سٹیشن پر ٹرین کی آمد سے آدھ گھنٹہ پہلے پہنچے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ریل گاڑی تو آدھ گھنٹہ سے پلیٹ فارم پر موجود تھی ، تاہم بعد میں پتہ چلا کہ یہ وہ عوام ایکسپریس نہیں تھی بلکہ یہ ایک روز پہلے آنے والی گاڑی تھی جو صرف 23گھنٹے تاخیر سے آگئی تھی اور اس روز والی عوام ایکسپریس بھی چند گھنٹے بعد آنے والی ہے ، یعنی بقول رسا چغتائی 

تیرے آنے کا انتظار رہا
عمر بھر موسم بہار رہا
ویسے تو ہمارے ہاں ریلوے کے نظام پر کئی طرح کے سوال اٹھتے رہتے ہیں ، مثلاً ایک بار ریل گاڑی کا حادثہ ہوا اور متعلقہ وزیر سے عوام نے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ، مگر وزیر ریلوے نے یہ کہہ کر مستعفی ہونے سے انکار کر دیا کہ حادثہ تو ریل گاڑی کے ڈرائیور کی غفلت سے ہوا ہے ، میں وزیر ہوں کوئی ریل ڈرائیور تو نہیں ۔ اب ہمارے ہاں ریل سروس کی کیا صورتحال ہے میں اس بارے میں زیادہ نہیں جانتا کیونکہ آخری بار میں نے ریل گاڑی کا سفر 1993ء میں پشاور سے ملتان تک دو تین بار یوں کیا تھا کہ میرا پشاور سے تبادلہ ریڈیو پاکستان ملتان ہوا تھا ۔ اس دوران ریلوے کی حالت بھی خاصی نقصان سے دوچار ہوگئی تھی ، جبکہ شنید یہ ہے کہ ضرورت سے کہیں زیادہ بلکہ کئی گنا زیادہ بھرتیوں کی وجہ سے ریلوے مسلسل خسارے سے دوچار رہی اور کئی گاڑیاں بند کر دی گئیں ، اس ضمن میں ریلوے میں تعینات ایک خاتون بیورو کریٹ نے جب چند برس پہلے اس دور کے وزیر ریلوے کی خواہش پر ناجائز بھرتیوں سے انکار کیا تو ریلوے منسٹر نے محولہ خاتون افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کی تاہم انہوں نے وزیر موصوف کے اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا اور عدالت سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب رہی ۔
نہ جانے کون دعائوں میں یاد رکھتا ہے
میں ڈوبتا ہوں سمندر اچھال دیتا ہے
تاہم اب یہ بات خوش آئندہے کہ موجودہ وزیر ریلوے کوخو اجہ سعد رفیق نے ریلوے کو ایک بار پھر کئی روٹس پر نفع بخش بنادیا ہے ، نئی سروسز شروع کر کے عوام کو ایک با پھر ریل گاڑی سے سفر کرنے کی ترغیب دیدی ہے ، جبکہ مال گاڑیوں کو بھی منافع کمانے کے قابل بنادیا ہے ، اور اب لوگ ریلوے کے ذریعے سفر کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں ،باتیں تو اور بھی بہت ہیں مگر اسے آئندہ کسی موقع کیلئے اٹھا رکھتے ہیں ۔ تاہم دعا ہے کہ ہمارے ملک میں بھی ایسا وقت آئے جب ریل گاڑیاں عین وقت پر آتی جاتی رہیں ۔

اداریہ