Daily Mashriq


مولانا عبدالوہاب کی رحلت اور ان کی وصیت

مولانا عبدالوہاب کی رحلت اور ان کی وصیت

میں تبلیغی جماعت کے امیر اور معروف مذہبی شخصیت حاجی محمد عبدالوہاب کے انتقال سے ملک عظیم داعی اور دعوت وتربیت کے ذریعے لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف لانے والے شخص سے محروم ہوگیا۔ وہ تبلیغی جماعت کے تیسرے امیر تھے۔ حاجی محمد عبدالوہاب نے اپنی پوری زندگی تبلیغ دین اور اس کی اشاعت کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ حاجی عبدالواہاب کی دعوت تبلیغ کیلئے طویل خدمات کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی ہی وقف نہیں کی بلکہ موت کے بعد بھی ان کو اسی محنت دین ہی کی فکر تھی۔ ان کی وصیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کو دین کی دعوت موت کے بعد بھی مطلوب وعزیز تھی۔ حاجی عبدالوہاب نے 17ستمبر2015 کو اپنی وصیت تحریر کروائی اور دستخط کرتے ہوئے لکھوایا تھا کہ جو کارکن ان کیساتھ محبت یا عقیدت رکھتا ہے تو وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات کو پس پشت ڈال کر آخرت کی تیاری کیلئے دعوت وتبلیغ کے کام کیلئے اپنے گھروں سے نکلیں اور اللہ کے ذکر کو عام کریں، استغفر اللہ اور درودپاک کو کثرت سے پڑھا کریں تاکہ اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو سکے۔ حضرت مولانا عبدلواہاب مرحوم ومغفور کی جوانی سے لیکر تادم وفات تک کی زندگی جس مقصد کیلئے گزری اس مقصد کی ضرورت واہمیت کے ہم سبھی قائل ہیں۔ کم ہی لوگ ہوں گے جو اس کی پیروی سے احتراز یا مخالفین کی صف میں شامل ہوں گے۔ کیا حکمران، کیا شاہ وگدا، کیا علماء وکیا عامیان ہر کسی کی عقیدت کا اظہارازخود اس امر کیلئے کافی ہے کہ جس مقصد کیلئے ان بزرگان دین جس کی آخری نشانی مولانا عبدالوہابؒ مرحوم تھے مسلمانوں کو نہ صرف اس سے روشناس کرایا بلکہ اس مقصد زندگی سے ان کو متعارف کرانے کیساتھ ساتھ ان کو یہ باور اور تسلیم بھی کرانے میں کامیابی حاصل کی کہ اشاعت دین اسلام ہر مسلمان کا بنیادی فریضہ ہے۔ تبلیغی جماعت کے طریقہ کار سے اختلاف ہوسکتا ہے مگر ان کے مقصد سے کسی بھی مسلمان کو اختلاف نہیں۔ ایک بوریا نشین کو دنیا کی بااثر شخصیات کی فہرست میں شامل کرنے کا محرک ان کے مقصد کے بننے سے یہ بات عملی طور پر ثابت ہے کہ جو لوگوں کو اللہ کے راستے پر لانے کی جدوجہد میں شامل ہوں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں عزت ومرتبہ سے نواز دیں گے۔ آخرت کا انعام تو رب کا وعدہ ہے ہی، خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دوسروں کی عاقبت کی فکر کرتے ہیں اور اس کی جدوجہد میں اپنا جان مال اور وقت صرف کرتے ہیں۔ رب العزت مولانا عبدالوہاب کی بشری غلطیوں سے درگزر فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی فکر ومحنت کو پوری ملت اسلامیہ کیلئے نجات کا وسیلہ ثابت کرے۔آمین

ڈاکٹروں کی فیسوں کا جلد سے جلد تعین کر نے کی ضرورت

خیبر پختونخواہیلتھ کیئر کمیشن میڈیکل اینڈ پریکٹیشنر ایکٹ1984ء میں ترامیم کے ذریعے کلینکس چلانے والے ڈاکٹروں کیلئے تین سال بعد بھی معائنہ فیسوں کا عدم تعین عوامی مفادات کے تحفظ میں ناکامی سے بڑھ کر معاملہ ہے۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں نجی کلینکس چلانے والے ڈاکٹرز کیلئے سرکاری سطح پر فیس کے تعین کیلئے کسی قسم کا نظام نہیںہے ۔ڈاکٹرمن پسند فیس وصول کررہے ہیں اس سلسلے میں محکمہ صحت کو کی گئی شکایات کے مطابق پشاور اور صوبے کے دوسرے بڑے شہروں میں سپیشلسٹ اور غیر سپیشلسٹ ڈاکٹر ایک ہزار سے21سو روپے تک کی چند منٹ کیلئے معائنہ فیس وصو ل کر رہے ہیں۔عوام کے مفادات کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے ڈاکٹروں کو ایک خاص حد تک فیس کی وصولی کا اختیار ہونا چاہیئے جس کا تعین حقیقت پسندانہ طور پر کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہ ہونے سے ڈاکٹروں میں زیادہ سے زیادہ فیس وصولی کی دوڑ لگی ہوئی ہے جس کا کوئی حساب اور دستاویز نہ ہونے کے باعث وہ حکومت کو ٹیکس بھی نہیں دیتے ۔ اس ضمن میں جلد سے جلد لائحہ عمل طے کر کے ڈاکٹروں کی فیسوں کا تعین کیا جائے ساتھ ہی ساتھ ایسا نظام وضع کیا جائے کہ نجی پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کی آمدنی سے ٹیکسوں کی وصولی بھی یقینی بن جائے۔

متعلقہ خبریں