Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حکومت کے فرمانروا ہشام بن عبدالملک نے معروف تابعی اور محدث جلیل حضرت امام زہریؒ کا جو امتحان لیا تھا اس میں تو یہ تصریح بھی موجود ہے کہ چار سو حدیثوں کا یہ مکتوبہ مجموعہ تھا۔ قصہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جیسے مروان نے حضرت ابو ہریرہؓ کی روایتوں اور ان کی قوت یادداشت کو جانچنا چاہا تھا‘ اسی طرح اپنے عہد حکومت میں ہشام نے بھی ابن شہاب زہریؒ کا امتحان لینا چاہا۔ اس نے امتحان لینے کی یہ ترکیب اختیار کی کہ ایک دن دربار میں امام زہریؒ کسی ضرورت سے آئے ہوئے تھے۔ اس نے خواہش ظاہر کی کہ ہمارے شہزادے کے لئے کچھ حدیثیں لکھوا دیجئے۔ زہریؒ راضی ہوگئے اور کاتب بلایاگیا۔ زہریؒ نے چار سو حدیثیں شہزادے کے لئے (زبانی) لکھوادیں۔ ایک مہینے کے بعد ہشام کے دربار میں پھر زہریؒ کسی کام سے پہنچے تو ہشام نے افسوس کے انداز میں کہا: وہ کتاب جو آپ نے شہزادے کے لئے لکھوائی تھی وہ تو کہیں گم ہوگئی ہے۔ امام زہریؒ نے کہا تو پریشانی کی کیا بات ہے؟ کاتب کو بلوائیے‘ پھر لکھوائے دیتا ہوں۔ ہشام کی بھی یہی غرض تھی۔ چنانچہ کاتب کو بلایاگیا‘ وہیں بیٹھے بیٹھے امام زہریؒ نے پھر وہی چار سو احادیث دوبارہ لکھوا دیں۔ پہلا مسودہ درحقیقت غائب نہیں ہوا تھا۔ یہ ہشام کی ایک ترکیب تھی۔ جب زہریؒ دربار سے اٹھ کر باہر گئے تو ہشام نے پہلی کتاب کا دوسری دفعہ لکھائے ہوئے نوشتے سے مقابلہ کیا تو معلوم ہوا کہ ایک حرف بھی امام زہریؒ نے نہیں چھوڑا تھا۔کمال کا حافظہ تھا ان کا احادیث کو یاد کرنے میں۔ (بے مثال واقعات)

علامہ دمیریؒ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے شیخ نے واقعہ سنایا کہ شاہ اسکندر نے بلاد مشرق کے ایک بادشاہ کے پاس ایک قاصد روانہ کیا۔ یہ قاصد واپسی میں ایک خط لے کر آیا جس کے ایک لفظ کے بارے میں اسکندر کو شک ہوگیا۔اسکندر نے محرر کو حکم دیا کہ اس خط کے مضمون کو دوسرے کاغذ پر حرف بحرف لکھ کر دوسرے قاصد کے ذریعے بادشاہ کے پاس واپس بھیج دیا جائے اور اس کے سامنے پڑھ کر اس کا ترجمہ کیا جائے۔چنانچہ جب وہ خط شاہ مشرق کے حضور میں پڑھا گیا تو اس نے اس لفظ کو غلط قرار دیا اور مترجم سے کہا کہ اس کو کاٹ دیا جائے۔ چنانچہ وہ لفظ خط سے کاٹ دیاگیا اور اسکندر کو لکھا کہ میں نے خط سے اس حصہ کو حذف کردیا جو میرا کلام نہیں تھا۔چنانچہ جب قاصد اسکندر کے پاس یہ خط لے کر آیا تو اس نے پہلے والے قاصد کو طلب کرکے اس سے دریافت کیا کہ تو نے کس وجہ سے یہ کلمہ اپنی طرف سے لکھا جو دو بادشاہوں کے درمیان فساد کا سبب بن سکتا تھا؟ تو اس قاصد نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ سعی تو نے کی وہ اپنے مفاد کے لئے کی‘ ہماری خیر خواہی کے لئے نہیں۔ چنانچہ جب تیری امید پوری نہ ہوسکی تو تو نے معزز اور بلند مرتبہ نفوس کے درمیان اس کو بدلے کے طور پر استعمال کیا۔ اس کے بعد اسکندر نے اس کی زبان گدی سے کٹوا دی۔ (حیات الحیوان‘ جلد دوم)

متعلقہ خبریں