Daily Mashriq


امریکی صدر کا ایک اور بیان

امریکی صدر کا ایک اور بیان

اور امریکہ کے درمیان تعلقات کا اتار چڑھائو نئی بات نہیں لیکن موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدمیں دونوں ملک ایک دوسرے کیلئے ناگزیر نہیں رہے ۔ پاکستان نے جب سے بدلتے حالات اور نئی ضرورتوں کے مطابق امریکہ سے اپنے تعلقات کو نئی ہئیت دینا شروع کی ہے اس سے لیکر اب تک آہستہ آہستہ اتنی تبدیلی آچکی ہے کہ اب امریکہ سے اچھے تعلقات جو کسی دور میں لازم وملزوم سمجھے جاتے تھے اب امریکہ کی حیثیت ایک بڑے ملک کے ساتھ تعلقات کی حد تک آگئے ہیں۔ وطن عزیز کے عوام کا ہر حکومت پر امریکہ سے تعلقات کو حدودقیود کے اندر لانے کا ہمیشہ سے دبائو رہا لیکن حکمرانوں کو عوام کے اس اصرار کی سمجھ خاصی تاخیر سے آئی ایسا لگتا ہے کہ اب پاکستان کیلئے تو امریکہ بہت اہم ملک شاید نہ رہا مگر پاکستان کا شمار اب بھی امریکہ کیلئے اہم ممالک میں ہوتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ امریکہ کے ڈومور اور غیر حقیقت پسندانہ مطالبات اور توقعات ہی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کو امریکہ سے تعلقات میں تبدیلی لانے پر مجبور ہونا پڑاسال رواں کے شروع میں امریکی صدر کے ٹویٹ سے شروع ہونے والے سلسلے کو پاک امریکہ تعلقات کاہیجان خیز دورقرار دینا غلط نہ ہوگا جس کے بعد تسلسل کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ ایسے بیانات دیتے آئے ہیں کہ پاکستان پر زیادہ سے زیادہ بار ڈالا جاسکے جس کا مقصد سوائے اس کے کچھ نظر نہیں آتا کہ امریکہ پاکستان پر زیادہ سے زیادہ دبائو ڈال سکے صدر ٹرمپ نے اتوار کو امریکی ٹیلی ویژن چینل فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کو اپنے ملک میں رکھا ہوا تھا۔انہوں نے کہاپاکستان میں ہر کسی کو معلوم تھا کہ وہ (اسامہ بن لادن)فوجی اکیڈمی کے قریب رہتے ہیں۔ اور ہم انہیں1.3ارب ڈالر سالانہ امداد دے رہے ہیں۔ ہم اب یہ امداد نہیں دے رہے۔ میں نے یہ بند کر دی تھی کیوں کہ وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کرتے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان پر کھل کر تنقید کی ہو۔ اس سال کے آغاز پر انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے15 سالوں میں پاکستان کو33ارب ڈالر بطور امداد دے کر بیوقوفی کی۔ انہوں نے ہمیں سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا۔صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ہمارے رہنمائوں کو بیوقوف سمجھتے رہے ہیں۔ وہ ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جن کا ہم افغانستان میں ان کی نہ ہونے کے برابر مدد سے تعاقب کر رہے ہیں۔اب ایسا نہیں چلے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ بیان کسی طور بھی باعث تعجب اس لئے نہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی لب ولہجہ میں خوشگوار اعتماد پر مبنی تعلقات کا حقیقت میں کوئی وجود تھا ہی نہیں اور اگر ایسا تھا بھی تو یہ وجود نامکمل اور ادھورا تھا کیونکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی نوعیت اس معیار تک کبھی پہنچے ہی نہیں جہاں دونوں ممالک کے درمیان پراعتماد تعلقات قائم ہوتے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو اگر طرفین کی جانب سے سودے بازی تک محدود تعلقات قرار دیاجائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ جب بھی امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی امریکہ نے پاکستان کو قریب کرنے کے اقدامات کئے اور جب ضرورت باقی نہ رہی تو پھر امریکیوں نے بھی منہ موڑ لیا۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے 15سالوں کے دوران پاکستان کو33 ارب ڈالر دیئے، پاکستان نے ستر ہزار شہریوں کی قربانی دیکر دہشتگردی کی وہ جنگ لڑی جسے امریکیوں نے افغانستان سے پاکستان کی سرحد کے اندر دھکیلا تھا۔ ہمارے تئیں سی آئی اے اور آئی ایس آئی کی حریفانہ سرگرمیاں روز اول سے تھیں، خاص طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغانستان میں پاکستان کیخلاف متحرک قوتوں کی سرپرستی سے سی آئی اے منکر نہیں ہو سکتی، جہاں تک اس کے علاوہ سیاسی وعسکری قیادت اوردونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا معاملہ رہا ہے، سفارتی نمائش کا لفظ اس کی بہتر تشریح کیلئے کافی ہے۔ امریکہ نے جتنی بھی امداد دی ہوگی اور پاکستان نے اس کا جو بھی بدلہ چکایا ہوگا وہ وقت اور ضرورت اور اس ملک کا مفاد ہوگا۔ نہ امریکہ نے پاکستان کی محبت میں ڈالروں کی برسات کی ہوگی اور نہ ہی پاکستانی قیادت نے امریکہ کیلئے وہ کچھ کیا ہوگا جو توقعات سے بڑھ کر ہو، جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد کے حالات کا تعلق ہے تو ٹرمپ کا شروع ہی سے پاکستان کیلئے لب ولہجہ موزوں نہ تھا مگر اس کے باوجود پاکستان کیساتھ مختلف سطحوں پر تعلقات میں بہتری کی مساعی کی گئی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب صدر ٹرمپ نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں مدوجزر نئی بات نہیں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات دونوں ہی ممالک کی مجبوری اور ضرورت ہیں ۔ امریکی صدر کو اس امر کو مد نظر رکھنا چاہیئے کہ اتحادی ایک دوسرے کو تنبیہہ جاری نہیں کیا کرتے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ تمام کوئی غیر معمولی صورتحال نہیں اور نہ ہی امریکی لب ولہجہ پہلی مرتبہ دھمکی آمیز رہا ہے ۔ اسامہ بن لادن کی برآمدگی کا معاملہ اس وقت کی امریکی حکومت اور پاکستان کی حکومت کے درمیان طے پاچکا تھا پاکستان اگر اسامہ بن لادن تک امریکی کارروائی سے صرف نظر نہ کرتا توکیا یہ امریکہ کیلئے ممکن تھا کہ وہ اتنی آسانی سے کارروائی کر کے بحفاظت نکل جانے میں کامیاب ہوتا ۔اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ معلوم نہیں صدر ٹرمپ اب اس قضیئے کو چھیڑ کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ پاکستانی قیادت کو امریکہ پر واضح کردینا چاہیئے کہ اگر امریکہ کو پاکستان سے تعلقات کی اہمیت اور ضرورت کا احساس ہے تو اس کیلئے از سر نو معاملات طے کرنے ہوں گے پاکستان نے جس طرح جہد مسلسل سے امریکہ سے اپنے تعلقات کی نہج تبدیل کی ہے اس کو آگے بڑھا نے اور اس پر پوری طرح کاربند رہنے کی ضرورت ہے اور صورتحال کا پورے عزم سے مقابلہ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں