Daily Mashriq


امریکہ دوست ہو تو دشمنوں کی ضرورت نہیں

امریکہ دوست ہو تو دشمنوں کی ضرورت نہیں

امریکی صدر نے سالانہ 1.3 ارب کی پاکستانی امداد روکنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ کے لئے کچھ نہیں کرتا۔ اس نے اسامہ بن لادن کو اپنے ملک میں رکھا ہوا تھا اور اس بارے سب جانتے تھے۔ ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جن کا ہم تعاقب کر رہے ہیں۔ وہ ہمارے رہنمائوں کو بے وقوف بناتے رہے۔ افغانستان میں پاکستان کا تعاون نہ ہونے کے برابر ہے۔ ادھر امریکی دفتر خارجہ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر پاکستان کی سیکورٹی امداد روک دی ہے تاکہ یہ باور کروایا جاسکے کہ اگر وہ سنجیدہ اتحادی نہیں بنتے تو معاملات پہلے کی طرح نہیں رہیں گے۔ پاکستان پر صدر ٹرمپ کی تنقید اور امریکی وزارت خارجہ کا تائیدی موقف نئی بات نہیں سال بھر قبل امریکی صدر یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ نے 15 برسوں کے دوران پاکستان کو 33 ارب ڈالر بطور امداد دے کر بے وقوفی کی کیونکہ پاکستان نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا۔پاکستان اور چین کے درمیان مستحکم ہوتے سیاسی ‘ سفارتی اور معاشی تعلقات پر امریکہ کی ناراضگی کسی سے ڈھکی چھپی ہرگز نہیں دبے دبے لفظوں میں امریکی حکام اس حوالے سے کچھ نہ کچھ کہتے چلے آرہے ہیں۔ البتہ جناب ٹرمپ اپنی صدارت کے آغاز سے ہی پاکستان کے حوالے سے ایک نا مناسب سوچ کو زبان دیتے ہیں۔ ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد پر استوار ہوتے اور آگے بڑھتے ہیں۔ جھوٹ‘ وعدہ خلافی ‘ احسان فراموشی اور نجانے کیاکیا طعنے دیتے امریکی صدر نے کبھی جنوبی ایشیاء کے حوالے سے اپنے ملک کی سفارتی خارجی اور معاشی پالیسیوں کی تاریخ پر بھی غور کرنے کی زحمت کی ہے؟ ہماری دانست میں امریکیوں کو آئینہ دکھانے کے ساتھ ساتھ خود ہمیں بھی اس امر کا جائزہ لینا ہوگا کہ آخر ہمارے پالیسی سازوں نے کیا سوچ کر امریکی اتحادی کے طور پر گرم جوشی کو اپنایا۔ پچھلے اکہتر سال کے دو طرفہ تعلقات میں کتنے ہی مواقع ایسے آئے جب صاف دکھائی دیا کہ امریکہ جنوبی ایشیاء کے اپنے حلیف ملک پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے اس کے دشمنوں کے ناز اٹھا رہا تھا۔ پاکستان میں چار فوجی آمریتیں کیسے قائم ہوئیں اور ان کا دورانیہ طویل تر کیسے ہوا‘ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے جواب میں دی گئی دھمکی کا عملی نتیجہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی صورت میں برآمد ہوا۔9/11 کے بعد کی غیر منتخب حکومت نے پاکستانی مفادات کو نظر انداز کرکے امریکیوں کی کامل ہمنوائی کی۔ سوال یہ ہے کہ خطے میں افغان جہادی تنظیموں کی داغ بیل کس نے ڈالی۔ امریکی طالبان سازی کے مخالف تھے تو پٹرولیم و دیگر معدنیات کے حوالے سے ان کے ادارے افغان طالبان سے مذاکرات کیوں کرتے رہے۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ کی امریکہ نوازی کو اس ملک میں ملکی مفادات کے منافی قرار دینے والے ہمیشہ یہ کہتے رہے کہ ملک کو امریکی مفادات کے تحفظ کا بیس کیمپ بنانے کے نتائج ہمارے گلے پڑیں گے۔ المیہ یہ ہے کہ پچھلے چالیس سالوں کے دوران کی سول و ملٹری حکومتوں نے اپنے طویل المدتی مفادات پر امریکہ کی خوشنودی کو ترجیح دی۔یہاں یہ عرض کیا جانا بھی ضروری ہے کہ امریکہ کے اتحادی کے طور پر پاکستان کو پچھلے 40برسوں میں جو معاشی اور جانی نقصان برداشت کرنا پڑا اس سے کیسے صرف نظر کرلیا جائے۔ اپنی دوغلی پالیسیوں کی پردہ پوشی کے لئے الزام تراشی ہوسکتا ہے کہ امریکیوں کو وقتی فائدہ پہنچا دے مگر ان حالات میں پاکستانی قیادت کو بھی امریکہ سے تعلقات اور امریکی کیمپ میں اپنے پرجوش کردار پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے بعض الزامات کا دوٹوک جواب دیا جانا چاہئے۔ حوصلہ مندی کے ساتھ اقوام عالم کو امریکی عزائم اور اس کا اصل چہرہ دکھانے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا حقائق اور سچائی سے آگاہ ہوسکے۔مکرر عرض ہے امریکیوں کا ہمیشہ یہ وطیرہ رہا ہے کہ بوقت ضرورت وہ پاکستان پر واری صدقے ہوئے اور اسے امن عالم کا سب سے بڑا محب قرار دیا جونہی ان کی ترجیحات تبدیل ہوئیں اپنے چہرے کی کالک بھی پاکستان پر ملنے میں اوتاولے ہوگئے۔ افغانستان کے اندر امریکی خود طالبان سے مذاکرات کو ناگزیر سمجھتے ہوئے اس راہ پر چل رہے ہیں دوسری طرف اس کی چھتری کے نیچے داعش منظم ہو رہی ہے۔ دوسروں پر الزام تراشی‘ جھوٹ اور احسان فراموشی کی باتیں کرتے وقت امریکی اگر اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں تو بہت مناسب ہوگا۔ پاک امریکہ تعلقات کی گرم جوشی کو برقرار رکھنے کے لئے ہلکان ہوتے ۔ ہمارے پالیسی سازوں کو بھی اب یہ سوچنا چاہئے کہ جس سپر طاقت کی خوشنودی کے لئے 300کھرب ڈالر کا معاشی اور ایک لاکھ جانوں کے کھیت ہو جانے کانقصان اٹھایا اس نے اور نہیں تو پچھلے 40 برسوں کے دوران پاکستان کے دشمنوں کی ہمنوائی میں کونسی کسر چھوڑی۔ ایبٹ آباد کے امریکی آپریشن کے خلاف بننے والے کمیشن کی رپورٹ کو اندھے کنویں میں ڈالنے کی بجائے اگر اسے منظر عام پر لایا جاتا تو زیادہ مناسب تھا۔ پاکستان کو یہ سوال بھی دنیا نہیں تو کم از کم امریکیوں کے سامنے رکھنا چاہئے تھا کہ پاکستان مخالف عسکری گروپوں کو افغانستان کے راستے اسلحہ اور دیگر وسائل کون فراہم کرتا رہا۔ ان گروپوں کے خلاف آپریشن کے آغاز کے بعد انہیں افغانستان میں کس کے ایما پر محفوظ ٹھکانے فراہم کئے گئے۔ امریکی شکوئوں اور الزامات کا جواب بہر طور لازم ہے اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی پالیسیوں پر بھی از سر نو غور کرنا ہوگا۔ کیا ستم ہے کہ چار دہائیوں پر پھیلی پر جوش امریکی ہمنوائی نے یہ دن دکھانے تھے کہ اپنی دوغلی پالیسیوں اور پاکستان دشمن قوتوں سے تعاون کی پردہ پویشی بھونڈی الزام تراشی سے کی جا رہی ہے۔ مگر یہاں اس تلخ حقیقت کو بھی نظر انداز کرنا ممکن نہیں کہ جب تک خود ہماری قیادت خود انحصاری پر عمل اور غیر جانبدارانہ پالیسی اپنانے میں پہل نہیں کرتی اصلاح احوال ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں